وہ بچےجو جنگ کے سائے میں پل کر بھی ہوشمند ہیں | معاشرہ | DW | 22.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

وہ بچےجو جنگ کے سائے میں پل کر بھی ہوشمند ہیں

جنگ زدہ علاقوں میں رہنے والے لاکھوں بچے ایسے صدموں سے گزرتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے ان کی زندگیوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق انہی میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جو ان حالات میں رہنے کے باوجود جینا چاہتے ہیں۔

Syrien Krieg - Mädchen in Aleppo

جنگ زدہ ماحول میں رہنے والے بچوں کے دلوں میں خوف کے ساتھ ساتھ زندہ رہنے کی خواہش بھی ہے

گزشتہ ہفتے پانچ سالہ عُمران دقنیش کی تصویر نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی تھی۔ اس تصویر میں عُمران کو حلب شہر میں ملبے سے نکالنے کے بعد دکھایا گیا ہے۔ تاہم جنگ زدہ علاقوں کے بچوں کی ایسی قسمت ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ قریب دو سو پچاس ملین نوجوان افراد جنگ سے متاثرہ علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں جبکہ مہاجرین کی نصف تعداد بچوں پر مشتمل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو جنگ کے خوف سے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ سے نمٹنے سے مدد دینے میں گھر کے بڑے افراد کا کردار بہت اہم ہے۔ بچوں پر عالمی آفات کے اثرات کے حوالے سے ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ریسرچ پروگرام کی سربراہ ٹریسا بیٹن کورٹ نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں بتایا، ’’بچے جنگ کو اسی طرح دیکھتے ہیں جیسا ان کے والدین نے دیکھا ہوتا ہے۔‘‘ بیٹن کورٹ کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے بچے اپنے والدین کے چہرے پر خوف اور پریشانی کے سائے گہرے ہوتے دیکھتے ہیں ویسے ویسے یہ دہشت ان کے دل میں بھی بیٹھتی چلی جاتی ہے۔

Syrien Aleppo verletzter Junge Omran Daqneesh und Schwester

عٰمران دقنیش جیسے حالات کا سامنا کرنا جنگ زدہ علاقوں میں رہنے والے بچوں کے لیے انوکھی بات نہیں

تاہم بیٹن کورٹ کے مطابق اگر والدین بچوں کو سکون فراہم کریں تو وہ جنگی زون میں رہنے سمیت بہت سے دوسرے خوفزدہ کر دینے والے واقعات سے نمٹ سکتے ہیں۔ اسی طرح جنگ زدہ علاقوں میں رہنے والے بچے بھی جسمانی مشکلات برداشت کرنے میں اپنے والدین کی مدد کر سکتے ہیں۔ ایسی ہی ایک مثال سارایوو کی ہے جہاں ہزاروں بچوں نے نوے کی دہائی میں بوسنیائی سربوں کی جانب سے کیا جانے والا محاصرہ چار سال تک برداشت کیا۔ سارایوو یونیورسٹی میں انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات اور بین الاقوامی ’انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ آف کرائمز اگینسٹ ہیومینیٹی ‘ میں بطور ایسوسی ایٹ کام کرنے والی زلہا مسٹالک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’سارایوو کے بہت سے نوجوانوں کو اپنی بقا کے لیے جنگ میں فعال کردار ادا کرنا پڑا تھا۔‘‘ مسٹالک نے مزید کہا،’’ بچوں نے اپنا کردار بڑی سنجیدگی سے نبھایا۔ وہ پانی اور روٹی کے حصول کے لیے قطاروں میں کھڑے ہوتے، آگ جلانے کے لیے لکڑیاں جمع کرتے اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں، ماؤں اور رشتہ داروں کا خیال رکھتے۔‘‘

Bosnien Sinti und Roma Kinder in Sarajevo

سارایوو کے محاصرے کے دوران گیارہ ہزار پانچ سو افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سولہ سو بچے بھی شامل تھے

یاد رہے کہ سارایوو کے محاصرے کے دوران گیارہ ہزار پانچ سو افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سولہ سو بچے بھی شامل تھے۔ بچوں کو عموماﹰ جان بوجھ کر نشانہ بنایا جاتا تھا۔ ان میں وہ بچے بھی شامل تھے جنہوں نے ہسپتالوں کے زچہ بچہ وارڈ ز یا اپنےفٹ بال کھیلنے کے میدان میں پناہ لی ہوتی تھی۔ اس کے باوجود سارایوو میں زندہ بچ جانے والوں نے اپنے بچپن کو بھلا کر زندہ رہنے کا راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔ بچپن کے خوف اور صدموں کے طویل المدتی اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے بیٹن کورٹ نے کہا کہ کچھ بچوں میں بعد میں غصہ، جارحیت یا طرز عمل کے مسائل ظاہر ہو سکتے ہیں۔ تاہم ایسا بچوں کی اکثریت کے ساتھ نہیں ہوتا۔

DW.COM