ناروے: تیر کمان سے حملے میں پانچ افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 14.10.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ناروے: تیر کمان سے حملے میں پانچ افراد ہلاک

ناروے میں ایک شخص نے تیر کمان سے حملہ کرکے پانچ افراد کو ہلاک اور دو دیگر کو زخمی کردیا۔ حملہ آور گرفتار کرلیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ کہنا جلد بازی ہوگی کہ آیا یہ حملہ دہشت گردی کا واقعہ تو نہیں تھا۔

حملے کا یہ واقعہ بدھ کے روز اوسلو کے مغرب میں کانگس برگ قصبے میں شام تقریباً ساڑھے چھ بجے پیش آیا۔ ایک تیر کمان بردار شخص نے ایک سپر مارکیٹ  کے قریب تیر سے حملہ کر دیا جس میں پانچ افراد ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔

اب تک کیا پتہ چل سکا ہے؟

زخمی ہونے والے دو افراد میں ایک پولیس افسر شامل ہے جو جائے واقعہ پرڈیوٹی پر تعینات تھے۔ انہیں علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ پولیس کے ایک ترجمان نے بتا یا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس سربراہ اویوند آس نے کہا،”مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ابتدائی معلومات سے ایسا لگتا ہے کہ یہ واردات اس نے اکیلے ہی انجام دی۔ اس واقعے میں متعدد افراد زخمی اور کئی ہلاک ہو گئے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا،”حملے کے محرکات کا فوری طور پر علم نہیں ہوسکا ہے۔ تاہم واقعات جس طرح پیش آئے ہیں اس کے مد نظر اس بات کا پتہ لگانا فطری ہے کہ آیا کوئی دہشت گردانہ حملہ تو نہیں تھا۔ ہم تمام امکانات پر غور کررہے ہیں۔"

یہ حملہ شہر کے وسط میں واقع ایک 'بہت بڑے علاقے‘ میں ہوا۔ پولیس کو شا م ساڑھے چھ بجے اس کی اطلاع دی گئی اور اس نے 20 منٹ کے اندر مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا۔

حملے کے محرکات اب تک واضح نہیں ہیں۔


پولیس نے جمعرات کی صبح بتایا کہ مشتبہ 37 سالہ شخص ڈنمارک کا شہری ہے اور کانگس برگ میں رہتا ہے۔ انہوں نے ٹیلی ویژن کی ان  خبروں کی تردید کی کہ حملہ آرو ناروے کا شہری ہے۔ اس کے خلاف الزامات درج کرلیے گئے ہیں۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا،”ہم نے اس اطلاع کی تصدیق کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ حملہ آور کی شہریت کے بارے میں سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلنے لگی تھیں۔ کچھ لوگ ایسے افراد کو بھی اس میں ملوث کرنے کی کوشش کررہے تھے جن کا اس سنگین واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"

حکام نے متاثرین کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائی۔

دہشت گردانہ حملہ قرار دینا، قبل از وقت

پولیس نے کہا کہ اس حملے کی تفتیش کی جارہی ہے اور فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ تھا یا نہیں۔

پولیس کے ترجمان مارٹن برنسین نے خبر رسا ں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ کہ ناروے کی انٹلی جنس سروس کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ جب ان سے ممکنہ دہشت گردانہ حملے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا ”حملہ آور کے محرکات کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے۔"

ناروے کی کارگذار وزیر اعظم ایرنا سولبرگ نے اس حملے کو ”ہولناک" قراردیا جبکہ نامزد وزیر اعظم جوناس اسٹوئرے نے اسے ”بے رحم اور وحشیانہ حرکت“ قرار دیا۔

نارے کی میڈیا کے مطابق تشدد کے خدشے کے مدنظر کانگس برگ کے متعدد علاقوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ جائے واقعہ پر درجنوں ہیلی کاپٹر اور ایمبولنس بھیجے گئے۔

ناروے کی پولیس ڈائریکٹوریٹ نے حملے کے بعد تمام پولیس افسران کواحتیاط کے طورپر اسلحہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ناروے میں عام طورپر پولیس مسلح نہیں ہوتی۔

حملے کا یہ واقعہ تقریباً دس برس قبل دائیں بازو کے انتہاپسند آندریس بریویک کے دہشت گردانہ حملے کے بعد پیش آیا ہے۔ جولائی 2011 میں ہونے والے حملے کو ناروے کی تاریخ میں دہشت گردی کا بدترین حملہ کہا جاتا ہے۔

بریویک نے اوسلو میں ایک بم دھماکہ کرنے کے بعد فائرنگ کرکے 77 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

ج ا/ ص ز (ڈی پی اے، اے پی، اے ایف پی، روئٹرز)

DW.COM