نمونیا: علاج موجود مگر پر بھی مہلک ترین مرض | صحت | DW | 12.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

نمونیا: علاج موجود مگر پر بھی مہلک ترین مرض

نمونیا سے ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں بچے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کا شمار بھی نمونیا سے شدید متاثرہ ممالک میں ہوتا ہے۔ مختلف اداروں نے متاثرہ ممالک کی حکومتوں سے نمونیے کی ادویات کی قیمتوں میں کمی کی درخواست کی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے آج منگل 12 نومبر کو ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق نمونیا کے مرض مبتلا ہو کر گزشتہ برس آٹھ لاکھ شیر خوار اور کم عمر بچے ہلاک ہوئے۔ پاکستان، نائجیریا، بھارت، جمہوریہ کانگو اور ایتھوپیا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں نمونیا کے باعث ہلاک ہونے بچوں کی تعداد تقریباً چار لاکھ  رہی۔

اس رپورٹ میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیاگیا ہے کہ قابل علاج اور قابل تشخیص ہونے کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں بچے نمونیا کی وجہ سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال یونیسیف، بچوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم سیو دی چلڈرن کے ساتھ ساتھ صحت سے متعلق اداروں کی طرف سے تیار کی گئی اس رپورٹ میں حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ نمونیا کے خلاف ادویات کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کریں۔

'جی اے وی آئی‘ ویکسین الائنس کے چیف ایگزیکیٹو سیتھ برکلے، ''حقیقت یہ ہے کہ اس مرض کا علاج ممکن ہے، اس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے اور اس کی تشخیص بھی کوئی مشکل مرحلہ نہیں۔ مگر اس کے باوجود یہ مرض دنیا میں بچوں کا سب سے بڑا قاتل ہے۔‘‘

نمونیا پھیپھڑوں کی ایک بیماری ہے، جو بیکٹریا، وائرس یا فنگس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ نمونیا کے مریض کے پھیپھڑوں میں سیال جمع ہونے کے باعث انہیں سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس بیماری کا اینٹی بائیوٹکس سے علاج کیا جا سکتا ہے جبکہ مرض کے سنگین ہونے کی صورت میں آکسیجن کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔

نمونیا سے بچاؤ کے لیے بچوں کو ایسے ٹیکے لگائے جا سکتے ہیں، جن سے ان کے اندر اس موذی بیماری کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جائے۔ اس کے علاوہ اگر بچے کے اندر نمونیا کے مرض کی تشخیص وقت پر ہو جائے تو بچے کو ممکنہ علاج کے ذریعے بچایا جا سکتا ہے۔ تاہم ترقی پذیر ممالک میں ان سہولیات تک رسائی اکثر محدود ہوتی ہے۔

DW.COM