ننھے ایلان کی لاش کی تصویر:عطیات کا ریکارڈ ٹوٹ گیا | مہاجرین کا بحران | DW | 05.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ننھے ایلان کی لاش کی تصویر:عطیات کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

یورپ میں مہاجرین کی امداد کے لیے فعال اداروں نے کہا ہے کہ نو عمر شامی مہاجر بچے کی لاش کی دل سوز تصویر نے کسی بحران یا الیمے سے دوچار افراد کے لیے یورپ میں ایک روز کے اندر اکھٹا ہونے والےعطیات کا تمام ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

غیر معمولی دباؤ کے شکار برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ برطانیہ 100 ملین پاؤنڈ کی اضافی رقم بحران زدہ عرب ملک شام کے متاثرین کے لیے ادا کرے گا۔ اس طرح شامی مہاجرین کی امداد کے لیے لندن کی طرف سے عطیات کی کُل رقم 1 بلین پاؤنڈ ہو جائے گی۔ اُدھر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے ہنگامی بنیادوں پر دو ملین یورو کے فنڈ کا اعلان کیا ہے اور یہ رقم شام اور عراق کے جنگ کے شکار مہاجرین کی امداد کا کام کرنے والے اداروں کو دی جائے گی۔ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی آئی او سی کے صدر تھوما باخ نے ایک فنڈ ریزنگ ایونٹ کے موقع پر بیان دیتے ہوئے کہا، ’’گزشتہ چند روز کے دوران دل دہلا دینے والی خبروں اور جذبات کو جھنجھوڑ دینے والے خاکوں کے منظر عام پر آنے کے بعد سے ہم سب شدید صدمے کا شکار ہوئے ہیں۔‘‘

Flüchtlingskrise Deutschland Flüchtlinge am Bahnhof in München

جرمنی میں شامی مہاجرین کی مثالی مدد کی جا رہی ہے

بحیرہ روم پر واقع ملک مالٹا میں قائم ’ Migrant Offshore Aid Station‘ کے ترجمان کرسٹیان پیریگرین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو اس بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا، ’’تین سالہ ایلان کُردی کی لاش کی تصویر نے یورپ بھر میں سیاسی لیڈروں سے لے کر عوام کے جذبات کو اس طرح جھجھوڑ کر رکھ دیا ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ یورپی حکومتیں مہاجرین کے مسائل سے نمٹنے کے لیے آپس کے اختلافات کے باوجود شامی مہاجرین کی امداد کے لیے ممکنہ اقدامات پر مجبور ہو گئی ہیں‘‘۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’یورپی عوام کا ایلان کی تصویر پر رد عمل بہت متاثر کن ہے۔ تارکین وطن کے معاملے میں پائی جانے والی بے حسی بہت تیزی سے ختم ہوئی ہے۔‘‘

مہاجرین کی مدد کرنے والا یہ گروپ خاص طور سے لیبیا سے بحیرہ روم کی طرف ہجرت کی کوشش کرنے والے مہاجرین کی مدد کا کام انجام دیتا ہے۔ اس کے اہلکاروں نے بتایا کے تین سالہ ایلان کی لاش کی تصویر کے وبا کی طرح پھیلنے والے خاکے کے بعد جمعہ چار ستمبر کو اس امدادی گروپ نے 6 لاکھ یورو کی مد میں عطیے کی رقم وصول کی، جو اب تک کسی ایک دن کے اندر اکٹھا ہونے والی سب سے بڑی رقم ہے۔ اس گروپ کے ترجمان کے بقول، ’’اس سے پہلے اگر کسی دن ہمیں 10 ہزار یورو عطیات کے طور پر مل جاتے تو وہ بہت بڑا دن مانا جاتا تھا۔‘‘

Tafeln und Flüchtlinge

میونخ میں پناہ گزینوں کے لیے ضروری اشیاء کا بندوبست کیا گیا ہے

یورپی ملک ہالینڈ میں اب تک مہاجرین کے مسائل کی طرف بہت ہی سرد مہری کا رویہ پایا جاتا تھا۔ تاہم ڈچ ریفیوجی کونسل کے ایک ورکر نے اپنے بیان میں کہا کہ ننھے ایلان کی المناک قسمت کی عکاسی کرنے والی تصویر نے ولندیزی باشندوں کے رویے میں انقلابی تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ اس ورکر کے بقول، ’’اب تک لوگ مہاجرین کی آمد سے خوفزدہ تھے۔ اب لوگوں کا احساس جاگا ہے کہ انہیں کچھ کرنا چاہیے۔‘‘

اُدھر مشہور زمانہ بائرن میونخ فُٹ بال کلب نے ایک ملین یورو فنڈ ایڈ گروپوں کو دینے کا وعدہ کیا ہے اور اس گروپ نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ ایک دوستانہ میچ کھیل کر مزید کئی ملین یورو کا عطیہ اکھٹا کرے گا۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات