نوجوان لڑکی آنا، محبت بھی چاہیے خدا بھی | مکالمہ | DW | 25.03.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مکالمہ

نوجوان لڑکی آنا، محبت بھی چاہیے خدا بھی

ایلکے میولر  اپنی بیٹی کو بچانے کی کوششوں میں ہیں۔ ان کی بیٹی ایک نوجوان افغان کے عشق میں مبتلا ہو کر اسلام قبول کر چکی ہیں اور والدہ کو خوف ہے کہ ان کی بیٹی شدت پسندانہ راستے پر نکل سکتی ہے۔

 

ایلکے میولر نے کہا کہ وہ خود کو بہت تنہا محسوس کر رہی ہیں۔  وہ ابھی سے اس دن کے خوف کا شکار ہیں، جب ان کی بیٹی آنا اٹھارہ برس کی ہو جائیں گی۔  ایلکے میولر کہتی ہیں، " جب وہ (آنا) اٹھارہ کی ہو جائے گی، تو میں قانونی طور پر اسے کسی کام سے نہیں روک سکتی۔"

ایلکے میولر کو خوف ہے کہ اٹھارہ برس کی ہوتے ہی آنا اپنی پہلی "سچی محبت" عبدل کے ساتھ شادی کر لے گی۔ ایلکے میولر کو خوف ہے کہ وہ اس طرح اپنی بیٹی کھو دیں گی۔

آنا کو معلوم نہیں ہے کہ ان کی والدہ نے اس معاملے پر پریس سے بات چیت کی ہے۔ ایلکے میولر بھی نہیں چاہتیں کہ آنا کو اس کا علم ہو۔ اسی لیے یہاں ماں بیٹی کا نام تبدیل کر کے لکھا جا رہا ہے، تاہم یہ کہانی سچی ہے۔

ایلکے میولر نے اپنی بیٹی آنا کی تصاویر دکھائیں۔ آنا کے بچپن کی ان تصاویر میں لمبے بالوں والی ہنستی کھیلتی آنا دکھائی دے رہی ہے۔ تازہ تصاویر جو آنا نے اپنے شناختی کارڈ کے لیے بنائیں، ان میں آنا نہایت سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے، جب کہ اس نے ایک ہیڈاسکارف سے اپنا سر ڈھانپا ہوا ہے۔

ایلکے میولر آنا اور آنا کی بڑی بہن کے ہم راہ مغربی جرمن ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں رہائش پذیر ہیں۔ آنا ابھی کنڈرگارٹن میں تھی، جب ایلکے میولر نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ آنا کی تربیت ایک پروٹسٹنٹ گھرانے میں ہوئی، مگر یہ خاندان باقاعدگی سے چرچ نہیں جاتا۔ والدہ آنا کا بچپن یاد کرتی ہیں جب آنا چرچ کی تقریبات میں شوق سے جایا کرتی تھی۔

پہلی محبت

جب آنا چودہ برس کی تھی، تو اس کی ملاقات افغان نوجوان عبدل سے ہو گئی۔ ایلکے کہتی ہیں کہ وہ بڑی بھوری آنکھوں والا خوب صورت نوجوان ہے۔ عبدل سن 2015 میں بطور مہاجر کم سن اور تنہا جرمنی پہنچنے والوں میں سے ایک تھا۔ وفاقی جرمن ادارہ برائے مہاجرین اور پناہ گزین BAMF کے مطابق سن 2015 میں ساڑھے سات ہزار ایسے بچے جرمنی پہنچے تھے، جن کے ساتھ ان کے ماں باپ یا رشتہ دار نہیں تھے۔

پشتو عبدل کی مادری زبان ہے اور جب آنا کی ملاقات اس کے ساتھ ہوئی تو تب عبدل ٹوٹی پھوٹی جرمن بولتا تھا اور اس کے پاس اسکول لیونگ سرٹیفیکیٹ بھی نہیں تھا۔ اس نے سیاسی پناہ کی درخواست دی، جو مسترد ہو گئی۔ تب سے اس کا جرمنی میں قانونی اسٹیٹس مسائل کا شکار ہے۔ اب وہ 19 برس کا ہو چکا ہے اور اسے کسی بھی وقت افغانستان واپس بھیجا جا سکتا ہے۔

ایلکے میولر عبدل کے لیے ہم دردی رکھتی ہیں، " میرے دل میں عبدل کے لیے مادرنہ جذبات پیدا ہو گئے۔"ایلکے کہتی ہیں کہ انہوں نے تو عبدل کو اپنی بیٹی کے بوائے فرینڈ کے طور پر اپنے گھر میں خوش آمدید تک کہا اور متعدد فیملی تقریبات میں مدعو بھی کیا۔

ایلکے میولر تاہم بتاتی ہیں کہ عبدل سے ملنے کے بعدآنا بالکل تبدیل ہو گئی۔مگر ساتھ ہی والدہ کو اس رابطے سے کچھ الجھن بھی ہونے لگی۔ آنا میں تبدیلی پر ایلکے پریشان تھی۔آنا نے ہیڈاسکارف پہنا شروع کر دیا اور عبادت شروع کر دی۔ ایلکے میولر کہتی ہیں کہ انہوں نے اس بارے میں عبدل سے پوچھا تو اس کا کہنا تھا کہ اس نے آنا سے ایسا کچھ کرنے کو نہیں کہا تھا بلکہ یہ آنا کا ذاتی فیصلہ ہے۔

ایلکے میولر بتاتی ہیں کہ آنا کی عمر 15 برس تھی، جب اس نے کہا کہ وہ اسلام قبول کرنا چاہتی ہے۔ تب تک اسے عبدل سے عشق میں مبتلا ہوئے نو ماہ ہو چکے تھے۔ اس نے اسلام کے بارے میں مزید پڑھنا شروع کر دیا۔ ایلکے میولر نے بتایا کہ آنا انٹرنیٹ پر مختلف اسلامی مواد پڑھتی تھی، جس میں مختلف سلفی تبلغی افراد کی ویڈیوز بھی شامل تھیں۔

واضح رہے کہ سلفی ازم اسلام کی شدید نوعیت کی تشریات پر مبنی ہے، جس میں یہ افراد قرآن کی کئی ایسی تشریحات کرتے ہیں، جن کو دیگر مسلمان شدت پسندانہ قرار دے کر مسترد کرتے ہیں۔

جرمنی میں بہت سے سلفی مسلمان جرمن دستور ہی کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ وہ فقط شرعی قوانین کے تحت زندگی گزاریں گے۔

جرمنی کے داخلی خفیہ ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبے   نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں  تین ہزار سلفی موجود ہیں، جن میں سےآٹھ سو کو شدت پسندی کے زمرے میں ڈالا جات ہے۔ یہ وہ افراد ہیں جو تشدد کو جائز عمل سمجھتے ہیں۔ ان ویب سائٹس کو دیکھ کر ایلکے میولر پریشان ہو گئیں اور بقول ان کے وہ خود سے پوچھتی تھیں کہ ایسی صورت حال میں انہیں کیا کرنا چاہیے۔

ایلکے میولر نے اس سلسلے میں ابتدا میں پروٹیسٹنٹ کونسلنگ سیٹر سے مدد طلب کی پھر صوبے کے ایک شہر بوخم میں قائم ایک تنظیم گرینزگینگنر یا  "سرحد عبور کرنے والے"سے رجوع کیا۔ ایسے نوجوان جو مذہبی شدت پسندی کی جانب راغب ہوں، ان کے والدین یا رشتے دار اس تنظیم سے رابطہ کرتے ہیں۔ اس تنظیم جرمن ریاست کی مالی اعانت سے خدمات انجام دے رہی ہے۔

اس تنظیم میں سماجی کارکن، ماہرین نفسیات اور مسلم اسکالرز شامل ہیں اور سن 2012 سے کام کرنے والا یہ ادارہ اب تک ایسے کئی سو معاملات سے نمٹ چکا ہے۔ اس ادارے سے وابستہ سماجی کارکن سوزانے وَٹمان کہتی ہیں کہ ایلکے میولر نےآنا کے شدت پسندی کی جانب بڑھنے کےآغاز پرہی اس ادارے سے رابطہ کر لیا تھا اور آنا سے گفت گو سے ہی اندازہ ہو گیا کہ وہ شدت پسندانہ سوچ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ "جب نوجوان اپنے طور پر اسلام سے متعلق انٹرنیٹ پر معلومات کی تلاش شروع کرتے ہیں، تو یہ ہمیشہ غلط لوگوں تک جا پہنچتے ہیں۔"

یہاں غلط افراد سے وِٹمان کی مراد شدت پسند سلفی ہیں، جو کئی برسوں سے آن لائن ذرائع سے نئی بھرتیوں میں مصروف ہیں اور ان کا سب سے اہم ہدف نوجوان ہی ہیں۔ یہ شدت پسند نوجوانوں کو بھرتی کر کے عراق اور شام میں شدت پسند گروہوں میں شامل کرواتے رہے ہیں۔

اسلامی تعلیم ایک محفوظ ماحول میں

گرینزگینگنر تنظیم کے ماہرین ایلکے میولر کے گھر پہنچے، جہاں انہوں نے آنا سے ملاقات کی۔ اس تنظیم سے وابستہ سماجی کارکن وِٹمان بتاتی ہیں کہ آنا اسلام کے بارے میں اپنے تجسس پر قائم تھی، تاہم اس کا کوئی مضبوط موقف نہیں تھا، یعنی وہ اب بھی مختلف نظریات سے متاثر ہو سکتی تھی۔"یہ اچھی بات تھی، کیوں کہ اس طرح اس سے بات کرنا آسان تھا۔ "

اس تنظیم نے آنا کو اعتدال پسند نظریات والی ایک مسجد تک رہنمائی کی جہاں آنا خواتین کے ایک گروپ میں شامل ہو گئیں۔ اس گروپ کی لیڈر آنا کی ذاتی استاد بن گئیں اور اس طرح آنا کو اسلام سمجھنے کی خواہش کا بھی احترام ہو گیا اور اسے شدت پسندوں کے ہاتھ لگنے سے بھی بچا لیا گیا۔

اب ایلکے میولر کے لیے واحد پریشانی یہ ہے کہ عبدل اپنی بیمار ماں کی دیکھ بھال کے لیے واپس افغانستان جانا چاہتا ہے اور اگر وہ وہاں چلا جاتے ہے اور آنا اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کراس کے ساتھ چل دیتی ہے، تو کیا ہو گا۔آنا تاہم اپنی والدہ کو بتا چکی ہیں کہ ان کا جرمنی چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ وہ جرمنی ہی میں عبدل کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔

مگرآنا کی اٹھارہویں سال گرہ جوں جوں قریب آ رہی، اس کی والدہ کا خوف بڑھتا جا رہا ہے۔

 ایستھر فیلڈن، ع ت