’وہ لمحہ جب مہاجرين سے بھری کشتی سمندر ميں ڈوبی‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 26.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’وہ لمحہ جب مہاجرين سے بھری کشتی سمندر ميں ڈوبی‘

اطالوی بحريہ کی جانب سے چند ڈرامائی تصاوير جاری کی گئی ہيں، جن ميں گنجائش سے کہيں زيادہ بھری تارکين وطن کی ايک کشتی کو گہرے سمندر ميں الٹتے اور پھر ڈوبتے ہوئے ديکھا جا سکتا ہے۔

ماہی گيری کے ليے استعمال ميں آنے والی ايک بڑی کشتی پر سوار سينکڑوں تارکين وطن جيسے ہی اطالوی بحريہ کی ايک ريسکيو شپ ديکھتے ہيں، وہ سب کے سب ايک سمت ميں دوڑ لگا ديتے ہيں۔ پورا کا پورا وزن ايک طرف ہونے کے سبب کشتی اپنا توازن برقرار نہيں رکھ پاتی اور اقريقی ملک ليبيا کی سرزمين سے قريب بحيرہ روم کے خطرناک پانيوں ميں الٹ جاتی ہے۔ پناہ گزينوں کی طرف سے کشتی ميں ايک طرف جمع ہو جانے کی غلطی بحيرہ روم ميں ان گنت انسانی الميوں کا سبب بن چکی ہے۔

کشتی الٹنے کے بعد کے مناظر ميں گھبرائے ہوئے پناہ گزينوں کو کشتی کے کنارے پکڑے اپنی جانيں بچاتے ديکھا جا سکتا ہے۔ کشتی پر اکثريتی طور پر مرد سوار تھے، جن ميں سے کچھ نے لائف جيکٹس پہن رکھی تھيں۔ چند لمحات بعد لی گئی تصاوير ميں لوگوں کو کشتی سے دور تيرتے ديکھا جا سکتا ہے کيونکہ اب وہ کشتی ڈوبنا شروع ہو گئی تھی۔ چار افراد اب بھی کشتی کے نچلے حصے تلے دبے ہوئے تھے۔

آپريشن ميں مجموعی طور پر 562 افراد کو بچا ليا گيا

آپريشن ميں مجموعی طور پر 562 افراد کو بچا ليا گيا

اطالوی بحريہ کے مطابق اس کے ايک ريسکيو جہاز ’بيٹيکا‘ نے بدھ کے روز ليبيا کے ساحلی علاقے سے متصل سمندر ميں ايک کشتی کو عجيب و غريب حالت ميں ديکھا، جس پر گنجائش سے کہيں زيادہ تارکين وطن سوار تھے۔ کچھ دير بعد يہ کشتی الٹ گئی۔ بيٹيکا کے عملے نے ايک اور ريسکيو جہاز اور ايک ہيلی کاپٹر کی مدد سے سينکڑوں مہاجرين کو بچايا۔ بحريہ کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمياشی شب دير تک جاری رہنے والے اس آپريشن ميں مجموعی طور پر 562 افراد کو بچا ليا گيا جبکہ بقيہ مہاجرين کا کچھ پتہ نہيں۔ اطلاعات ہيں کہ اس واقعے ميں کم از کم سات افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہيں۔

بين الاقوامی ادارہ برائے ہجرت (IOM) کے مطابق اس سال اب تک 1,370 مہاجرين يورپ پہنچنے کی کوششوں کے دوران سمندر ميں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہيں۔ بدھ کی رات پيش آنے والے اس واقعے کے بعد سال رواں کے دوران اب تک سمندروں ميں بچائے جانے والے مہاجرين کی تعداد چاليس ہزار کے لگ بھگ ہو گئی ہے۔