ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ، پاکستان بھارت سے آگے نکل گیا | کھیل | DW | 30.11.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ، پاکستان بھارت سے آگے نکل گیا

چٹاگانگ ٹیسٹ میں کامیابی کے نتیجے میں پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائںٹس ٹیبل پر بھارت کو پیچھے دھکیلتے ہوئے دوسرے نمبر پر آ گئی ہے۔ اس وقت سری لنکا کی ٹیم پہلی پوزیشن پر براجمان ہے۔

بنگلہ دیشی بندرگاہی شہر چٹاگانگ کے ظہور احمد چوہدری اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے میزبان ٹیم کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر ورلڈ ٹیسٹ چیمیئن شپ (سن دو ہزار اکیس اور تئیس)  کے پوائنٹس ٹیبل پر دوسری پوزیشن حاصل کر لی ہے۔

پاکستان نے بنگلہ دیش کو ہرا دیا جبکہ بھارت اور نیوزی لینڈ کے مابین کانپور میں کھیلا گیا حالیہ ٹیسٹ میچ بغیر کسی نتیجے پر ختم ہوا تھا، جس کی وجہ سے بھارتی ٹیم ورلڈ ٹیسٹ چیمیئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل سے نیچے سرک گئی۔ اس وقت پہلی پوزیشن سری لنکا کے پاس ہے۔

چٹاگانگ ٹیسٹ کے پانچویں دن پاکستانی بلے بازوں کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ تاہم اپنی پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے عابد علی دوسری اننگز میں یہ کارنامہ سر انجام نہ دے سکے اور اکانوے رنز پر آؤٹ ہو گئے۔ اس عمدہ پرفارمنس پر وہ اس میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے شفیق عبداللہ البتہ دوسری اننگز میں بھی نصف سنچری بنانے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے تہتر رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔

دونوں اوپنرز نے پہلی وکٹ کی شراکت میں ایک سو اکاون رنز بنائے، جس کی وجہ سے بظاہر ایک مشکل وکٹ پر پاکستان نے یہ میچ انتہائی آسانی سے جیت لیا۔ ان دونوں اوپنرز کے آؤٹ ہونے کے بعد اظہر علی اور کپتان بابر اعظم نے دو سو دو رنز کا ہدف عبور کر لیا۔

Bildkombo Cricket Bangladesch Liton Das (L) und Mushfiqur Rahim

مشفیق الرحیم اور لٹن داس (بائیں) نے پہلی اننگز میں عمدہ بلے بازی کی تھی

پاکستان ٹیسٹ کپتان بابر اعظم میچ کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ جس انداز میں عبداللہ شفیق نے پرفارم کیا، اس سے وہ بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میچ میں عابد علی کی کارکردگی لاجواب رہی۔

بنگلہ دیشی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان مومن الحق نے کہا کہ پاکستان ٹیم کا ٹاپ آرڈر اچھا کھیلا اور یہی فرق تھا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اننگز میں بنگلہ دیشی ٹاپ آرڈر ناکام ہوا، جس کی وجہ سے ان کی ٹیم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم انہوں نے مڈل آرڈر بلے باز لٹن داس اور مشفیق الرحیم کے کھیل کی تعریف کی۔

 لٹن ڈاس نے پہلی اننگز میں سنچری بنائی تھی، جس کی وجہ سے بنگلہ دیشی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں تین سو تیس رنز بنانے میں کامیاب ہوئی تھی۔ دوسری اننگز میں بنگلہ دیش کا مڈل آرڈر بھی ناکام ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے پوری ٹیم ایک سو ستاون رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

پاکستانی ٹیم نے اپنی پہلی اننگز میں دو سو چھیاسی رنز بنائے تھے جبکہ دوسری اننگز میں دو کھلاڑیوں کے نقصان پر دو سو تین۔ پہلی اننگز میں حسن علی نے پانچ وکٹیں حاصل کی جبکہ دوسری اننگز میں شاہین شاہ آفریدی یہ اعزاز اپنے نام کرنے کے قابل ہوئے۔ دونوں ٹیموں کے مابین اس سیریز کا دوسرا اور آخری ٹیسٹ میچ  آئندہ ہفتے ڈھاکا میں شروع ہو گا۔

DW.COM