نیو یارک بم حملہ: ’جہادی تنظیم کا ہاتھ نہیں تھا‘ | حالات حاضرہ | DW | 18.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیو یارک بم حملہ: ’جہادی تنظیم کا ہاتھ نہیں تھا‘

امریکی حکام کے مطابق گزشتہ رات نیو یارک شہر میں ہونے والا بم حملہ دہشت گردی کی کارروائی تھا لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اس کارروائی میں غیر ممالک سے وابستہ کوئی شدت پسند اسلامی تنظیم ملوث تھی۔

نیو یارک کے گورنر اینڈرو کواومو نے صحافیوں کو اتوار کے روز بتایا کہ اس حملے میں داعش یا کسی دوسرے جہادی گروہ کےملوث ہونے کے اب تک شواہد نہیں ملے ہیں۔ اس بم حملے میں انتیس افراد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے اس حملے کے بعد ایک اور بم بھی برآمد کیا تھا، جسے ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد نیو یارک شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

گورنر کواومو کا کہنا تھا، ’’جس کسی نے بھی بم نصب کیے تھے، ہم انہیں پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کریں گے۔‘‘ کو اومو نے اس جگہ کا بھی معائنہ کیا جہاں دھماکا رونما ہوا تھا۔ یہ چیلسی کے علاقے کی ایک سڑک تھی جو کہ مین ہیٹن کے فیشن ایبل ترین حصوں میں سے ایک ہے۔

کواومو مزید کہتے ہیں: ’’نیو یارک میں ہونے والا بم دھماکا واضح طور پر دہشت گردی کی ایک کارروائی تھا تاہم اس کے تانے بانے بین الاقوامی دہشت گردی سے ملتے نہیں دکھائی دے رہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم اس میں داعش کی مداخلت نہیں دیکھ رہے۔‘‘

نیو یارک کی پولیس کے سربراہ جیمز او نائل کے مطابق دھماکا شدید نوعیت کا تھا اور یہ رات آٹھ بج کر تیس منٹ پر ہوا۔ ان کے بہ قول متاثرہ عمارت کو خالی تو نہیں کرایا گیا تاہم وسیع پیمانے پر اس کی تلاشی لی گئی۔

ذرائع کے مطابق جس وقت یہ دھماکا ہوا، وہاں شہریوں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی کیوں کہ اس علاقے میں ایک بڑی تعداد میں بارز، ریستوران اور لگژری فلیٹس موجود ہیں۔ یہ واقعہ ایک ایسے موقع پر رونما ہوا ہے، جب ابھی دو دن بعد ہی نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے والا ہے۔

اس کے علاوہ اس واقعے کا ہفتے کی صبح نیو جرسی میں ہونے والے بم دھماکے سے بھی کوئی تعلق نہیں ثابت ہو سکا ہے۔ نیو جرسی میں ایک کچرہ دان میں تین پائپ بموں کو نصب کیا گیا تھا تاہم جن میں سے صرف ایک پھٹ سکا۔ یہ دھماکا ایسے موقع پر ہوا، جب وہاں ایک ریس شروع ہونے کو تھی، جس میں تقریباً پانچ ہزار افراد نے شرکت کرنا تھی۔ نیو جرسی واقعے میں کسی کے بھی زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ تاہم اس واقعے کے بعد ریس کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ صدر باراک اوباما کی ہدایات کے مطابق انہیں ان واقعات کے بارے میں پل پل کی خبریں پہنچائی جا رہی ہیں۔ فائر بریگیڈ کے کمشنر ڈانیل نگرو نے بتایا کہ انتیس افراد کو مختلف نوعیت کے زخم آئے ہیں اور ان میں سے چوبیس کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا ہے۔

USA New York Gouverneur Andrew Cuomo

یو یارک کے گورنر اینڈرو کواومو نے کہا ہے کہ اس حملے میں داعش یا کسی دوسرے جہادی گروہ کےملوث ہونے کے اب تک شواہد نہیں ملے ہیں

USA New York Explosion mit Verletzten

نیو یارک کی پولیس کے سربراہ جیمز او نائل کے مطابق دھماکا شدید نوعیت کا تھا

USA New York Explosion mit Verletzten

ذرائع کے مطابق جس وقت یہ دھماکا ہوا، وہاں شہریوں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی

USA New York Explosion mit Verletzten

گورنر کواومو کے بقول نیو یارک میں ہونے والا بم دھماکا واضح طور پر دہشت گردی کی ایک کارروائی تھا

داعش کا ’سپاہی‘

انتہا پسند تنظیم داعش نے کہا ہے کہ امریکی ریاست منیسوٹا میں چاقو سے حملہ کرنے والا اس کا ’سپاہی‘ تھا۔ سینٹ کلاؤڈ نامی شہر کے ایک شاپنگ مال میں گزشتہ روز رونما ہونے والے اس پرتشدد واقعے میں آٹھ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آورکو ہلاک کر دیا تھا۔ داعش کی نیوز ایجنسی اعماق نے آج اتوار کے روز دعویٰ کیا کہ یہ حملہ دراصل ان کی ایسی اپیلوں کا نتیجہ تھا، جن میں مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ان کا ساتھ دیں۔