’نیا پاکستان‘ دراصل ’مثالی ریاست‘ | دستک | DW | 10.01.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

’نیا پاکستان‘ دراصل ’مثالی ریاست‘

حالیہ دنوں کے دوران سوشل میڈیا کے پاکستانی صارفین میں ’کدھر ہے نیا پاکستان‘ کا ہیش ٹیگ کافی ٹرینڈ کرتا رہا، وجہ تھی شدید سردی میں گیس کی لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور بے روزگاری۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار میں آئے ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ ان پر تنقید میں شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ قبل ازوقت انتخابات کیے گئے بلند بانگ دعوے ہیں یا ان کے اقتدار میں آنے کے بعد کے حالات؟ اس کی تحلیل نفسی ضروری ہے۔

'ہتھیلی پر سرسوں جمانا‘ ایک ایسا محاورہ ہے، جو عمران خان کی سیاسی بصیرت کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر ان کی نیت پر کوئی شک نہ بھی کیا جائے لیکن ریاستی امور چلانے سے متعلق ان کی اہلیت پر سوالیہ نشان لگایا جا سکتا ہے۔ کسی منصوبے کو مکمل کرنے میں اضطراری دیکھانا اور پھر یہ بھی سوچنا کہ وہ بہترین طریقے سے اپنے انجام کو پہنچے تو اس کے لیے معجزہ ہونا ضروری ہے۔

اس صورتحال کو بیان کرنے کی خاطر بہت سی گھسی پٹی سی مثالیں ہیں، جن کی حکمت پر ہم توجہ کم ہی دیتے ہیں۔ ایک مثال یہی لے لیں کہ ایک درخت کو پھل دینے میں وقت تو لگتا ہی ہے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ’نیا پاکستان‘ کی حکومت کو یہ علم ہی نہیں ہے کہ مناسب منصوبہ بندی، وسائل کی فراہمی اور اس کام کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے مکمل واقفیت کے بغیر کوئی منصوبہ کامیابی سے پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔

مشکلات اور مسائل کے شکار پاکستانیوں کو عمران خان کی شکل میں ایک مسیحا نظر آیا، جو 'بدعنوان‘ نہیں ہے۔ پاکستان کی سیاست میں عسکری مداخلت جہاں کئی مسائل کا باعث بنی، وہیں سیاستدانوں کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بدعنوانی کا درس بھی دیا گیا۔

زیادہ تفصیل میں جائے بغیر صرف یہی کہوں گا کہ جنرل ضیاء الحق نے جس طرح مفاد پرستوں کو سیاستدان بنایا اور سیاستدانوں کو کرپٹ، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ سن پچاسی کے غیر جماعتی بنیادوں پر ہوئے الیکشن یاد ہیں نا؟

Deutsche Welle Asien Urdu Atif Baloch (DW/P. Henriksen)

عاطف بلوچ

عمران خان نے نعرہ لگایا کہ وہ بدعنوانی ختم کر دیں گے۔ ان کے خیال میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہی ہے۔ چلو تسلیم کر لیتے ہیں کہ وہ درست کہتے ہیں۔ لیکن ان کی سیاسی جماعت میں اہم عہدوں پر وہی سیاستدان براجمان ہیں، جو عسکری دور کی سیاست کی پیداوار ہیں۔

عمران خان اس بات پر بھی توجہ دیتے نظر نہیں آتے کہ پاکستان کے معاشرتی ڈھانچے اور افسر شاہی کے نظام کو بدلنے میں ایک یا دو سال نہیں بلکہ زیادہ وقت درکار ہو گا۔ لیکن عمران خان نے کہا کہ وہ تو بس اقتدار میں آتے ہی سب کچھ بدل دیں گے۔ عمران خان کے اقتدار کے چند ماہ بعد ہی کچھ ان کے اپنے ہی حامی مخمصوں کا شکار ہو گئے ہیں۔

حالیہ عرصے میں عالمی سطح پر ایسے کئی رہنما ابھرے ہیں، جنہوں نے اپنے اپنے ممالک کے مسائل فوری طور پر حل کرنے کے دعوے کرنے کے علاوہ اسٹبلشمنٹ کو چیلنج کیا۔ میرے خیال میں اسٹبلشمنٹ ہی وہ 'خلائی مخلوق‘ ہے جو استحصال پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کو مضبوط کرتی ہے اور غریب اور مزدور طبقے کو مزید غربت میں دھکلینے کا باعث بنتی ہے۔

تو بتائیے کہ اگر کوئی اس اسٹبلشمنٹ کو چیلنج کرے گا، تو کس غریب کو اچھا نہیں لگے گا؟ امریکا، اٹلی، آسٹریا اور برازیل کے علاوہ کئی ممالک میں ایسے ہی رہنما ابھرے، جنہوں نے اپنے ملک کو عظیم سے عظیم تر بنانے اور ان کے مسائل ختم کرنے کا نعرہ لگایا اور عوام نے انہیں پلکوں پر بٹھا لیا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ بھی کیے گئے مثالی وعدے کبھی پورا نہیں کر سکیں گے کیونکہ حقیقی دنیا کچھ اور ہے اور خواب کچھ اور۔

عمران خان بھی دنیا بھر میں چلنے والی عوامیت پسندی کی اسی لہر کا ایک حصہ ہیں۔ انہوں نے اپنے ووٹرز کو خواب دیکھائے کہ وہ بس چند برسوں میں ہی ان کی تمام مشکلات اور مسائل کو ختم کر دیں گے۔ انہوں نے ایسے وعدے بھی کیے، جن کی تکمیل شاید ممکن ہی نہیں۔ لیکن غریب اور متوسط طبقہ تو خواب ہی دیکھنا چاہتا ہے، اس کا بھلا حقیقت سے کیا کام؟

عمران خان تبدیلی چاہتے تھے۔ وہ پاکستان کو ایک 'مثالی ریاست‘ بنانا چاہتے ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ تاہم اس مقصد کی خاطر انہیں وقت درکار ہو گا، وسائل چاہیے ہوں گے اور بین الاقومی کمیونٹی کی مدد بھی۔ انہیں صبر و تحمل سے کام لینا ہو گا کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمائی جا سکتی۔

 

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔