ننگرہار میں داعش کو شکست دے دی ہے، افغان حکام | حالات حاضرہ | DW | 10.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ننگرہار میں داعش کو شکست دے دی ہے، افغان حکام

افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے ایک اہم مشرقی صوبے میں جہادی تنظیم داعش سے منسلک گروپ کو شکست دی جا چکی ہے۔

افغان صوبے ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں قائم مقام وزیر داخلہ مسعود اندرابی نے اتوار دس نومبر کو صحافیوں کو بتایا کہ  ننگرہار میں داعش کے مرکزی ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔ اندرابی کے مطابق جہادیوں کے خلاف کارروائیوں میں داعش کو شکست دی جاچکی ہے۔

داعش کا صفایا کرکے چھوڑیں گے: صدر اشرف غنی
پاک افغان سرحد کے قریب واقع افغان صوبے ننگرہار اور کنڑ میں جہادی تنظیم داعش کے جنگجو سن 2015 سے موجود ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں داعش کی جانب سے افغانستان بھر میں متعدد بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی گئی جن میں کابل کے ایک شادی ہال میں خودکش حملہ بھی شامل ہے۔ اس خوفناک حملے میں کم از کم تریسٹھ افراد ہلاک اور ایک سو اسی سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ 


داعش کے خلاف نہ صرف امریکی اور افغان فورسز بلکہ طالبان کی طرف سے بھی عسکری کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔
مسعود اندرابی کا مزید کہنا تھا کہ داعش کے آخری ٹھکانے بھی تباہ کر دیے جائیں گے اور عوام کی مدد سے اس گروپ کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ داعش کے جنگجو خود کو قانون کے حوالے کر رہے ہیں۔

البغدادی کی موت کی تصدیق، داعش کا نیا سربراہ ابراہیم القریشی
دوسری جانب افغانستان میں داعش کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی امریکی فورسز نے افغان قائم مقام وزیر داخلہ کے اس بیان پر رد عمل کا اظہار کرنے سے گریز کیا ہے۔
علاوہ ازیں ننگرہار کے گورنر کے ترجمان ن عطااللہ خوگیانی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ داعش کے 32 جنگجوؤں نے خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔


واضح رہے ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا عربی میں مختصراﹰ داعش کہلانے والی اس جہادی تنظیم کو اس کی قیادت کے لحاظ سے حال ہی میں بہت بڑا نقصان پہنچا تھا۔ گزشتہ ماہ ستائیس اکتوبر کو شمال مغربی شام میں امریکی اسپیشل فورسز کے ایک آپریشن کے دوران اس دہشت گرد گروپ کا سربراہ ابوبکر البغدادی مارا گیا تھا۔ اب اس جہادی تنظیم کے بچے کچھے جنگجوؤں کا اثر و رسوخ محدود ہوتا جا رہا ہے۔

ع آ / ا ب ا (نیوز ایجنسیاں)

DW.COM