وزیراعظم عمران خان کے سفارتی آداب زیر بحث | حالات حاضرہ | DW | 14.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

وزیراعظم عمران خان کے سفارتی آداب زیر بحث

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان کے اعزاز میں تقریب کے دوران وزیراعظم عمران خان دیگر رہنماؤں کی آمد سے پہلے ہی اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔ بعض سوشل میڈیا صارفین کے خیال میں عمران خان اکثر سفارتی آداب نظر انداز کر جاتے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نے جب سے ملک کی وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا ہے بین الاقوامی دوروں کے دوران  ان کے انوکھے انداز سوشل میڈیا پر موضوع بحث رہتے ہیں۔ اس کی ایک تازہ ترین مثال کرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی کوآپریشن تنظیم کے سربراہان کے لیے اعزازی تقریب میں دیکھی گئی۔

مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے شائع کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سربراہان مملکت کی آمد کے موقع پر تمام رہنما ایک  استقبالیہ  کے سلسلے میں احتراماﹰ کھڑے تھے لیکن وزیراعظم پاکستان عمران خان ہال میں داخل ہوتے ہی سیدھے اپنی نشست پر تشریف فرما ہو گئے۔

سیاسی ناقدین سوشل میڈیا پر  اس تمام صورتحال کو عمران خان کی سفارتی آداب کے حوالے سے نکتہ چینی کر رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی احسن  اقبال نے ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ، ''تربیت ۔ وزیراعظم کیسے بننا ہے؟ نوکری کے دوران تربیت  کا منصوبہ جاری ہے۔‘‘

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر زیادہ تر صارفین کا خیال ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو بین الاقوامی دوروں اور اہم ملاقاتوں سے قبل سفارتی آداب پر غور کر لینا چاہیے۔ پاکستان سے ایک سوشل میڈیا صارف محدی حسین توری کی ایک ٹوئیٹ کے مطابق، ''وزیراعظم پاکستان ایک کرکٹ کھلاڑی ہیں، ان کو سربراہان حکومت کے اخلاقی اقدار نہیں معلوم،  ایسی ملاقاتوں کے دوران کسی کو انہیں بتانا چاہیے۔ بلاشبہ یہ سب کے لیے شرمندگی ہے۔‘‘

پاکستان کے ہمسائے ملک بھارت کے سوشل میڈیا صارفین بھی عمران خان کے انوکھے انداز پر تبصرے کر رہے ہیں۔ بھارتی صحافی رمیش راماچندرن نے وزیراعظم عمران خان کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز سے استقبالی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے طنزیہ لکھا کہ، ''سب کو ان سے آداب سیکھنے چاہییں۔‘‘

واضح رہے گزشتہ ماہ سعودی شہر مکہ میں وزیراعظم عمران خان سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز سے اپنی بات مکمل کرنے کے بعد فوراﹰ پلٹ کر چل دیے تھے جبکہ شاہ عبداللہ کا ترجمان ابھی ان کی گفتگو کا ترجمہ کر رہا تھا۔