واشنگٹن اسد حکومت پر بمباری کرے، امریکی سفارتکاروں کا مطالبہ | حالات حاضرہ | DW | 17.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

واشنگٹن اسد حکومت پر بمباری کرے، امریکی سفارتکاروں کا مطالبہ

امریکی محکمہٴ خارجہ کی ایک دستاویز کے مطابق درجنوں ملکی سفارت کاروں کا صدر باراک اوباما کی اب تک کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے مطالبہ ہے کہ واشنگٹن کو شام میں اسد حکومت اور اس کے دستوں کے خلاف بمباری کرنا چاہیے۔

USA Irak Bombardierung Islamischer Staat US-Kampfjet USS George H.W. Bush

’امریکا اسد حکومت اور اس کی فورسز کے خلاف زمینی اور فضائی ہتھیار استعمال کرے‘

واشنگٹن سے جمعہ سترہ جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ بات امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ’سفارتی کیبلز‘ کہلانے والے پیغامات میں شامل ایسی دستاویزات میں کہی گئی ہے، جو اجتماعی طور پر اپنے مندرجات کی مناسبت سے dissent channel یا ’اختلافی چینل‘ کہلاتی ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق ان سفارتی کیبلز میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ شام میں پانچ سالہ خونریز تنازعے کے حتمی خاتمے کے لیے جو عبوری اور جغرافیائی طور پر محدود فائر بندی معاہدے عمل میں آتے ہیں، ان کی دمشق میں صدر بشار الاسد کے فوجی دستوں کی طرف سے مسلسل خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں جو ابھی تک جاری ہیں۔ ’’اس وجہ سے صدر اسد کی حکومت اور اس کے فوجی دستوں پر امریکا کو اپنے عسکری حملے شروع کر دینا چاہییں۔‘‘

امریکی دارالحکومت سے ملنے والی رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر باراک اوباما کی شام سے متعلق دمشق حکومت کے خلاف براہ راست فوجی حملے نہ کرنے کی اب تک کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے ان بیسیوں امریکی سفارت کاروں نے جو کچھ کہا ہے، اس کی تفصیلات کے منظر عام پر آنے سے ابھی چند روز پہلے ہی شام میں روسی دستوں کی طرف سے ان باغی ملیشیا کارکنوں پر بمباری کی گئی تھی، جنہیں امریکا کی حمایت حاصل ہے۔

Syrien Präsident Baschar al-Assad

شامی صدر بشار الاسد

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ یہ بات اس امر کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ شامی تنازعے میں مقامی اور بیرونی طاقتوں کے مابین اتحاد کا عمل بیک وقت کثیر الجہتی بھی ہے اور بہت پیچیدہ بھی۔ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اپنے مشترکہ حریف کو نیچا دکھانے کی ان کوششوں میں امریکا اور کئی عرب ممالک شامی اپوزیشن کے مسلح گروپوں کے حامی ہیں اور ایران اور روس صدر اسد کے کھلے اتحادی ہیں جبکہ روس تو شام میں اسد مخالف قوتوں پر فضائی حملے بھی کر رہا ہے۔

ایک تیسرا پہلو وہ اسلام پسند عسکری گروپ اور دہشت گرد تنظیمیں ہیں، جو ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپوں سے منسلک ہیں یا ان کے ہم خیال ہیں اور زیادہ تر اپنی سوچ سے اختلاف رکھنے والی باقی طاقتوں کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں۔

اس پس منظر میں امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ شامی تنازعے میں درجنوں امریکی سفارت کاروں کی ایسی رائے کا سامنے آنا ظاہر کرتا ہے کہ شام سے متعلق امریکی پالیسی ساز حلقوں میں کتنی تقسیم پائی جاتی ہے۔ ان کیبلز میں، جو حاضرسروس امریکی سفارت کاروں نے اپنے دستخطوں کے ساتھ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھیجیں، واشنگٹن حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے، ’’اسد حکومت کے خلاف زمینی اور فضائی ہتھیاروں کا منصفانہ اور مؤثر استعمال کیا جانا چاہیے۔‘‘

DW.COM

اشتہار