ویزہ فری کرتارپور راہداری پر پیش رفت ہو رہی ہے، پاکستان | حالات حاضرہ | DW | 14.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ویزہ فری کرتارپور راہداری پر پیش رفت ہو رہی ہے، پاکستان

اتوار کے روز واہگہ بارڈر پر ملاقات میں پاک بھارت حکام نے سکھ یاتریوں کے لیے کرتارپور راہداری پر جاری کام کا جائزہ لیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے صحافیوں کو بتایا، ''میرے خیال میں ہم نے اسی فیصد سے زائد معاملات پر اتفاق کر لیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرتاپور راہداری کو 'امن کی راہداری‘  کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکام اختلافی امور طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم انہوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔

اس سے پہلے دونوں طرف کے حکام نے مارچ میں ملاقات کی تھی۔ مذاکرات کا دوسرا دور اپریل میں ہونا تھا، جسے بھارت نے کشیدہ حالات اور الیکشن کی وجہ سے ملتوی کر دیا تھا۔

بھارت اور دنیا بھر سے ہر سال ہزارہا سکھ زائرین پاکستان آ کر اپنے مقدس مذہبی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔گرودوارہ کرتارپور صاحب سکھوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ اس جگہ سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری سترہ  برس گزارے اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔     

وزیر اعظم عمران خان نے پچھلے سال نومبر میں کرتارپور راہداری منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ مسلم لیگ نواز کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے کے حق میں تھی لیکن وزیراعظم نواز شریف کے دور میں عسکری قیادت کی مخالفت کی وجہ سے اس منصوبے پر پیش رفت نہ ہو سکی۔

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی پوری کوشش ہے کہ یہ منصوبہ اس سال نومبر میں بابا گرو نانک کے 550ویں یوم پیدائش تک مکمل کر لیا جائے۔ 

DW.COM