ناروے: بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی لائیو ویڈیوز | معاشرہ | DW | 22.11.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ناروے: بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی لائیو ویڈیوز

اس کیس کو ناروے میں جرائم کی تاریخ کا بدترین کیس کہا جا سکتا ہے۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مناظر نہ صرف لائیو دکھائے جاتے تھے بلکہ انہیں جانوروں سے جنسی تعلق قائم کرنے پر بھی مجبور کیا جاتا تھا۔

ناروے کی پولیس نے ملک کے مغرب میں ایک ایسے نیٹ ورک کو پکڑ لیا ہے، جو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں ملوث ہے۔ ناروے پولیس کے نائب سربراہ گونر فلوئے شٹاڈ کے مطابق مختلف علاقوں میں اس نیٹ ورک سے وابستہ 31 مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی جاری ہے جبکہ 20 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ناروے میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے اس کیس کو اب تک کا سب سے بڑا کیس قرار دیا جا رہا ہے۔ ناروے کے مقامی میڈیا کے مطابق یہ وہ واحد کیس ہے، جس میں بچوں کو اس قدر ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

اس کیس کی مرکزی تفتیش کار خاتون ہلڈے رائکراس کا کہنا تھا کہ 150 ٹیرا بائٹس کا ڈیٹا قبضے میں لیا گیا ہے، جو بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز پر مشتمل ہے۔ اس ڈیٹا سے ایسی ویڈیوز بھی ملی ہیں، جن میں بچوں کو دوسرے بچوں یا پھر جانوروں سے جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کیا گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ نیٹ ورک ’ڈارک نیٹ‘ میں قائم ہوا اور یہ سبھی لوگ ایک دوسرے سے خیالات کا تبادلہ بھی کرتے تھے۔ بعض اوقات بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی لائیو دکھائی جاتی تھی۔

 اس نیٹ ورک میں ملوث زیادہ تر افراد پڑھے لکھے ہیں جبکہ ان میں وکلاء اور سیاستدان بھی شامل ہیں۔ گرفتار ہونے والے چند ملزمان نے شیرخوار بچوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا جبکہ ایک ملزم نے اپنے ہی بچے کے ساتھ بدسلوکی کا اعتراف کیا ہے۔

استغاثہ کے مطابق یہ ملزمان سکیورٹی کوڈز استعمال کرتے ہوئے بات چیت کرتے تھے تاکہ کسی کو کوئی ثبوت نہ مل سکے۔ ناروے کے قانون کے مطابق ان مردوں کو پندرہ برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اشتہار