نیٹو سپلائی روٹ، پاکستانی اسلام پسند ممکنہ بحالی کے خلاف | حالات حاضرہ | DW | 27.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو سپلائی روٹ، پاکستانی اسلام پسند ممکنہ بحالی کے خلاف

منگل کے روز پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں مذہبی اور کالعدم تنظیموں سے وابستہ ہزاروں افراد نے نیٹو سپلائی کی بندش جاری رکھنے کے لیے مظاہرہ کیا۔ ان افراد نے زور و شور سے امریکا کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

default

کالعدم مذہبی تنظیم جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعید نے بھی اس مظاہرے سے خطاب کیا۔ بھارت حافظ سعید پر سن 2008ء کے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کرتا ہے۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ عسکری تنظیم لشکر طیبہ جسے کئی برس قبل کالعدم قرار دے دیا گیا تھا، اب نام بدل کر جماعت الدعوة کے طور پر کام کر رہی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی حافظ سعید نے  دفاع پاکستان نامی ایک ریلی سے خطاب میں امریکا اور بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

مذہبی اور کالعدم جماعتوں کے پلیٹ فارم دفاع پاکستان کے اسلام آباد میں اس مظاہرے کا مقصد ملکی پارلیمان میں امریکا کے ساتھ تعلقات پر قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات پر جاری بحث پر اثرانداز ہونا بتایا جاتا ہے۔ پاکستانی پارلیمان اس بحث میں مصروف ہے کہ آئندہ امریکا کے ساتھ تعلقات کن بنیادوں پر استوار کیے جائیں اور افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے پاکستانی سرزمین کا بالواسطہ استعمال کن شرائط پر ممکن ہونا چاہیے۔

Flash-Galerie Antiamerikanische Proteste in Pakistan

مظاہرین نے امریکا کے خلاف شدید نعرے بازی کی

گزشتہ برس نومبر کے اواخر میں نیٹو ہیلی کاپٹر کے ایک حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے افغانستان میں غیر ملکی افواج تک رسد کی سپلائی کے لیے زیر استعمال اپنی دو سرحدی گزرگاہیں بند کر دی تھیں۔

اسلام آباد میں مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ سعید نے کہا، ’امریکی ایجنٹ ایک بار پھر ہمارے ملک میں داخل ہونا اور ہمارے معصوم شہریوں کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام نیٹو سپلائی کی اجازت کبھی نہیں دیں گے۔ ’اگر پاکستانی رہنما بشمول فوجی سربراہ ملکی مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتے، تو اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں۔‘

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ممبئی حملوں کے بعد پاکستانی حکومت کی جانب سے حافظ سعید کو نظر بند کر دیا گیا تھا تاہم بعد میں ایک عدالت کے حکم پر ان کی نظر بندی ختم کر دی گئی تھی۔ پاکستانی عدالت عظمیٰ نے بھی حافظ سعید کی نظربندی کے لیے حکومت کی جانب سے پیش کردہ شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اس بارے میں ماتحت عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک