نواز شریف کی والدہ انتقال کر گئيں | حالات حاضرہ | DW | 22.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

نواز شریف کی والدہ انتقال کر گئيں

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کی عمر 90 برس تھی۔

سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اور ملکی پارلیمان میں اپوزیشن کے سربراہ محمد شہباز شریف کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کا انتقال لندن میں ہوا ہے۔

نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ  بیگم شمیم اختر کے انتقال کی خبر پاکستان مسلم لیگ نون کے ایک رہنما عطا اللہ تارڑ نے ایک ٹوئیٹر پیغام کے ذریعے دی۔ اس ٹوئیٹ میں انہوں نے لکھا، ''میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی قابل احترام والدہ انتقال کر گئی ہیں۔‘‘

بیگم شمیم اختر کافی عرصے سے علیل تھیں اور وہ لندن میں زیر علاج تھیں۔ اطلاعات کے مطابق نواز شریف کی والدہ کا انتقال ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں اتوار کی صبح کے وقت ہوا، جہاں وہ نواز شریف اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ رہائش پذیر تھیں۔

عطا اللہ تارڑ نے پاکستانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتايا کہ بیگم شمیم اختر کے انتقال کی خبر پاکستان مسلم لیگ کے صدر سميت شہباز شریف اور ان کے برخوردار حمزہ شہباز کو دے دی گئی ہے، جو ان دنوں مختلف کیسز کے سلسلے میں زیر حراست ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں درخواست جمع کرائی جائے گی کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پیرول پر رہائی کی اجازت دی جائے تاکہ وہ جنازے میں شرکت کر سکیں۔

بیگم شمیم اختر کے انتقال کے بعد ٹوئیٹر پر متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے شریف خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ ايک ٹوئیٹ کے مطابق، ''پاکستانی فوج کے سربراہ نے میاں محمد نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔‘‘
اطلاعات کے مطابق بیگم شمیم اختر کی میت لندن سے لاہور لائی جائے گی جہاں انہیں شریف خاندان کے آباؤ اجداد کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا نواز شریف اور ان کے بیٹے حسن اور حسین بیگم شمیم اختر کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے پاکستان آئیں گے یا نہیں۔