ورچوئل ورلڈ ہیلتھ سمٹ کا آغاز | معاشرہ | DW | 26.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

ورچوئل ورلڈ ہیلتھ سمٹ کا آغاز

جرمن دارالحکومت میں آن لائن عالمی اجلاس برائے صحت کا باقاعدہ آغاز پچیس اکتوبر سے ہو گیا ہے۔ اس ہیلتھ کانفرنس کا موضوع کورونا نہیں بلکہ دوسری متعدی امراض ہیں۔

تین روزہ ہیلتھ سمٹ ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب جرمنی سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا کی دوسری لہر زور پکڑ چکی ہے۔ کل منگل ستائیس اکتوبر تک جاری رہنے والی اس بین الاقوامی کانفرنس میں دنیا کے کونے کونے سے افراد شریک ہو رہے ہیں لیکن ان کی شرکت ورچوئل ہو گی۔ اس کانفرنس کا مرکزی موضوع دنیا بھر میں پھیلی کورونا وبا نہیں بلکہ اس میں شریک افراد وباؤں کی افزائش اور ان کے چیلنجز کا سامنا کرنے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ یہ بھی واضح کیا جائے گا کہ انسانی برادری ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے کتنی تیار ہے؟

جرمن صدر کا خطاب

اس عالمی کانفرنس برائے صحت کا افتتاح جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے کیا۔ اپنی تقریر میں جرمن صدر نے متعدی امراض کے پھیلاؤ میں بین الاقوامی برادری کے باہمی تعاون کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے اقوام میں پھیلتے ’ویکسین نیشنلزم‘ کے عجیب و غریب اور حیران کن تصور کی پُرزور الفاظ میں مذمت کی۔ شٹائن مائر کا کہنا تھا کہ اس مشکل وقت میں اقوام تعاون کے جذبے کو فوقیت دیں تاکہ کورونا وبا کا بھرپور مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مصیبت میں خودغرضی کے بجائے مِل جُل کر آگے بڑھنے میں فائدہ ہے کیونکہ اس وبا میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ جرمن صدر کی مطابق اگر ہر ایک شخص دوسرے کے خلاف ہو گیا تو یہ زمین رہنے کا قابل نہیں رہے گی۔

افتتاح اور احتجاج

افتتاحی تقریب سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش اور یورپی کمیشن کی صدر اُروزلا فان ڈیئر لائن نے بھی خطاب کیا۔ افتتاحی اجلاس میں کانفرنس کے مرکزی موضوع اور کلیدی نکات کی بھی وضاحت کی گئی۔

دوسری جانب جرمن دارالحکومت برلن میں کورونا کے حوالے سے پھیلتے مختلف سازشی نظریات کو رد کرنے کے حوالے سے چند ہزار افراد احتجاج کے لیے بھی جمع تھے۔

ورلڈ ہیلتھ کانفرنس کے شرکاء

ورلڈ ہیلتھ سمٹ میں سائنس سے منسلک نمایاں ریسرچرز، پروفیسرز اور سائنسدانوں کی ڈیجیٹل شرکت کو غیر معمولی قرار دیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ انٹرنیشنل سیاسی منظر نامے پر متحرک سیاستدان، کاروباری حضرات اور سول سوسائٹی کے سرکردہ نمائندے بھی آن لائن شریک ہو کر مختلف سیشنز میں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ اس بین الاقوامی میٹنگ میں ہونے والے مختلف سیشنوں میں پچاس کلیدی مقالے پڑھے جائیں گے۔

وباؤں سے نمٹنے کے چیلنجز

عالمی ادارہٴ صحت کی چیف سائنٹسٹ سُومیا سوامیناتھن کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے بحرانی دور میں اقوام کو مختلف مہلک متعدی وباؤں مثلاً ایڈز (ایچ آئی وی)، تپ دق(ٹٰی بی) اور ملیریا وغیرہ کو کسی بھی طور پر نظرانداز کرنا درست نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا جیسی اچانک پیدا ہونے والی وبا کسی بھی ملک کے نظامِ صحت کو مفلوج تو کرتی ہے لیکن اس کا مقابلہ کرنا اپنی جگہ اہم ہوتا ہے لیکن نظامِ صحت کے ورکرز کو دوسرے ہیلتھ امور سے نکالنا کسی بھی طور پر صحیح نہیں ہوتا۔ خاتون سائنسدان کا کہنا ہے کہ لازمی ہیلتھ سروسز کے امور کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ سوامیناتھن نے حکومتوں کو مشورہ دیا کہ پھیلی ہوئی وبا کے دوران متعدی امراض کی روک تھام کی کوششیں جاری رکھنے ہی میں عام لوگوں کا بھلا ہے۔

ع ح، ا ب ا (روئٹرز، ڈی پی اے)