نگرانی کے خفیہ پروگرام سے پردہ اٹھانے والے کا انکشاف | حالات حاضرہ | DW | 10.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نگرانی کے خفیہ پروگرام سے پردہ اٹھانے والے کا انکشاف

سی آئی اے کے ایک سابق ملازم نے انکشاف کیا ہے کہ نگرانی کے خفیہ امریکی پروگراموں کو اس نے عام کیا، جن کے بارے میں معلومات ایک برطانوی اخبارات نے شائع کیں۔

29 سالہ ایڈورڈ اسنوڈین نے اتوار کو تسلیم کیا ہے کہ امریکی قومی سلامتی کے ادارے (نیشنل سکیورٹی ایجنسی) کی جانب سے فون اور انٹرنیٹ ریکارڈ کی نگرانی سے متعلق معلومات برطانوی اخبار گارڈین کو اس نے دی تھیں۔

اسنوڈین نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے لیے کام کرتا ہے۔ اس نے ایک ویڈیو پیغام میں اپنی شناخت ظاہر کی ہے جو گارڈین کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہے۔ اس اخبار کا کہنا ہے کہ ویڈیو اسنوڈین کی درخواست پر جاری کی گئی ہے۔

اسنوڈین کا کہنا ہے: ’’میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ خود کو چھپاؤں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔‘‘

اس نے مزید کہا: ’’میرا واحد مقصد عوام کو یہ بتانا ہے کہ ان کے نام پر کیا کیا جا رہا ہے اور ان کے خلاف کیا کیا جا رہا ہے۔‘‘

Apple Logo in Hong Kong

این ایس اے اور ایف بی آئی کو ایپل سمیت نو بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں کے سرورز تک رسائی حاصل ہے، رپورٹ

اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ کھونے کو تیار ہے ’’کیونکہ میں اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق امریکی حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ نگرانی کی اس بھاری مشین کو خفیہ طور پر قائم کرتے ہوئے اس سے دنیا بھر میں لوگوں کی پرائیویسی، انٹرنیٹ کی آزادی اور بنیادی آزادیوں کو تباہ کرے۔‘‘

اسنوڈین امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے میں ٹیکنیکل اسسٹنس کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ وہ ہوائی میں این ایس اے کے ایک دفتر میں کام کر رہا تھا جہاں سے اس نے گارڈین کو فراہم کرنے کے لیے دستاویزات کاپی کیں۔

وہ 20 مئی کو امریکا سے فرار ہو گیا تھا اور اس وقت ہانگ کانگ کے ایک ہوٹل میں قیام پذیر ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے یہ شہر اس لیے منتخب کیا ہے کیونکہ وہاں آزادئ اظہار اور سیاسی انحراف سے گہری وابستگی پائی جاتی ہے۔

اسنوڈین کی جانب سے فراہم کردہ خفیہ معلومات گزشتہ ہفتے سب سے پہلے گارڈین میں شائع ہوئیں۔ ان کے مطابق این ایس اے لاکھوں افراد کا ٹیلی فون ریکارڈ اور انٹرنیٹ ڈیٹا جمع کر رہی ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ گفتگو کا ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔

گزشتہ جمعرات کو گارڈین اور واشنگٹن پوسٹ نے ایک رپورٹ شائع کی جس کے مطابق این ایس اے اور امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کو گُوگل، یاہو، فیس بُک اور ایپل سمیت نو بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں کے سرورز تک رسائی بھی حاصل ہے۔

ng/aba(AFP, Reuters, AP, dpa)