نیوزی لینڈ میں ہاؤسنگ کا بحران، قربانی کا بکرا ایشیائی برادریاں | معاشرہ | DW | 19.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

نیوزی لینڈ میں ہاؤسنگ کا بحران، قربانی کا بکرا ایشیائی برادریاں

نیوزی لینڈ میں املاک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پیدا شدہ ہاؤسنگ کے بحران میں ایشیائی برادریاں قربانی کا بکرا بن چکی ہیں اور ایشیائی نژاد مقامی شہریوں کو سڑکوں اور انٹرنیٹ پر نفرت آمیز تبصروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

نیوزی لینڈ کا سب سے بڑا شہر آک لینڈ

نیوزی لینڈ کا سب سے بڑا شہر آک لینڈ

نیوزی لینڈ کا سب سے بڑا شہر آک لینڈ ہے، جو ہر سال جاری کی جانے والی 'ڈیموگرافیا انٹرنیشنل‘ نامی رپورٹ کے مطابق مسلسل دنیا کے ان دس شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں انتہائی مہنگی ہاؤسنگ کے باعث عام لوگوں کے لیے رہائش اختیار کرنا انتہائی دشوار ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس ملک کے تینوں بڑے شہر، آک لینڈ، کرائسٹ چرچ اور ملکی دارالحکومت ویلنگٹن، ایسے شہر قرار دیے جاتے ہیں، جہاں کسی کے لیے بھی رہائش کے اخراجات کا متحمل ہونا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ کہ اب بہت سے لوگ ایسے چھوٹے چھوٹے شہروں کا رخ کر رہے ہیں، جہاں وہ اپنے لیے رہائش کے سستے حل کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ لیکن ان چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں جا کر انہیں علم ہوتا ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی طلب کے نتیجے میں وہاں بھی گھروں کی قیمتیں اور کرائے بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔

اس کی ایک مثال ٹاؤرانگا کا ایک چھوٹا سا شمالی ساحلی شہر بھی ہے، جس کی آبادی سوا لاکھ کے قریب ہے۔ لیکن وہاں پانچ برس قبل اگر کسی عام مکان کی قیمت تین لاکھ نیوزی لینڈ ڈالر یا پونے دو لاکھ یورو کے برابر تھی، تو آج یہی قیمت تقریباﹰ پانچ لاکھ نیوزی لینڈ ڈالر یا تقریباﹰ تین لاکھ یورو کے برابر ہو چکی ہے۔

اس بات پر ماہرین حیرانی کا اظہار کرتے ہیں کہ 'ڈیموگرافیا انٹرنیشنل‘ نامی سالانہ رپورٹ میں دنیا کے جن 10 سب سے کم 'افورڈیبل‘ شہروں کی فہرست شائع کی گئی ہے، ان میں ہانگ کانگ، امریکا میں سان فرانسسکو اور کینیڈا میں وینکوور جیسے شہروں کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ کا یہ قصبہ ٹاؤرانگا بھی شامل ہے۔

ایشیائی نژاد باشندوں سے متعلق سماجی تاثر

نیوزی لینڈ میں گھروں کی قیمتوں کے بارے میں حکومتی پالیسی کافی نرم ہے اور سرکاری ضابطے قدرے کمزور۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر مختلف نسلی گروپوں کی آمدنی میں پایا جانے والا فرق بھی ہر کوئی ذہن میں نہیں رکھتا۔ لیکن اسی پس منظر میں نیوزی لینڈ میں آباد ایشیائی نژاد نسلی برادریاں ملک میں ہاؤسنگ کے اس بحران میں تقریباﹰ قربانی کا بکرا بن چکی ہیں۔

Bildergalerie Neuseeland Foto3 Wellington

نیوزی لینڈ کے دارالحکومت ویلنگٹن کا ایک فضائی منظر

یونیورسٹی آف اوٹیگو میں ایشیائی تارکین وطن سے متعلقہ علوم کی ایسوسی ایٹ پروفیسر جیکولین لَیکی کہتی ہیں، ''ہمارے ہاں سیاستدانوں کے ایک مخصوص طبقے نے قوم پسندی کے رجحان کو تقویت دینے کے لیے سیاست میں 'ایشین کارڈ‘ کھیلا ہے۔ اس کے علاوہ ملکی میڈیا پر ہونے والی بحث اور ہاؤسنگ کے بحران سے متعلق عوامی بیانیے میں ایشیائی باشندوں کے بارے میں ان روایتی تاثرات کا اثر و رسوخ بہت زیادہ نظر آتا ہے، جو دراصل عرصہ ہوا بہت پرانے ہو چکے ہیں۔‘‘

نو آبادیاتی ماضی کے نسل پرستانہ اثرات

یونیورسٹی آف آک لینڈ میں کوریائی اور ایشیائی علوم کے شعبے کے سینئر لیکچرار ڈاکٹر چانگ زُو سونگ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ نسلی طور پر مختلف ایشیائی ممالک سے آ کر نیوزی لینڈ میں آباد ہونے والے باشندوں کے خلاف نسل پرستانہ سوچ کو ہوا دینے میں اس ملک کے نو آبادیاتی ماضی کے تجربات نے بھی اپنا روایتی کردار ادا کیا ہے۔

ڈاکٹر سونگ کہتے ہیں، ''کاروبار، ملازمتوں اور ہاؤسنگ کے شعبوں میں مقابلے کا وہ احساس، جو نیوزی لینڈ کے (اب) مقامی اور یورپی نسلوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں میں ایشیائی ممالک سے آنے والے تارکین وطن اور ان کی نئی نسل کے حوالے سے پایا جاتا ہے، کئی پہلوؤں سے نسل پرستانہ سوچ کے پنپنے کی وجہ ہو سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ''منطقی بات تو یہ ہے کہ نیوزی لینڈ میں ہاؤسنگ کے بحران کی وجہ ایشیائی تارکین وطن نہیں بنے۔ لیکن ایک بڑا عوامی تاثر یہ بہرحال ہے کہ اس بحران کا سبب زیادہ تر بہت امیر چینی تارکین وطن بنے ہیں۔‘‘

نیوزی لینڈ کی آبادی میں نسلی تناسب

نیوزی لینڈ کی مجموعی آبادی میں ایشیائی نسل کے شہریوں کا تناسب تقریباﹰ 15 فیصد بنتا ہے۔ ان میں سے سب سے بڑا نسلی گروپ چینی نژاد باشندوں کا ہے، جن کے بعد بھارتی، کوریائی، پھر فلپائن اور ان کے بعد جاپانی نژاد باشندوں کا نمبر آتا ہے۔ اس ملک کے بہت سے شہریوں کا یہ خیال بھی ہے کہ جس طرح چین اقتصادی طور پر ایک عالمی طاقت بن کر ابھرا ہے، اس سے ان کا 'پرسکون جنت سمجھا جانے والا‘ وطن مسلسل خطرے میں ہے۔

اس بارے میں نیوزی لینڈ کے کئی ایشیائی نژاد شہریوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہیں روزمرہ زندگی میں تعصبانہ رویوں کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر کسے جانے والے جملوں اور انٹرنیٹ پر لکھے جانے والے تنقیدی کلمات کا سامنا بھی رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ان سے یورپی نسلوں کے مقامی باشندے ان کے تارکین وطن کے پس منظر کے باعث اکثر یہ پوچھتے ہیں، ''حقیقی طور پر آپ کہاں سے آئے ہیں؟‘‘ اس کے علاوہ ایسے ایشیائی نژاد شہریوں کو بارہا ایسے جملے بھی سننے کو ملتے ہیں، ''اوہ! آپ کی انگلش تو بہت اچھی ہے،‘‘ یا ''کیا آپ اچھی انگلش بول سکتے ہیں؟‘‘

ہاؤسنگ سب سے بڑا عوامی مسئلہ

نیوزی لینڈ میں ہاؤسنگ کا مسئلہ کتنے بڑے بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ تین قومی انتخابات سے قبل عام شہریوں کی 50 فیصد تعداد نے ہر بار کھل کر اعتراف کیا تھا کہ ان کے لیے ہاؤسنگ کا مسئلہ ہی سب سے بڑا سر درد ہے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے ملکی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے رواں برس کے اوائل میں اپنی ایک نئی 'کیوی بِلڈ‘ پالیسی بھی متعارف کرائی تھی، لیکن وہ بھی اب تک زیادہ تر ناکام ہی رہی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس اگست میں حکومت نے ایک ایسا نیا قانون بھی منظور کر لیا تھا، جس کے تحت نیوزی لینڈ میں مستقل رہائش نہ رکھنے والے غیر ملکیوں کو اس ملک میں پراپرٹی خریدنے سے منع کر دیا گیا تھا۔

سُو جئی وان برنرسم (م م / ا ب ا)

DW.COM