نِیس حملہ: اولانڈ تنقید کی زد میں | حالات حاضرہ | DW | 19.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نِیس حملہ: اولانڈ تنقید کی زد میں

فرانسیسی شہر نِیس میں دہشت گردانہ حملے کے بعد فرانسیسی حکومت پر سکیورٹی معاملات چلانے کے حوالے سے تنقید میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ڈی ڈبلیو کی الزبتھ برائنٹ کے مطابق صدر اولانڈ کی مقبولیت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

برائنٹ کے تجزیے کے مطابق اگر گزشتہ برس نومبر میں پیرس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد یک جہتی اور آزادی اظہار کو فروغ حاصل ہوا تھا تو فرانس کے یوم آزادی پر نِیس میں ہونے والے حملے کے بعد لوگوں میں غم و غصہ اور تفریق بڑھ رہی ہے۔

جمعرات 14 جولائی کو نِیس کے ساحل پر آتش بازی کا مظاہرہ دیکھنے والوں پر ایک تیونسی نژاد فرانسیسی شہری نے ٹرک چڑھاتے ہوئے سوا کلومیٹر سے زائد فاصلے تک لوگوں کو روندتا چلا گیا تھا۔ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے 84 افراد کی یاد میں فرانسیسی پرچم تین روز تک سر نگوں رکھا گیا۔ تاہم گزشتہ برس کے حملے کے بعد فرانسیسی صدر کو لوگوں کی طرف سے جو بے مثال حمایت ملی تھی اس حملے کے بعد وہ تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہے۔

سست ہوتی ہوئی معیشت اور روزگار کے حوالے بڑھتے تحفظات کے ساتھ ساتھ اب ملک میں سلامتی کی صورتحال پر بھی لوگوں کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اور یہی معاملہ اب آئندہ برس ہونے والے انتخابات کے حوالے سے ایک بڑا مسئلہ بھی بن کر ابھرا ہے۔

آج منگل کے 19 جولائی کو فرانسیسی پارلیمان، حکومت کی طرف سے ملک میں نافذ ایمرجنسی کی مدت مزید تین ماہ کے لیے بڑھانے کے معاملے پر غور کر رہی ہے۔ کنزرویٹو ارکانِ پارلیمان اسے طویل اور مزید سخت بنانے کے حامی ہیں، حالانکہ بعض ارکانِ پارلیمان کا خیال ہے کہ اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ یہ ایمرجنسی نِیس میں حملے کی راہ نہیں روک سکی۔

ںیس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 84 افراد ہلاک ہوئے

ںیس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 84 افراد ہلاک ہوئے

ناقدین سکیورٹی میں خامیوں کی ذمہ داری صدر اولانڈ کی حکومت پر عائد کرتے ہیں اور الزام عائد کرتے ہیں کہ حکومت نے گزشتہ برس ہونے والے حملوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ تاہم دیگر کا خیال ہے کہ یہ مسئلہ صرف فرانس ہی کو درپیش نہیں ہے بلکہ دیگر ممالک بھی اس طرح کے حملوں کی زد میں ہیں۔

آئندہ برس ہونے والے انتخابات میں صدر اولانڈ کے ممکنہ حریف ان کی ذات کو ایک ایسے صدر کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو کنٹرول کھو چکا ہے۔ دوسری طرف فرانسیسی حکام کی طرف سے ملک میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں ان پر اعتراضات بھی کیے جا رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کا دعویٰ ہے کہ ملک میں نافذ ایمرجنسی کے سبب انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا راستہ کھُل گیا ہے اور سکیورٹی ادارے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کر کے لوگوں کو حراست میں رکھ سکتے ہیں۔ فرانسیسی پارلیمان کی طرف سے کرائے جانے والے ایک جائزے کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ سے ملک میں دہشت گردی کا راستہ روکنے کے حوالے سے بہت ہی کم فائدہ ہوا ہے۔