نیم فوجی اہلکار نے تکرار کے بعد اپنے چار ساتھی ہلاک کر دیے | حالات حاضرہ | DW | 10.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیم فوجی اہلکار نے تکرار کے بعد اپنے چار ساتھی ہلاک کر دیے

بھارتی نیم فوجی دستے کے ایک اہلکار نے فائرنگ کرتے ہوئے اپنے چار ساتھیوں کو ہلاک کر دیا۔ ریاستی حکام نے قتل کی اس واردات کے محرکات جاننے کے لیے تفتیشی عمل شروع کر دیا ہے۔

بھارت کی پیرا ملٹری فوج کے ایک اہلکار نے گولیاں مار کر اپنے چار ساتھیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ بھارتی فوجی کی فائرنگ کا یہ واقعہ ملک کے وسطی علاقے کی ریاست چھتیس گڑھ کے شہر بیجاپور میں ہوا۔ فائرنگ کرنے والے پیرا ملٹری فوج کے حوالدار سنتھ کمار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کی عمر پینتیس برس بتائی گئی ہے۔

کشمیر: بھارتی پیرا ملٹری بیس پر حملہ

مقدس کتاب کی بے حُرمتی، بھارتی پنجاب میں تناؤ

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ’جیش محمد کا اہم کمانڈر‘ ہلاک

بیجاپور کی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر تصدیق کی کہ اس واقعے کے رونما ہونے سے قبل قاتل اور مقتولین کے درمیان کسی معاملے تکرار کی بھی اطلاع ہے۔ اہلکار نے مزید بتایا کہ امکاناً اُس تکرار کے دوران شدید رنج اور غصے کی کیفیت میں اُس نے اپنے ساتھیوں پر گولیاں چائیں۔

حکام کے مطابق یہ چاروں فوجی گولیاں لگنے سے موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے اور ایک زخمی کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ زخمی اہلکار انسپکٹر بتایا گیا ہے۔

Indien Demonstrationen & Polizei in Panchkula (picture-alliance/AP Photo/A. Qadri)

رواں برس جنوری میں بھی پیرا ملٹری فوج کی کمانڈو یونٹ کے ایک اہلکار نے بھی گولیاں مار کر اپنے چار افسروں کو ہلاک کر دیا تھا

چھتیس گڑھ کی ریاست کے وزیر اعلیٰ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مقتولین کے خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے ریاستی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رامن سنگھ نے اپنے بیان میں کہا کہ پیراملٹری دستے تو ریاست میں مزاحمتی تحریک کو دبانے کے سلسلے میں تعینات ہیں اور اُن میں ایسی ہولناک قتل کی واردات یقینی طور پر قابل افسوس ہے۔

رواں برس جنوری میں بھی پیرا ملٹری فوج کی کمانڈو یونٹ کے ایک اہلکار نے بھی گولیاں مار کر اپنے چار افسروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ان افسران نے فائرنگ کرنے والی فوجی  کی چھٹی کی درخواست کو نامنظور کر دیا تھا۔

DW.COM

اشتہار