نیا ریکارڈ: یونان میں پانچ روز میں اڑتالیس ہزار نئے مہاجرین | مہاجرین کا بحران | DW | 23.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

نیا ریکارڈ: یونان میں پانچ روز میں اڑتالیس ہزار نئے مہاجرین

یورپی یونین کے رکن اور پہلے ہی سے لاکھوں مہاجرین کی آمد کے باعث شدید بحران کے شکار ملک یونان کی ملکیت مختلف جزائر پر صرف پانچ روز کے دوران اڑتالیس ہزار نئےمہاجرین پہنچے، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔

جنیوا سے جمعہ تئیس اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت IOM کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ غیر محفوظ سمندری سفر اور خراب تر ہوتے ہوئے موسمی حالات کے باوجود اس ہفتے محض پانچ دنوں کے دوران قریب 48 ہزار نئے مہاجرین اور تارکین وطن ترکی سے یونان کے مختلف سمندری جزیروں پر پہنچے۔

آئی او ایم کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اکتوبر کی 17 سے لے کر 21 تاریخ تک بحیرہ روم میں یونانی جزائر پر ہر روز اوسطاﹰ قریب نو ہزار چھ سو مہاجرین پہنچے اور پانچ دنوں میں ایسے نئے تارکین وطن کی تعداد 48 ہزار تک پہنچ گئی۔

ان پانچ دنوں میں سے بھی منگل بیس اکتوبر کا دن خاص طور پر ایک نیا ریکارڈ ثابت ہوا، جب صرف 24 گھنٹوں کے دوران قریب 11 ہزار نئے مہاجرین خطرناک سمندری سفر کے بعد ترکی سے یونانی جزیروں کے ساحلوں تک پہنچے۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق چند ہی دنوں میں اتنی بڑی تعداد میں نئے مہاجرین کی یونان آمد کے لیے کئی جزیروں پر مقامی حکام قطعی تیار نہیں تھے اور اسی لیے انہیں شدید انتظامی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

ترکی سے یونان پہنچنے والے ان نئے مہاجرین میں سے نصف سے زائد یونانی جزیرے لیزبوس کے ساحلوں پر اترے اور پانچ دنوں میں ان کی تعداد 27 ہزار 276 رہی۔ اس کے علاوہ انہی پانچ دنوں میں ایک اور یونانی جزیرے چِی اوس Chios تک پہنچنے والے نئے مہاجرین کی تعداد بھی 10 ہزار سے کچھ ہی کم رہی۔

عالمی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق گزشتہ برسوں میں یہ دیکھا گیا تھا کہ سردیوں میں بحیرہ روم کے راستے یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد کافی کم ہو جاتی تھی۔ لیکن اس ہفتے یہ تعداد بھرپور گرمیوں میں دیکھی جانے والی شرح سے بھی کہیں زیادہ رہی۔

اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ماضی میں اگر بھرپور گرمیوں کے موسم میں چِی اوس کے جزیرے پر ہر روز قریب 300 تک نئے تارکین وطن پہنچتے تھے، تو اس ہفتے یہ تعداد دو ہزار روزانہ تک پہنچ گئی۔

یہ 48 ہزار نئے مہاجرین ان چھ لاکھ سے زائد تارکین وطن میں شامل ہیں، جو اس سال کے دوران اب تک انتہائی پرخطر سمندری سفر کر کے بحیرہ روم کے راستے یورپی یونین میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان میں بہت بڑی اکثریت شامی، عراقی اور افغان باشندوں کی ہے۔

سمندری راستوں سے غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے ان لاکھوں مہاجرین اور تارکین وطن میں سے اب تک 3175 ڈوب کر ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ آئی او ایم کے مطابق اس سال یکم جنوری سے اب تک ترکی سے یونانی ساحلوں تک پہنچنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 335 بنتی ہے۔ اسی طرح لیبیا سے طویل سمندری سفر کے بعد اٹلی پہنچنے کی کوشش میں بحیرہ روم کے پانیوں میں ڈوب جانے والے تارکین وطن کی تعداد تو 2800 سے تجاوز کر چکی ہے۔

DW.COM