ورلڈ بینک پاکستان کو 825 ملین ڈالر قرض فراہم کرے گا | حالات حاضرہ | DW | 20.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ورلڈ بینک پاکستان کو 825 ملین ڈالر قرض فراہم کرے گا

ورلڈ بینک نے پاکستان کو آٹھ سو پچیس ملین ڈالر قرض فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ قرض پاکستان میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور پبلک فنانس سیکٹر میں بہتری لانےکے لیے دیا گیا ہے۔

ورلڈ بینک کی طرف سے بدھ کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو فراہم کیے جانے والے قرض میں سے چار سو پچیس ملین ڈالر اس وجہ سے دیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے نیشنل گریڈ اسٹیشن کو جدید بنا سکے۔ پاکستان نے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کسی حد تک کامیابی بھی حاصل کی ہے لیکن بجلی کی ترسیل کے ناقص نظام کی وجہ سے بجلی کی تقسیم کا مسئلہ ابھی تک برقرار ہے۔

کوئلے سے بجلی: پاکستان میں چینی سرمایہ کاری ماحول دوست نہیں

پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حال ہی میں ملکی نظام  میں دس ہزار میگاواٹ بجلی شامل کرنے کا اعلان کیا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ آئندہ دو برسوں کے دوران اضافی دس ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار کو ممکن بنایا جائے گا۔

ایران پاکستان پائپ لائن اب بھی تکمیل کے قریب نہیں

 پاکستان میں ورلڈ بینک کے کنٹری مینیجر ایلانگو پیچموتو کا آج کہنا تھا، ’’بجلی کی فراہمی میں بہتری سے اس کی طلب کو پورا کرنے اور  لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔‘‘

واپڈا نے چینی کمپنی کے ساتھ معاہدے کیوں ختم کیے؟

ورلڈ بینک کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق باقی چار سو ملین ڈالر کے قرض سے پبلک فنانس سیکٹر میں بہتری لائی جائے، جس سے براہ راست صحت اور تعلیم کے شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔ سن دو ہزار سترہ میں پاکستانی معیشت پانچ عشاریہ تین فیصد بڑھی ہے جبکہ حکومت نے چھ فیصد کا ہدف رکھا تھا۔

دریں اثناء پاکستان کو رواں برس کے مالی سال کے پہلے چار ماہ میں پندرہ بلین ڈالر خسارے ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کو ادائیگیوں میں مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ دوسری طرف حالیہ ہفتوں کے دوران ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں تقریباﹰ پانچ فیصد کمی ہوئی ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار