نيٹو افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان کا مستقبل کيا ہوگا؟ | حالات حاضرہ | DW | 26.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نيٹو افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان کا مستقبل کيا ہوگا؟

افغانستان سے سن 2014 ميں نيٹو افواج کے ممکنہ انخلاء کے حوالے سے افغان شہری بے يقينی کا شکار ہيں اور ان ميں يہ خوف پايا جاتا ہے کہ کہیں ملک ميں ايک مرتبہ پھر خانہ جنگی نہ شروع ہو جائے۔

خبر رساں ادارے اے ايف پی کے مطابق تجزيہ نگاروں کا ماننا ہے کہ 2014ء ميں نيٹو افواج کے انخلاء کے وقت کسی مؤثر امن معاہدے کی عدم موجودگی کے نتيجے ميں افغانستان ايک مرتبہ پھر خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے ميں افغان عوام ان دنوں خدشات اور بے يقينی کا شکار ہیں۔

دارالحکومت کابل کے 52 سالہ محمد گل کو ملکی سکیورٹی اہلکاروں پر بالکل اعتماد نہيں ہے۔ ان کا کہنا ہے، ''کسی بم دھماکے کی صورت ميں افغان پوليس اور فوجی اہلکار کچھ نہيں کر سکتے‘‘۔ محمد گل کے بقول بين الاقوامی افواج کے انخلاء کے بعد ملک ايک مرتبہ پھر فسادات کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

اے ايف پی کے مطابق واشنگٹن اس بات کا خواہاں ہے کہ سن 2014 ميں افغانستان سے بين الاقوامی افواج کے انخلاء تک ملک اس حد تک مستحکم ہو جائے کہ وہ اپنی سکیورٹی سے جڑے مسائل خود حل کر سکے اور امريکا کا کردار کم سے کم رہ جائے۔ البتہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران رونما ہونے والے واقعات کے باعث، جن ميں بگرام ايئر بيس پر قرآن سوزی اور قندھار ميں مبينہ طور پر ايک امريکی فوجی کے ہاتھوں سولہ افغان باشندوں کا قتل شامل ہیں دونوں ممالک کے تعلقات ان دنوں بے يقينی کا شکار ہيں۔ قندھار کے واقعے کے بعد افغان صدر حامد کرزئی نے افغانستان کے دور دراز علاقوں سے نيٹو افواج کے انخلاء کے احکامات بھی جاری کر ديے ہيں۔

افغان عوام ان دنوں خدشات اور بے يقينی کا شکار ہیں

افغان عوام ان دنوں خدشات اور بے يقينی کا شکار ہیں

دوسری جانب پير کو انٹرنيشنل کرائسس گروپ نامی تھنک ٹينک کی ايک رپورٹ ميں اس بات کا انکشاف کيا گيا ہے کہ طالبان اور ديگر باغی گروپوں کے ساتھ امن کے قيام کے حوالے سے افغان حکومت کی کوششيں رنگ نہيں لائيں گی۔ خبر رساں ادارے اے ايف پی کے مطابق قندھار ميں امريکی فوجی اہلکار کے ہاتھوں افغان شہریوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد طالبان نے مذاکراتی عمل کو معطل کر ديا تھا۔ اس پيش رفت کے نتيجے ميں تجزيہ کاروں کا ماننا ہے کہ طالبان نيٹو افواج کے انخلاء کی تاک لگائے بيٹھے ہيں جس کے بعد وہ ممکنہ طور پر ايک مرتبہ پھر افغانستان ميں زور پکڑ سکتے ہیں۔

اگرچہ افغانستان ميں موجود امريکی افواج کے سربراہ جنرل جان ايلن نے گزشتہ ہفتے کانگريس کو ديے گئے اپنے ايک بيان ميں افغان افواج سے متعلق حکمت عملی پر اطمینان کا اظہار کيا تھا، سلامتی کے ایک آزمودہ کار مشیر نے اس سلسلے ميں عدم اعتمادی کا مظاہرہ کيا۔ اس مشیر کے مطابق، 'افغان افواج کی زمينی کاروائيوں پر نظر ڈالی جائے تو يہ بات ظاہر ہے کہ ان کی استعداد زيادہ خاص نہيں ہے‘۔ اس اہلکار کے بقول دو سال کے بعد نيٹو افواج کے انخلاء کے بعد افغان سکیورٹی فورسز ملکی سکیورٹی آپريشنز کی ديکھ بھال کرنے کے لائق نہيں ہيں۔

انٹرنيشنل کرائسس گروپ کی رپورٹ کے باوجود امريکی سفارت خانے کے نمائندے گيون سنڈوال کا کہنا ہے کہ امريکا دہشت گردوں کے خلاف لڑائی ميں افغانستان کی مدد جاری رکھے گا تاکہ وہ افغانستان کو ايک مرتبہ پھر اپنا ٹھکانہ نہ بنا ليں۔

رپورٹ: عاصم سليم

ادارت: حماد کيانی

ملتے جلتے مندرجات