′نواز شریف بغیر ضمانتی بانڈ بیرون ملک جا سکتے ہیں‘ | حالات حاضرہ | DW | 16.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

'نواز شریف بغیر ضمانتی بانڈ بیرون ملک جا سکتے ہیں‘

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی ہے اور حکومت پاکستان کو ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی ہدایت کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ابتدائی طور پر یہ اجازت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عارضی طور پر چار ہفتوں کے لیے ہوگی لیکن اگر اس دوران نواز شریف روبصحت نہیں ہوتے تو ان کے بیرون ملک قیام کی مدت میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

اس فیصلے کے بعد عدالتی کمرے کے باہر مسلم لیگ نون کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عدالت عالیہ نے حکومت کی طرف سے شورٹی بانڈ جمع کروانے کے شرط کو نامنظور کر دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت تفصیلی فیصلے کی تحریری کاپی موصول ہونے کے بعد ہی اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

لاہور ہائی کورٹ نے ہفتے کے روز مسلم لیگ نون کے صدر میاں شہباز شریف کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست کی سماعت کی، جس میں انہوں نے وفاقی حکومت کی طرف سے نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے لیے عائد کی گئی شرائط کو چیلنج کیا تھا۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں قائم کیے گئے لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے متعدد وقفوں کے ساتھ اس کیس کی سماعت دن بھر جاری رکھی۔ اس کیس کی سماعت کے آغاز پر وفاقی حکومت کی جانب سے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر نون لیگ کو انڈیمنٹی بانڈ حکومت کی بجائے ہائیکورٹ میں جمع کروانے کی پیشکش کی گئی۔ لیکن اسے شہباز شریف کے وکلا نے تسلیم نہیں کیا۔

سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے حوالے سے ان کے بھائی شہباز شریف نے اپنے بیان حلفی کا تحریری ڈرا فٹ عدالت میں جمع کروایا کہ نواز شریف پاکستان کے ڈاکٹروں کی سفارش پر بیرون ملک جارہے ہیں اور بیرون ملک ڈاکٹر جیسے ہی اجازت دیں گے نواز شریف فوری وطن واپس آ جائیں گے۔ بیان کے مطابق نواز شریف صحت مند ہوتے ہی وطن واپس آ کر اپنے عدالتی کیسز کا سامنا کریں گے۔

دوسری طرف سرکاری وکیل کی جانب سے بھی عدالت میں بیان حلفی کے لیے ایک ڈرافٹ دیا گیا۔ اس کے مطابق نواز شریف طبی بنیادوں پر بیرون ملک جائیں گے، ڈاکٹرز کی جانب سے اجازت کے فوری بعد نواز شریف واپس آ جائیں گے،'' وفاقی حکومت جب چاہے گی نواز شریف کو واپس آنا ہو گا، شہباز شریف بیان حلفی دیں کہ نواز شریف واپس نہیں آتے تو جرمانے کی رقم ادا کریں گے۔‘‘

فریقین کی طرف سے ایک دوسرے کے ڈرافٹ کو مسترد کر دینے کے بعد عدالت نے اپنا ڈرافٹ تیارکیا، اس میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف چار ہفتے کے لیے ملک سے باہر علاج کے لیے جا سکتے ہیں اگر وہ اس کے بعد بھی صحت یاب نہیں ہوتے تو پھر بیرون ملک قیام کی مدت کو بڑھایا جا سکے گا۔ اس دوران ہائی کمیشن کا کوئی افسر نواز شریف سے ملاقات بھی کر سکے گا۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ روز حکومت اور نیب کی طرف سے عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے کا موقف مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ کیس سننے اور فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے ممتاز صحافی مظہر عباس نے بتایا کہ ہفتے کے روز عدالتی محاذ پر ہونے والی دونوں جماعتوں کی تگ و دو سے پتا چلتا ہے کہ تحریک انصاف نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کو کسی مبینہ ڈیل کے تاثر کی نفی کرنا چاہتی تھی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کو کارکنوں کو مطمئن کرنے کے لیے گارنٹی کا قدم اٹھانا پڑا۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ نون بھی یہ نہیں چاہتی تھی کہ حکومت نواز شریف کی بیماری کی آڑ میں ان سے بانڈ لے کر ان کی کرپشن کے حوالے سے پوائنٹ سکورنگ کرے۔

 مظہر عباس کے خیال میں اگر نواز شریف کو کچھ ہو جاتا تو اس سے پاکستان تحریک انصاف کو ناقابل تلافی سیاسی نقصان پہنچ سکتا تھا۔ یہ وہ بات تھی جو حکومت کے اتحادیوں نے محسوس کر لی تھی اسی لیے چوہدری برادران اور ایم کیو ایم کی طرف سے نواز شریف کے حق میں بیانات دیکھنے میں آئے۔

DW.COM