نوبل انعام یافتہ کیمیا دان: غربت، بیماری کی حالت میں انتقال | سائنس اور ماحول | DW | 11.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

نوبل انعام یافتہ کیمیا دان: غربت، بیماری کی حالت میں انتقال

نوبل انعام یافتہ امریکی کیمیا دان رچرڈ ہَیک چوراسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ انہیں صرف ڈھائی ہزار ڈالر ماہانہ پینشن ملتی تھی اور طویل بیماری پر اٹھنے والے مسلسل اخراجات کے باعث وہ تقریباﹰ دیوالیہ ہو چکے تھے۔

Alternativer Nobelpreis Stockholm 2010

نوبل روایت: رچرڈ ہَیک سٹاک ہوم نوبل میوزیم میں اس کرسی کے ساتھ جس پر انہوں نے 2010ء میں دستخط کیے تھے

نیوز ایجنسی روئٹرز نے بتایا ہے کہ 2010ء میں جاپان کے دو دیگر سائنسدانوں کے ہمراہ کیمسٹری کا نوبل انعام پانے والے رچرڈ ہَیک کا انتقال فلپائن میں ہوا۔ ان کے انتقال کی تصدیق ان کی فلپائن سے تعلق رکھنے والی مرحومہ اہلیہ کے ان رشتے داروں نے کی، جو لمبے عرصے سے ان کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔

پانچ سال قبل جاپانی سائنسدانوں آئی ایچی نیگیشی اور آکیرہ سوزوکی کے ہمراہ کیمیا کا نوبل انعام پانے والے رچرڈ ہَیک کا انتقال ہفتہ دس اکتوبر کے روز فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں ہوا۔ اس نامور امریکی سائنسدان نے کاربن کے ایٹموں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے نئے طریقے ایجاد کیے تھے اور ان کی یہ تحقیق بعد ازاں خاص طور پر سرطان کے موذی مرض کے خلاف نئی ریسرچ اور بہت پتلی کمپیوٹر اسکرینز کی تیاری میں فیصلہ کن انداز میں استعمال کی گئی تھی۔

DW.COM

رچرڈ ہَیک طویل عرصے تک امریکا کی یونیورسٹی آف ڈیلاویئر سے منسلک رہے تھے، جہاں انہوں نے 60ء کی دہائی سے لے کر 70ء کے عشرے کے شروع کے سالوں تک تحقیق کرتے ہوئے پیلاڈیئم کے بطور عمل انگیز استعمال کا وہ طریقہ ایجاد کیا تھا، جو بعد میں کیمسٹری کا ’ہَیک ری ایکشن‘ کہلایا۔ ان کے ساتھ نوبل انعام پانے والے دونوں جاپانی سائنسدانوں نے بھی اسی کیمیائی عمل پر لیکن 1970ء کی دہائی کے آخر میں تحقیق کی تھی۔

ہَیک نے فلپائن سے تعلق رکھنے والی سوکورو ناردو نامی خاتون سے شادی کی تھی اور 2006ء میں اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ہَیک اپنی بیوی کے ساتھ فلپائن منتقل ہو گئے تھے، جہاں ان کی اہلیہ کا ہَیک کو نوبل انعام ملنے کے دو سال بعد 2012ء میں انتقال ہو گیا تھا۔

رچرڈ ہَیک اور سوکورو ناردو کی کوئی اولاد نہیں تھی اور سوکورو کے انتقال کے بعد منیلا میں سوکورو کے بھتیجے مائیکل ناردو اور چند دیگر رشتے ہی مستقل طور پر رچرڈ ہَیک کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے۔ مائیکل ناردو نے روئٹرز کو بتایا کہ ہَیک اپنی اہلیہ کے انتقال کے بعد اکثر بہت پژمردہ رہا کرتے تھے اور 2013ء سے وہ کئی بار طویل عرصے تک مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج بھی رہے تھے۔

مائیکل ناردو نے بتایا، ’’رچرڈ ہَیک ذیابیطس کے علاوہ سانس کی بیماری اور معمولی ڈمنشیا کے مریض بھی تھے اور حالیہ مہینوں میں دو ذاتی نرسیں ہر روز بارہ بارہ گھنٹوں کے لیے ان کی مستقل دیکھ بھال کیا کرتی تھیں۔‘‘

رچرڈ ہَیک کی آنجہانی اہلیہ کے بھتیجے نے مزید بتایا، ’’وہ صرف اپنی ڈھائی ہزار ڈالر ماہانہ پینشن میں گزارہ کرتے تھے۔ طویل بیماری کے علاج پر اٹھنے والے اخراجات کے باعث ان کے پاس کچھ نہیں بچا تھا۔ وہ تقریباﹰ دیوالیہ پن کی زندگی گزار رہے تھے۔‘‘ مائیکل ناردو کے بقول، ’’اتنے بڑے سائنسدان اور اپنی تحقیق سے انسانیت کی بڑی خدمت کرنے والے رچرڈ ہَیک کی ان حالات میں موت بڑے افسوس کی بات ہے۔‘‘