ناؤرُو کے حراستی مرکز سے مہاجرین کا گروپ امریکا روانہ | مہاجرین کا بحران | DW | 11.02.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مہاجرین کا بحران

 ناؤرُو کے حراستی مرکز سے مہاجرین کا گروپ امریکا روانہ

آسٹریلیا میں مہاجرین کے وکلاء کے مطابق بحرالکاہل کے جزیرے ناؤرو سے بائیس تارکین وطن پر مشتمل ایک گروپ امریکا روانہ کر دیا گیا ہے۔ ان پناہ گزینوں میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے متعدد مہاجرین  بھی شامل ہیں۔

 آسٹریلیا اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدہ کے تحت پاپوا نیو گنی کے قرب میں واقع ناؤرو اور مانوس جزائر پر واقع مہاجرین کے آسٹریلوی حراستی مراکز سے ایک معاہدے کے تحت تارکین وطن کو امریکا لے جایا جا رہا ہے۔

مہاجرین کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’ریفیوجی ایکشن کولیشن‘ کے ترجمان ایان رنتول کا کہنا ہے کہ امریکا بھیجے جانے والے مہاجرین کے گروپ میں سوائے ایک روہنگیا جوڑے کے دیگر تمام افراد اکیلے مرد ہیں۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے دور اقتدار میں آسٹریلیا کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت  امریکا نے بحرالکاہل کے جزائر پر موجود تارکین وطن کو اپنے ہاں بسانے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے برسراقتدار آنے کے بعد اس ڈیل کو’بے کار‘ قرار دیا تھا ، لیکن بعد میں انہوں نے اس پر عمل در آمد کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

امریکا بھیجے جانے والے اس تازہ ترین گروپ میں پاکستان، افغانستان اور میانمار سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین شامل ہیں۔ ان بائیس تارکین وطن کی امریکا روانگی کے بعد ان جزائر پر قائم آسٹریلوی حراستی مراکز سے امریکا آباد ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد 134 ہو جائے گی۔

 ناؤرو کے حراستی کیمپ میں مقیم ڈیڑھ سو کے لگ بھگ بچوں کو حالیہ منتقلی میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ایرانی مہاجرین میں سے بھی کسی کو امریکا روانہ نہیں کیا گیا، جو اس جزیرے پر کسی بھی ملک کے مہاجرین کا سب سے بڑا گروپ ہے۔

 خیال رہے کہ کینبرا حکومت غیرقانونی طور پر ملک میں داخلے کی کوشش کرنے والوں کو سمندر ہی میں پکڑ کر مانوس یا ناؤرو جزائر منتقل کر دیتی ہے، تاہم وہاں تارکین وطن کی حالت دگرگوں ہے۔

DW.COM