نیٹو امریکہ کو گرین لینڈ لینے کی اجازت دے، ٹرمپ
وقت اشاعت 21 جنوری 2026آخری اپ ڈیٹ 21 جنوری 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- نیٹو امریکہ کو گرین لینڈ لینے کی اجازت دے، ٹرمپ
- ’انتہا پسند بائیں بازو‘ کی وجہ سے جرمنی میں بجلی کی پیداوار میں کمی آئی، ٹرمپ کا دعویٰ
- اسرائیلی حملے میں تین صحافی ہلاک، غزہ سول ڈیفنس
- پاکستان نے غزہ کے ’بورڈ آف پیس‘ کے لیے ٹرمپ کی دعوت قبول کر لی
- حملے کی صورت میں ایران کو نیست و نابود کر دیا جائے گا، ٹرمپ کی دھمکی
- شام میں کرد افواج فوری طور پر ہتھیار ڈال دیں، ایردوآن
- جہاز کی خرابی کے باوجود ٹرمپ داووس کے سفر پر
- یورپی یونین زیادہ آزادی کی طرف ایک دوراہے پر ہے، فان ڈیر لاین
نیٹو کو امریکی توسیع پسندی کو روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزر لینڈ کے شہر داووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ نیٹو کو امریکی توسیع پسندی کو روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ ’’حق، ملکیت اور قبضے سمیت گرین لینڈ حاصل کرنا‘‘ چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کریں گے۔
آج بدھ 21 جنوری کو سوئٹزر لینڈ کے شہر داووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم میں اپنے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ نیٹو کو امریکی توسیع پسندی کو روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
ٹرمپ نے نیٹو کے بارے میں اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’میں جس چیز کا مطالبہ کر رہا ہوں وہ برف کا ایک ٹکڑا ہے، جو سرد اور نامناسب جگہ پر واقع ہے۔ یہ اس کے مقابلے میں بہت چھوٹا مطالبہ ہے، جو ہم نے کئی دہائیوں سے انہیں (نیٹو ممالک کو) دیا ہے۔‘‘
انہوں نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو پر زور دیا کہ وہ امریکہ کو ڈنمارک سے گرین لینڈ لینے کی اجازت دے۔ ریپبلکن امریکی صدر نے ایک غیر معمولی وارننگ بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد کے ارکان ’’ہاں‘‘ کہہ سکتے ہیں اور ’’ہم اس کے بہت شکر گزار ہوں گے۔ یا آپ نہ کہہ سکتے ہیں اور ہم اسے یاد رکھیں گے۔‘‘
اس کے باوجود ٹرمپ نے تسلیم کیا، ’’ہمیں شاید کچھ حاصل نہیں ہو گا، جب تک کہ میں حد سے زیادہ طاقت اور قوت استعمال کرنے کا فیصلہ نہ کروں، جہاں ہم واضح طور پر ناقابل تسخیر ہوں گے۔ لیکن میں ایسا نہیں کروں گا۔ ٹھیک ہے؟‘‘
ٹرمپ کے بقول، ’’مجھے طاقت استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں طاقت استعمال کرنا نہیں چاہتا۔ میں طاقت استعمال نہیں کروں گا۔‘‘
اس کے بجائے انہوں نے گرین لینڈ حاصل کرنے کے لیے ’’فوری مذاکرات‘‘ شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔
ٹرمپ نے کہا، ’’یہ عظیم الشان غیر محفوظ جزیرہ دراصل شمالی امریکہ کا حصہ ہے۔ یہ ہمارا علاقہ ہے۔‘‘
’انتہا پسند بائیں بازو‘ کی وجہ سے جرمنی میں بجلی کی پیداوار میں کمی آئی، ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ 2017 کے بعد سے جرمنی میں بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس مبینہ گراوٹ کا ذمہ دار ملک کی سابق اعتدال پسند بائیں بازو کی حکومت کو ٹھہرایا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم میں عالمی اور کاروباری رہنماؤں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’یہاں یورپ میں ہم نے وہ انجام دیکھا ہے، جو انتہا پسند بائیں بازو نے امریکہ پر مسلط کرنے کی کوشش کی تھی۔‘‘
ورلڈ اکنامک فورم کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’انہوں نے بہت کوشش کی۔ جرمنی اب 2017 کے مقابلے میں 22 فیصد کم بجلی پیدا کر رہا ہے اور اس میں موجودہ چانسلر کا کوئی قصور نہیں ہے۔ وہ اس مسئلے کو حل کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’وہ بہترین کام کریں گے، لیکن ان کے آنے سے پہلے جو کچھ کیا گیا، میرا خیال ہے کہ شاید اسی وجہ سے وہ (اقتدار میں) آئے ہیں۔‘‘
ٹرمپ قابلِ تجدید توانائی کے ناقد ہیں، جسے 2021 اور 2025 کے درمیان جرمن چانسلر اولاف شولز کی اعتدال پسند بائیں بازو کی حکومت نے بھرپور طریقے سے فروغ دیا تھا۔
چانسلر فریڈرش میرس کی قیادت میں نئی قدامت پسند حکومت نے، جس نے گزشتہ سال مئی میں اقتدار سنبھالا تھا، قابلِ تجدید توانائی کی توسیع کے حوالے سے زیادہ محتاط انداز اختیار کیا ہے۔
اسرائیلی حملے میں تین صحافی ہلاک، غزہ سول ڈیفنس
غزہ پٹی کے وسطی حصے میں ہونے والے ایک اسرائیلی حملے میں تین صحافی مارے گئے ہیں۔ یہ بات غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے آج بدھ 21 جنوری کو بتائی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مرنے والوں میں ایک فری لانس صحافی بھی شامل ہے، جو پہلے اے ایف پی کے لیے کام کر چکے تھے۔ یہ واقعہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے باوجود پیش آیا۔
یخ بستہ راتیں، بھیگے خیمے اور غزہ کے باسی
غزہ کی سول ڈیفنس نے ایک بیان میں کہا، ’’غزہ شہر کے جنوب مغرب میں واقع الزہراء کے علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں مرنے والے تین صحافیوں کی میتوں کو دیر البلح کے الاقصیٰ شہداء ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔‘‘
بیان میں مارے جانے والوں کے نام محمد صلاح قشتہ، عبد الرؤف شعت اور انس غنیم بتائے گئے ہیں۔ شعت اس سے قبل اے ایف پی کے لیے بطور فوٹو اور ویڈیو جرنلسٹ کام کر چکے تھے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان رپورٹس کی تصدیق کر رہے ہیں۔
ادارت: امتیاز احمد، رابعہ بگٹی
پاکستان نے غزہ کے ’بورڈ آف پیس‘ کے لیے ٹرمپ کی دعوت قبول کر لی
پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ (امن بورڈ) میں شامل ہونے کی دعوت قبول کر لی ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا، ’’پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے فریم ورک کے تحت غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کی حمایت کے لیے اپنی جاری کوششوں کے حصے کے طور پر بورڈ آف پیس (BoP) میں شامل ہونے کے فیصلے کا اعلان کرتا ہے۔‘‘
یہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ غزہ کے لیے ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے، جو اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے درمیان جنگ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہ ہو چکا ہے۔ تاہم، یورپی رہنما اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ٹرمپ کا یہ بورڈ اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر سامنے آنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے دیگر جغرافیائی سیاسی مسائل کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
غزہ کا یہ امن منصوبہ جنگ کے مستقل خاتمے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کا تصور پیش کرتا ہے، جسے حماس مسترد کرتا ہے۔
بیان کے مطابق پاکستان اس امید کا اظہار کرتا ہے کہ اس فریم ورک کے قیام سے مستقل جنگ بندی کے نفاذ، فلسطینیوں کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد میں مزید اضافے اور غزہ کی تعمیرِ نو کی جانب ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔
پاکستان یہ امید بھی رکھتا ہے کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کا سبب بنیں گی۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کو اتوار کے روز یہ دعوت نامہ موصول ہوا تھا۔
گزشتہ دسمبر میں پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا تھا کہ پاکستان غزہ میں بین الاقوامی امن فوج کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے لیکن وہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے اپنی افواج تعینات نہیں کرے گا۔
حملے کی صورت میں ایران کو نیست و نابود کر دیا جائے گا، ٹرمپ کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی براڈکاسٹر ’نیوز نیشن‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر ان پر کوئی حملہ ہوا تو اس کا جواب بھرپور طاقت سے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’پورا ملک اڑا دیا جائے گا۔‘‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو انہوں نے ’’انتہائی سخت ہدایات‘‘ دے رکھی ہیں۔ اگر کچھ بھی ہوا تو وہ (امریکی افواج) انہیں روئے زمین سے مٹا دیں گے۔‘‘
وہ ان رپورٹوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دے رہے تھے، جن کے مطابق ایرانی قیادت نے ان کے خلاف قتل کی دھمکی جاری کی ہے۔
ٹرمپ کی دھمکیوں اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے ذاتی حملوں کے بعد خطے میں فوجی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی صدر نے حال ہی میں ایران میں حکومت کی تبدیلی کی حمایت کا اظہار بھی کیا تھا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ خامنہ ای کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت ایرانی قوم کے خلاف مکمل جنگ کے مترادف ہو گی۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ایران میں حالیہ بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں4,200 سے زائد مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ سرکاری قیادت ان مظاہروں میں ہونے والے تشدد کا ذمہ دار ’’دہشت گرد عناصر‘‘ کے ساتھ ساتھ اپنے روایتی دشمنوں، امریکہ اور اسرائیل کو قرار دیتی ہے۔
شام میں کرد افواج فوری طور پر ہتھیار ڈال دیں، ایردوآن
ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے آج بدھ 21 جنوری کو کہا ہے کہ شام کے شمالی حصے میں کرد افواج کو مزید خونریزی سے بچنے کے لیے فوری طور پر ہتھیار ڈال دینے چاہییں اور اپنی تنظیم کو تحلیل کر دینا چاہیے۔
ایردوآن نے یہ بات دمشق حکومت کی طرف سے اس گروپ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے تناظر میں کہی ہے۔ دمشق حکومت نے کرد گروپ کو مرکزی ریاست میں شامل ہونے پر اتفاق کرنے کے لیے چار دن کی مہلت دی ہے۔
شام کی ترک نواز حکومتی افواج نے رواں ہفتے شمال مشرقی شام میں کردوں کی زیر قیادت شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) سے وسیع علاقے قبضے میں لے لیے ہیں۔ یہ کارروائی شامی صدر احمد الشرع کی ان کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد پورے ملک کو مرکزی حکومتی اتھارٹی کے تحت لانا ہے۔
امریکہ نے، جو ایس ڈی ایف کا اہم اتحادی ہے، کہا ہے کہ دمشق میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سے اس گروپ کے ساتھ اس کی شراکت داری کی نوعیت بدل گئی ہے اور اس نے کرد جنگجوؤں پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے ریاستی ڈھانچے میں شامل ہو جائیں۔
ترکی ایس ڈی ایف کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر دیکھتا ہے، جس کے روابط کالعدم کردستان ورکرز پارٹی سے ہیں۔ ترکی گزشتہ کئی مہینوں سے کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ امن عمل میں مصروف ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس گروپ اور اس کے ذیلی اداروں کو لازمی طور پر غیر مسلح ہو کر تحلیل ہو جانا چاہیے۔
پارلیمنٹ میں اپنی اے کے پارٹی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے ایس ڈی ایف اور دمشق کے درمیان منگل کو ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اس گروپ کا مکمل انضمام شام میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔
ایردوآن کے بقول ہتھیار ڈالنا ہی واحد راستہ ہے اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی ’’خودکشی کی کوشش‘‘ ہو گی۔
جہاز کی خرابی کے باوجود ٹرمپ داووس کے سفر پر
ایئر فورس ون میں تکنیکی مسائل کے بعد ایک دوسرے طیارے کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایک متبادل طیارہ، جس میں ٹرمپ اور ان کے ساتھی سوار تھے، آدھی رات کے فورا بعد واشنگٹن سے روانہ ہوا اور اب سوئٹزرلینڈ کے سفر پر ہے۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق منگل کی شام ٹرمپ کے سرکاری طیارے میں ٹیک آف کے فوراﹰ بعد تکنیکی خرابی کی وجہ سے اسے واپس امریکی دارالحکومت کے قریب جوائنٹ بیس اینڈریوز میں فوجی ہوائی اڈے پر واپس اتار لیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ عملے نے ’’ایک معمولی الیکٹریکل مسئلے‘‘ کی نشاندہی کی۔ حفاظتی وجوہات کی بنا پر یہ پرواز احتیاطی تدبیر کے طور پر منسوخ کر دی گئی۔
ٹرمپ نے پھر چھوٹے ایئر فورس ون، بوئنگ 757 کے ساتھ زیورخ کا سفر جاری رکھا۔ امریکی مشرقی ساحل کے فوجی ہوائی اڈے سے پرواز کئی گھنٹے لیتی ہے۔
اسی سبب ٹرمپ کی سوئٹزرلینڈ آمد اور بدھ کی دوپہر کو داووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم میں ان کی شرکت متوقع طور پر تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔ ابتدائی طور پر، ان کا خطاب یورپی وقت کے مطابق دوپہر 2:30 بجے شیڈول تھا۔
امریکی صدر کی ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت ان کی گرین لینڈ کو ضم کرنے کی دھمکیوں، اتحادیوں پر عائد محصولات اور متنازعہ غزہ بورڈ آف پیس کے منصوبوں کے پیش نظر خاصی توجہ حاصل کیے ہوئے ہے۔
یورپی یونین زیادہ آزادی کی طرف ایک دوراہے پر ہے، فان ڈیر لاین
یورپی یونین کو تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں اپنی حفاظت کی آزادی کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنی چاہییں۔ یہ بات یورپی کمیشن کی صدر اُرزولا فان ڈیر لاین نے آج بدھ کے روز کہی ہے۔
فان ڈیر لاین نے یورپی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم ایک موڑ پر ہیں۔ یورپ مکالمے اور (مسائل کے) حل کو ترجیح دیتا ہے، لیکن اگر ضرورت پڑی تو ہم عمل کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، اتحاد، فوری اور عزم کے ساتھ۔‘‘
یورپی کمیشن کی صدر نے مزید کہا، ’’ قانون سے ماورا اس بڑھتی ہوئی دنیا میں، یورپ کو اپنی طاقت کے ذرائع کی ضرورت ہے۔‘‘
ان ذرائع پر روشنی ڈالتے ہوئے فان ڈیر لاین کا کہنا تھا، ’’ہم انہیں جانتے ہیں: ایک مضبوط معیشت، ایک خوشحال واحد مارکیٹ اور صنعتی بنیاد، مضبوط جدت اور ٹیکنالوجی کی صلاحیت، متحد معاشرے اور حقیقی صلاحیت سے بڑھ کر اپنے دفاع کی صلاحیت۔‘‘
فان ڈیر لاین نے کہا کہ یوکرین پر توجہ مرکوز رکھنا ’’پہلے سے کہیں زیادہ اہم‘‘ ہے، جبکہ یورپی یونین امریکہ اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر آرکٹک خطے میں سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرے گی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ کی طرف سے ڈنمارک کے خودمختار علاقے گرین لینڈ کو امریکی قبضے میں لینے کی دھمکیوں اور یورپی ممالک کے خلاف اضافی ٹیرفس کے علاوہ کئی دیگر معاملات پر امریکہ اور یورپ کے درمیان عدم اتفاق پایا جاتا ہے۔
ادارت: امتیاز احمد