نریندر مودی کی مقبولیت میں مزید اضافہ، سروے | معاشرہ | DW | 16.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نریندر مودی کی مقبولیت میں مزید اضافہ، سروے

ہر دس میں سے نو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حق میں رائے رکھتے ہیں اور بھارت کے دو تہائی سے بھی زائد شہری اپنے وزیراعظم کی پالیسیوں سے مطمئن ہیں۔ کیا آئندہ انتخابات میں بھی مودی حکومت ہی کامیاب ہو گی؟

امریکا کے پیو ریسرچ سینٹر کی طرف سے بھارت میں عام انتخابات سے دو برس پہلے کروائے جانے والے سروے سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ مستقبل میں بھی قوم پرست رہنما نریندر مودی بھارت میں اہم کردار ادا کریں گے۔ سن دو ہزار چودہ میں ہونے والے عام انتخابات میں نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی واضح اکثریت سے جیت کر پارلیمان تک پہنچی تھی اور حالیہ سروے سے اندازہ ہوتا ہے کہ نریندر مودی اب بھی عوام میں انتہائی مقبول ہیں۔

بھارت ميں مسلمانوں کے خلاف حملے، تصوير کا دوسرا رخ

ناقدین کے مطابق حکومت سے رابطے رکھنے والے انتہاپسند ہندو گروپ ملک میں تقسیم کا ایجنڈا شروع کیے ہوئے ہیں اور مودی کے طاقت میں آنے کے بعد سے یہ گروپ اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ نریندر مودی کی حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ وہ سست معاشی ترقی کی وجہ سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ لیکن پیو کے ایک تازہ سروے کے مطابق اٹھاسی فیصد بھارتی شہری اب بھی مودی کے حق میں رائے رکھتے ہیں۔ سن دو ہزار پندرہ میں یہ حمایت ستاسی فیصد تھی لیکن مودی حکومت پر تمام تر تنقید کے باوجود اس میں ایک فیصد اضافہ ہی ہوا ہے۔

امریکی خام تیل کی نئی درآمدی منڈی بھارت ہو گا

جنوبی ایشیا میں تین سال اقتدار میں رہنے کے باوجود اس طرح کی مقبولیت غیرمعمولی ہے۔ پاکستان اور بھارت میں عمومی طور پر انتخابات سے پہلے کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے کہ وجہ سے تین سال بعد تک منتخب حکومتوں کی مقبولیت میں واضح کمی آ چکی ہوتی ہے۔ سونیا گاندھی کے مقابلے میں مودی کی مقبولیت اکتیس فیصد زائد ہے جبکہ اپوزیشن کانگریس پارٹی کی سربراہ کے بیٹے راہول گاندھی کے مقابلے میں مودی تیس پوائنٹس کے ساتھ آگے ہیں۔

پیو کی طرف سے کیے جانے والے تبصرے میں کہا گیا ہے، ’’مودی کے پانچ سالہ دور اقتدار کے پہلے تین برس میں ان کا انتظامیہ کے ساتھ ہنی مون تو تقریبا ختم سا ہو گیا ہے لیکن عوامی سطح پر ان کی حمایت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔‘‘ سروے کے مطابق معاشی اصلاحات کے حوالے سے مودی حکومت کوئی بھی بڑی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ رواں برس جون میں نیا ٹیکس نظام بھی متعارف کروایا ہے اور اس سے بھی چھوٹے کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔

DW.COM

اشتہار