1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
WM Katar 2022 I USA v Iran
تصویر: UGC

ورلڈ کپ میں ’دشمن‘ امریکہ سے شکست پر ایرانی کردستان میں جشن

30 نومبر 2022

امریکہ سے منگل کے روز شکست کے بعد ایران فیفا ورلڈ کپ سے باہر جبکہ اس کا کٹر حریف اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا۔ امریکہ سے ایران کی ہار کے بعد ایرانی کردستان صوبے میں آتش بازی کی گئی اور جشن منایا گیا۔

https://p.dw.com/p/4KGoV

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز کے مطابق منگل کے روز قطر میں فیفا ورلڈ کپ کے ایک میچ میں امریکہ کے ہاتھوں ایران  کی شکست کے بعد ایرانی صوبے کردستان میں جشن منایا گیا۔ سنندج شہر کے ایک محلے میں خوشی اور نعروں اور ہارنوں کی آوزیں سنائی دیں۔ لوگوں نے گھروں سے باہر نکل کر آتش بازیاں بھی کیں۔

خیال رہے کہ 22 سالہ خاتون مہسا امینی کرد تھیں، جن کی اخلاقی پولیس کی حراست میں گزشتہ ستمبر میں موت ہوگئی تھی۔ اس کے بعد سے ہی اسلامی حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور اس کا سب زیادہ زور ایرانی کردستان صوبے میں ہے۔

ایران: مظاہروں کو کچلنے کے لیے کرد شہر پر فوجی کارروائی

ایرانی حکومت نے، ان مظاہروں، جسے وہ 'فسادات' کہتی ہے، کو کچلنے کے لیے سکیورٹی فورسز تعینات کر رکھے ہیں جبکہ مہسا امینی کے آبائی شہر سقزسمیت کردستان کے دیگر شہروں میں بھی مبینہ سخت اسلامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔

قطر میں جاری فٹبال ورلڈ کپ کی اسٹریمنگ سروس سعودی عرب میں بلاک کر دی گئی

منگل کے روز کھیلے گئے فٹ بال ورلڈ کپ  کے ایک میچ میں امریکہ نے ایران کو صفر کے مقابلے ایک گول سے ہرا دیا۔ امریکہ کی طرف سے کرسچین پولیسک نے پہلے ہاف میں گول کیا، جو ایران آخر تک برابر نہ کر سکا۔ اس فتح کے ساتھ امریکہ اگلے راؤنڈ میں پہنچ گیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان چار عشروں سے سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔

ایرانی کردستان کے مختلف شہروں میں جشن

لندن سے کام کرنے والی 'ایران وائر' نامی ویب سائٹ نے ٹوئٹر پر کہا کہ 'ایران کی فٹ بال ٹیم کے خلاف امریکہ کے پہلے گول پر شہر سقز کے رہائشیوں نے جشن منایا اور آتش بازی کی۔‘

انہوں نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں آتش بازی دیکھی جا سکتی ہے اور پس منظر میں خوشی منانے کی آوازیں بھی آ رہی ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی ایجنسی اس مواد کی فوری طور پر تصدیق نہیں کر سکی۔

آیت اللہ خامنہ ای کی بھانجی کا دنیا سے تہران حکومت سے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ

کرد کارکن کاوہ قریشی کی ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب امریکہ نے اپنا واحد گول کیا تو سنندج شہر کے ایک محلے میں خوشی سے چیخوں اور ہارن کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

آن لائن شیئر کی جانے والی ویڈیوز کے مطابق ایران کی شکست کے بعد کردستان کے ایک اور شہر مہاباد میں بھی آتش بازی کی گئی۔

فٹبال ورلڈ کپ کا میزبان قطر، تاریخ اور سیاست کے آئینے میں

ناروے میں قائم ہیومن رائٹس گروپ ہینگو کا کہنا ہے کہ مہاباد میں موٹرسائیکل سواروں نے اپنے ہارن بجا کر امریکی فتح کا جشن منایا۔

اس نے اپنے بیان میں کہا کہ صوبہ کردستان کے ایک اور شہر ماریوان میں بھی آتش بازی سے آسمان روشن ہو گیا جہاں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف زبردست کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبہ کرمان شاہ کے پاوہ اور سرپل زہاب شہروں میں بھی آتش بازی اور جشن منانے کی آوازیں سنی گئیں۔

منگل کے روز کھیلے گئے فٹ بال ورلڈ کپ  کے میچ میں امریکہ نے ایران کو صفر کے مقابلے ایک گول سے ہرا دیا
​​منگل کے روز کھیلے گئے فٹ بال ورلڈ کپ  کے میچ میں امریکہ نے ایران کو صفر کے مقابلے ایک گول سے ہرا دیاتصویر: Hassan Ammar/AP Photo/'picture alliance

ایرانی فٹ بال ٹیم دہرے دباو میں

ایران میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی وجہ سے ایرانی ٹیم کو حکومت اور عوام کے دہرے دباؤ کا سامنا تھا، جبکہ کچھ ایرانیوں نے مخالف ٹیموں کی حمایت کی تھی۔

ایرانی اسپورٹس صحافی سعید ظفرانی نے ٹویٹ کیا "کیا کبھی کسی نے سوچا ہو گا کہ میں امریکی گول کی خوشی میں تین میٹر کی چھلانگ لگا کر جشن مناؤں گا۔"

پوڈکاسٹر الہٰی خسروی نے بھی ٹویٹ کیا، "جب آپ درمیان میں کھیلتے ہیں تو آپ کو یہی ملتا ہے۔ وہ عوام، مخالف، اور یہاں تک کہ 'حکومت‘ سے بھی ہار گئے۔"

ایران سے تعلق رکھنے والے صحافی عامر ابتہاج نے ٹویٹ کیا، "وہ میدان کے اندر اور باہر، دونوں جگہ ہار گئے۔"

سابق صحافی حامد جعفری نے ٹویٹ کیا، "اور اسلامی جمہوریہ کی فٹ بال ٹیم کا سرکس ختم ہو گیا۔" انہوں نے ان ویڈیوز کا حوالہ دیا جن میں سڑکوں پر تعینات سکیورٹی فورسز ویلز کے خلاف ایران کی فتح کا جشن منا رہی تھیں۔

جعفری نے مزید لکھا، "اب ظلم و ستم کی خبریں سکیورٹی فورسز کی پسندیدہ ٹیم کی جیت یا ہار کے پیچھے نہیں چھپ سکیں گی۔"

دریں اثنا اوسلو سے تعلق رکھنے والے گروپ ایران ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ایرانی سکیورٹی فورسز  نے کم از کم 448 افراد کو ہلاک کردیا ہے، ان میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔

ج ا/ ص ز (اے ایف پی)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ملتے جلتے موضوعات سیکشن پر جائیں

ملتے جلتے موضوعات

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan Peschawar | Selbstmordanschlag in Moschee

پولیس مسجد میں دھماکا، پاکستان کی طالبان رہنما سے اپیل

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں