نواز شریف نا اہل ہی ہیں، نظر ثانی درخواست مسترد | حالات حاضرہ | DW | 15.09.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نواز شریف نا اہل ہی ہیں، نظر ثانی درخواست مسترد

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے آج جمعے کے روز پاناما پیپرز کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے دائر اٹھائیس جولائی کے نااہلی کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

سن دو ہزار سولہ میں پاناما پیپرز کے منظر عام پر آنے کے بعد نواز شریف، اُن کے صاحبزادوں، بیٹی مریم اور اُن کے شوہر کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر سمیت مسلم لیگ نون کے رہنما اسحاق ڈار کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہوا تھا اور اٹھائیس جولائی سن 2017 کو ملکی عدالت عظمیٰ نے اُنہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔

یہ درخواستیں نواز شریف، حسن، حسین، مریم نواز، کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر اور اسحاق ڈار کی جانب سے دائر کرائی گئی تھیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کے اس فیصلے کے برقرار رہنے سے اگلے سال عام انتخابات پر اثر پڑے گا۔

آج نظرثانی کی درخواستوں کا مختصر فیصلہ پانچ رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سنایا۔  بنچ کے بقیہ ارکان ججوں میں  جسٹس اعجاز افضل، جسٹس اعجاز الحسن، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس شیخ عظمت سعید شامل تھے۔ ان کے مطابق عدالت اگلے ہفتے کے دوران  نظرثانی کی درخواستوں کا تفصیلی فیصلہ منظر عام پر لایا جائے گا۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا نواز شریف مخصوص وقت کے لئے، چند سالوں کے لیے یا ہمیشہ کے لیے نا اہل قرار پائے ہیں۔

نظرِثانی کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد نواز شریف اور انکی بیٹی مریم نواز کے لیے حالات کچھ سازگار ثابت نہیں ہوتے دکھائی دے رہے، مریم نواز حکمران پارٹی کی رہنما کے طور پر اپنے والد سے تربیت حاصل کر تی رہی ہیں اور پارٹی کی جانب سے آئندہ الیکشن کی مضبوط امیدوار ہیں۔

حکمران پارٹی مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ کے اس  فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک میں اپنی رائے کا استعمال کرنے والے ووٹرز کے منہ پر یہ فیصلہ ایک طمانچے سے کم نہیں ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور وفاقی وزیر انوشہ رحمان نے اس موقع پر کہا ،’’ غیر جانبدار اور منصفانہ فیصلہ سب کا حق ہے اور یہ حق پاکستان کی بیس کروڑ عوام کے حق رائے دہی سے  نواز شریف اور انکے خاندان کو بھی حاصل ہونا چاہیے ۔‘‘

اسی سلسلے میں حزب اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیر رہنما فواد چودھری نے کہا،’’ یہ فیصلہ اس بات کی گواہی  ہے کہ پاکستان میں انصاف کی حکمرانی ابھی قائم ہے۔‘‘‘‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اٹھائیس جولائی کو پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد نواز شریف کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔

DW.COM