نواز روانگی: کیا احتساب کا نعرہ پھر اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 19.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

نواز روانگی: کیا احتساب کا نعرہ پھر اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے؟

نواز شریف کی بیرون ملک روانگی پی ٹی آئی حکومت کے کرپشن کے خلاف بیانیے کے لیے بظاہر بڑا دھچکا ہے۔ کیا یہ صورتحال اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے درمیان در آنے والے فاصلوں کو ظاہر کرتی ہے؟

پی ٹی آئی کی طرف سےکرپشن کی پائی پائی وصول کرنے کے بلند بانگ دعوے تھے۔ لیکن عدالت نے سات ارب روپے کی تحریری ضمانت دینے کا حکومتی مطالبہ رد کیا اور نواز شریف علاج کے لیے ملک سے باہر چلے گئے۔ مبصرین کے نزدیک وزیراعظم عمران خان کو وہ "فیس سیونگ" نہ مل سکی جو وہ چاہ رہے تھے۔  

  ایسے میں ملک میں احتساب کے نام پر جاری پکڑ دھکڑ کے بارے میں اب یہ رائے تقویت پا رہی ہے کہ اس مہم کا زور ٹوٹ رہا ہے۔

سینئر صحاٖفی مجیب الرحمن شامی کہتے ہیں کہ کرپشن کے نام پر پچھلے کچھ عرصے میں جو سیاست کی گئی اسے دھچکا لگا ہے۔ لیکن ان کی نظر میں ریاست کے اس عمل کو نواز شریف کے باہر جانے سے نہیں بلکہ نواز شریف کو سزا سنانے والے جج کی اس ویڈیو سے نقصان پہنچا جس میں جج نے اقرار کیا کہ انہیں بلیک میل کرکے فیصلہ لکھوایا گیا۔

مبصرین کے مطابق نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے معاملے پر حکومتی تذبذب نے بھی اس کی کمزوری ظاہر کی۔ جس وقت پی ٹی آئی کے رہنما سپریم کورٹ میں جانے اور شورٹی بانڈ لینے کی باتیں کر رہے تھے، اسٹیبلشمنٹ سے قربت رکھنے والے ان کے اپنے اتحادی نواز شریف کی ملک سے روانگی کی حمایت میں بول رہے تھے۔

کیا یہ صورتحال اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے درمیان در آنے والے فاصلوں کو ظاہر کرتی ہے؟

فوج کے ترجمان نے اپنے ایک تازہ بیان میں اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور فوج ایک صفحہ پر ہیں۔

لیکن مجیب شامی کہتے ہیں کہ، "مقتدر حلقے صورتحال کو وسیع تناظر میں دیکھنے ہوئے نواز شریف کی صحت کے معاملے میں محتاط رویہ اپنائے ہوئے تھے اور ڈاکٹر فیصل سلطان کے سروسز ہسپتال کے دورے کے بعد تو خود عمران خان نے بھی اپنے ٹویٹ میں مثبت بات کی تھی۔ لیکن پھر شاید پی ٹی آئی کے سخت گیر ارکان نے عمران خان کوکڑا موقف اپنانے پر قائل کیا۔"

سینئرکالم نگار ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کا کہنا ہے کہ، "عمران خان نے نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے مسئلے پر ڈکٹیشن لینے سے انکار کیا۔  اگر انہوں نے آئندہ بھی یہی طرز عمل اختیار کیا تو انہیں استعفی دینا ہوگا یا اسمبلیاں توڑنا پڑیں گی۔"

ڈاکٹر عاصم اللہ کے بقول سیاسی مخالفین کے خلاف "اس احتسابی عمل کی نہ ساکھ تھی اور نہ ہی اسے عوامی حمایت حاصل تھی۔ ضرورت تھی تو کرپشن کا شور مچا کر احتسابی شکنجہ کسا گیا۔ اب دباؤ بڑھا ہے تو نئی ضرورتوں کے تحت یہ شکنجہ ڈھیلا کیا جارہا ہے۔"

لیکن ایسے میں پی ٹی آئی کے کرپشن کے خلاف بیانیے کا کیا بنے گا؟

سینیئر صحافی نسیم زہرہ کے خیال میں پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کرپشن نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کس طرح آئین کو چلنے دیا جائے، جمہوری اداروں کو مضبوط کیا جائے، اورکس طرح ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالا جائے۔

لیکن نسیم زہرہ کے نزدیک نواز شریف کے باہر جانے کی بڑی وجہ ان کی بیماری ہی ہے اور یہ کسی پالیسی کی تبدیلی کا اشارہ نہیں کیونکہ ان کے خلاف مقدمات ابھی قائم ہیں۔

ان کے نزدیک، "احتساب عمران خان کی حکومت کا ایجنڈہ ہے اور وہ رہے گا، ہاں البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ احتساب کے عمل کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے اور احتساب یکطرفہ نہیں ہونا چاہیئے،کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ احتساب کا عمل سیاسی انجنئرنگ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔"

DW.COM