ناروے: مسلح شخص نے مسروقہ گاڑی ہجوم پر چڑھا دی، ملزم گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 22.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ناروے: مسلح شخص نے مسروقہ گاڑی ہجوم پر چڑھا دی، ملزم گرفتار

ناورے کے دارالحکومت اوسلو میں منگل بائیس اکتوبر کو ایک مسلح شخص نے ایک چوری شدہ گاڑی ایک ہجوم پر چڑھا دی۔ اس واقعے میں کئی افراد زخمی ہو گئے جبکہ ملزم بھی پولیس کی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا، جسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اوسلو سے ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ملکی پولیس نے بتایا کہ اس مسلح ملزم نے آج منگل کو دوپہر کے وقت پہلے ایک ایمبولینس چوری کی اور پھر اسے چلاتا ہوا کئی افراد کو روندتا چلا گیا۔ پولیس کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے ملزم کا پیچھا کیا اور مسروقہ ایمبولینس پر فائرنگ بھی کی، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا۔

اوسلو پولیس کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ملزم گولی لگنے سے زخمی ہو گیا اور اسے گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ناروے کے پبلک براڈکاسٹر این آر کے نے اس واقعے کی ایک فوٹیج بھی نشر کی ہے، جس میں مسروقہ ایمبولینس کو اوسلو شہر کے تورشوف نامی علاقے سے گزرتا ہوا دیکھا جا سکتا تھا اور اس دوران فائرنگ کی آوازیں بھی سنی جا سکتی تھیں۔

پولیس نے فوری طور پر اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا کہ اس واقعے میں کتنے افراد زخمی ہوئے، آیا یہ کوئی مشتبہ دہشت گردی کا واقعہ تھا یا اس ملزم نے دانستہ طور پر ایک ہجوم پر گاڑی چڑھا کر متعدد افراد کو ہلاک کرنے کی کوشش کیوں کی؟

اس بارے میں پولیس کے ایک ترجمان نے صرف اتنا کہا، ''ایک مسلح شخص نے ایک ایمبولینس چوری کی، اسے چلاتے ہوئے اس نے موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی اور اس دوران کئی افراد اس گاڑی کی زد میں آ گئے۔ ہم نے اس ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔‘‘

اسی بارے میں نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے اوسلو سے اپنی رپورٹوں میں بتایا ہے کہ اس مسروقہ ایمبولینس کی زد میں آنے والوں میں ایک بچہ بھی شامل تھا، جو چھوٹے بچوں کی ایک بگّی میں سوار تھا۔ اسے علاج کے لیے ہسپتال پہنچایا جا چکا ہے۔

ناروے کے نشریاتی ادارے این آر کے نے یہ بھی بتایا ہے کہ اوسلو شہر کے شمالی حصے میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد پولیس مبینہ طور پر اس ملزم کے ایک ساتھی کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم پولیس نے اب تک یہ تصدیق نہیں کی کہ اس ملزم کے کسی ساتھی کو تلاش کیا جا رہا ہے۔

م م / ع ح (روئٹرز، اے پی)

DW.COM