نیوزی لینڈ میں ’دہشت گردی‘ کے خلاف متحد ہیں، میرکل | حالات حاضرہ | DW | 15.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیوزی لینڈ میں ’دہشت گردی‘ کے خلاف متحد ہیں، میرکل

نیوزی لینڈ میں دو مساجد میں فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 49 تک پہنچ گئی ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ جرمنی دہشت گردی کے اس عمل کے خلاف نیوزی لینڈ کے ساتھ کھڑا ہے۔

نیوزی لینڈ میں 15 مارچ کو نماز جمعہ کے وقت دو مساجد میں فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 49 تک پہنچ گئی ہے۔ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ایک شدت پسند نے بظاہر فائرنگ کرتے ہوئے ویڈیو کو براہ راست نشر کیا۔ مغربی ممالک سمیت عالمی سطح پر اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے اس واقعے کو ’’نیوزی لینڈ کا ایک تاریک ترین دن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ بات اب واضح ہے کہ اس حملے کو صرف ایک دہشت گردانہ حملہ‘‘ ہی کہا جا سکتا ہے۔

نیوزی لیند کی دو مساجد میں فائرنگ پر مغربی ممالک کا رد عمل

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ جرمنی نیوزی لینڈ کی عوام کے ساتھ ان کے ایسے ساتھی شہریوں کی پر امن طریقے سے اپنی مساجد میں عبادت کرتے ہوئے، نسل پرستانہ نفرت پر مبنی حملے میں ہونے والی ہلاکتوں پر، شدید غمگین ہے اور ابن کے ساتھ کھڑا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے بقول، ’’نماز کے لیے جمع ہونے والے پر امن لوگوں پر حملہ سفاکی، بربریت اور دہشت خیز ہے۔‘‘ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے نام اپنے پیغام میں صدر پوٹن نے مزید کہا، ’’مجھے امید ہے کہ ذمہ داروں کو انتہائی سخت سزا دی جائے گی۔‘‘

یورپیئن کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹُسک نے اس حملے کو ’’نیوزی لینڈ سے ملنے والی خوفناک خبر‘‘ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ’’یہ وحشیانہ حملہ . . . نیوزی لینڈ کی عوام کی اس برداشت اور شائستگی میں کمی نہیں لا پائے گا، جس کے لیے وہ شہرت رکھتے ہیں۔‘‘

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے ’’کرائسٹ چرچ میں دہشت ناک دہشت گردانہ حملے‘‘ پر نیوزی لینڈ کے عوام کے ساتھ انتہائی گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ مے کے مطابق، ’’میری ہمدریاں ان تمام لوگوں کے ساتھ ہیں جو تشدد کے اس بیمارکن عمل سے متاثر ہوئے۔‘‘

UN-Generalversammlung in New York | Jacinda Ardern, Premierministerin Neuseeland

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے اس واقعے کو ’’نیوزی لینڈ کا ایک تاریک ترین دن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ بات اب واضح ہے کہ اس حملے کو صرف ایک دہشت گردانہ حملہ‘‘ ہی کہا جا سکتا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے اس ’نفرت انگیز حملے‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کسی بھی طرح کی شدت پسندی کے خلاف ہے۔

نیٹو کے سربراہ ژینس اسٹولٹن برگ کے مطابق امریکی سربراہی میں قائم یہ اتحاد ’’آزاد معاشروں اور مشترکہ اقدار کے دفاع میں اپنے دوست اور پارٹنر ملک نیوزی لینڈ کے ساتھ کھڑا ہے‘‘۔

ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز کے بقول ’’ہمارے معاشروں کو تباہ کرنے کے خواہش مند متعصب اور شدت پسندوں‘‘  کے اس حملے کے بعد ان کی ہمدردیاں نیوزی لینڈ کے متاثرین کے ساتھ ہیں۔

ا ب ا / ع ح (اے ایف پی)

DW.COM

اشتہار