نارتھ اسٹریم گیس پائپ لائن کا افتتاح | حالات حاضرہ | DW | 08.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نارتھ اسٹریم گیس پائپ لائن کا افتتاح

روس سے جرمنی تک قدرتی گیس کی فراہمی کے لیے نارتھ اسٹریم نامی گیس پائپ لائن کا افتتاح آج منگل آٹھ نومبر کو ہوگیا ہے۔ روسی صدر دیمتری میدویدیف اس مقصد کے لیے خصوصی طور پر جرمنی پہنچے۔

default

جب اس لائن کی منصوبہ بندی کی گئی تھی تو اس کا مقصد روس سے زیادہ گیس جرمنی تک پہنچانا تھا مگر خطیر رقم سے مکمل کیے جانے والے اس منصوبے کا اب محض ایک ہی مقصد،روس کی طرف سے یورپ کو گیس کی فراہمی کے لیے یوکرائن کی پائپ لائنز پر انحصار کم کرنا ہے۔

روسی شہر وائیبورگ سے جرمن شہر گرائفس والڈ تک آنے والی نارتھ اسٹریم گیس پائپ لائن کی لاگت 7.3 بلین یورو ہے۔ 1200 کلومیٹر طویل یہ گیس پائپ لائن بحیرہ بالٹک میں پانی کے اندر بچھائی گئی ہے۔ روس سے شروع ہو کر یہ پائپ لائن فن لینڈ، سویڈن اور ڈنمارک سے ہوتی ہوئی جرمنی پہنچ رہی ہے۔ اس طرح روس تقریباً 28 ارب کیوبک میٹر گیس سالانہ جرمنی اور دیگر یورپی ملکوں کو برآمد کرے گا۔

بحیرہ بالٹک کی تہہ میں بجھائی جانے والی اس پائپ لائن کی منصوبہ بندی 2005ء میں کی گئی تھی۔ آٹھ ستمبر 2005ء کو روسی گیس کمپنی گیز پروم اور جرمن کمپنیوں BASF / Wintershall اور ای اون روہر گیس نے اس منصوبے پر دستخط کیے۔ اس وقت کے جرمن چانسلر گیرہارڈ شروئڈر اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی موجودگی میں دستخط ہونے والے اس منصوبے پر کافی تنقید کی گئی۔

اس منصوبے پر نہ صرف مالی حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا بلکہ تحفظ ماحول کی تنظیموں نے بھی اس منصوبے سے ماحولیاتی توازن کو نقصان پہنچانے کے خطرات کا اظہار کیا۔ روس سے براہ راست جرمنی تک گیس کی فراہمی کے اس منصوبے پر ان خدشات کا بھی اظہار کیا گیا کہ اس سے علاقے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو گزند پہنچ سکتی ہے۔

تاہم گزشتہ چھ برس کے دوران یورپ کو گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے نہ صرف انجینئرنگ کے اس عظیم منصوبے کو عملی شکل دے دی گئی ہے بلکہ اس کے بارے میں ماحولیاتی ماہرین، سیاستدانوں اور دیگر ماہرین کے خدشات بھی بہت حد تک رفع ہوچکے ہیں۔

بحیرہ بالٹک کی تہہ میں بجھائی جانے والی اس پائپ لائن کی منصوبہ بندی 2005ء میں کی گئی تھی

بحیرہ بالٹک کی تہہ میں بجھائی جانے والی اس پائپ لائن کی منصوبہ بندی 2005ء میں کی گئی تھی

روسی صدر میدویدیف اس گیس پائپ لائن کا افتتاح کے لیے خصوصی طور پر جرمنی پہنچے ہیں۔ روسی صدر آج جب برلن پہنچے تو جرمن صدر کرسٹیان وولف نے اپنے روسی ہم منصب کا برلن میں استقبال کیا۔ اس موقع پر روسی مہمان کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

جرمن شہر لوبمین میں اس پائپ لائن کی افتتاحی تقریب میں روسی صدر نے علامتی طور پر ایک پہیہ گھما کر اس پائپ لائن کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل، فرانسیسی وزیر اعظم فرانسوآ فیوں اور ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹے بھی موجود تھے۔ اس موقعے پر روسی صدر کا کہنا تھا: ’’ آج ہم روس اور یورپی یونین کے درمیان نئی پارٹنر شپ کے مرحلے کا آغاز کر رہے ہیں۔‘‘

روس اور جرمنی کے مابین نارتھ اسٹریم پائپ لائن منصوبے کو توانائی کے شعبے کے حوالے سے اسے بہت زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان / خبر رساں ادارے

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار