نئے نازی پراپرٹی نہ خریدیں، پانچ مشرقی جرمن صوبے مل کر سرگرم | حالات حاضرہ | DW | 29.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

نئے نازی پراپرٹی نہ خریدیں، پانچ مشرقی جرمن صوبے مل کر سرگرم

جرمنی کے پانچ مشرقی صوبے مل کر نئے نازیوں کو املاک خریدنے اور میوزک کنسرٹس کرنے سے روکنے کی کوشش میں ہیں۔ اس سوچ کے تحت یہ پانچوں صوبے ایسی املاک خود خریدنے لگے ہیں، جنہیں انتہائی دائیں بازو کے نئے نازی خرید سکتے ہیں۔

Deutschland Partei Kundgebung der Neonazi-Partei Die Rechte

جرمن نئے نازیوں کی ایک پارٹی ’دی رَیشتے‘ کے ارکان کا پارٹی پرچموں کے ساتھ ایک مظاہرہ

جرمنی کے وفاقی صوبوں کی موجودہ تعداد 16 ہے۔ تیس برس قبل ماضی کی دونوں حریف جرمن ریاستوں (مغربی حصے کی وفاقی جمہوریہ جرمنی اور مشرقی حصے کی جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک) کے دوبارہ اتحاد کے ساتھ جغرافیائی طور پر موجودہ متحدہ جرمنی کی جو وفاقی ریاست وجود میں آئی تھی، وہ یورپی یونین کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست بھی ہے۔

مشرقی صوبوں کی تعداد پانچ

اکتوبر 1990ء میں سابقہ مشرقی جرمن ریاست کے وفاقی جمہوریہ جرمنی میں شامل ہونے والے حصے نئے مشرقی صوبے کہلاتے ہیں، جن کی تعداد پانچ ہے اور جہاں آج بھی بے روزگاری پرانے مغربی صوبوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہے اور دائیں بازو کی انتہا پسندانہ سوچ بھی۔

جرمنی میں مہاجر مخالف، نئے نازی گروپوں کے جرائم: نیا ریکارڈ

ان پانچوں مشرقی ریاستوں میں انتہائی دائیں بازو کی سوچ کے حامل نئے نازیوں نے اپنے کئی گروپ قائم کر رکھے ہیں اور وہ وقفے وقفے سے اپنے نیو نازی روک میوزک کنسرٹ بھی منعقد کرتے ہیں۔ ان صوبوں کی حکومتوں نے اب مل کر ایسی کوششیں شروع کر دی ہیں، جن کے تحت نئے نازیوں کو ریئل اسٹیٹ خریدنے یا کرائے پر لینے اور میوزک کنسرٹس کے انعقاد سے روکنے کی کوشش کی جا ئے گی۔

'نیو نازی سوچ صوبائی سرحدوں پر ختم نہیں ہو جاتی‘

جرمنی کی ان پانچوں مشرقی ریاستوں کے وزرائے داخلہ نے پیر 28 ستمبر کو مل کر یہ عہد کیا کہ وہ اپنے ہاں غیر منقولہ املاک کی منڈی پر نظر رکھیں گی تاکہ نئے نازی گروہ اور تنظیمیں پراپرٹی مارکیٹ میں اپنے قدم نہ جما سکیں اور انہیں انتہائی دائیں بازو کے نیٹ ورک پھیلانے سے بھی روکا جا سکے۔ اس سلسلے میں ان جرمن صوبوں نے مل کر قبل از وقت انتباہ کرنے والا ایک انتظامی نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

مسلم، یہودی عبادت گاہوں پر حملوں کا منصوبہ ساز ’کالا پرندہ‘

وفاقی صوبے تھیورنگیا کے وزیر داخلہ  گیورگ مائر نے کہا، ''دائیں بازو کی انتہا پسندانہ سوچ صوبائی سرحدوں پر ختم نہیں ہو جاتی۔ اس لیے تمام مشرقی صوبوں کو آپس میں معلومات کے زیادہ بہتر تبادلے کی ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے م‍زید کہا کہ کرائے پر دی جانے والی املاک کے مالکان کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ اپنی پراپرٹی کرائے پر دیتے وقت اس بات پر بھی گہرا غور کیا کریں کہ ان کے ممکنہ کرائے دار کس طرح کی سوچ کے حامل ہیں۔

گیورگ مائر کے مطابق، ''جب کوئی ریئل اسٹیٹ دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے ہاتھ آ جاتی ہے، تو ان کے گروہی ڈھانچے مضبوط ہونا شروع اور نیٹ ورک قائم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔‘‘

Bundeskanzlerin Merkel besucht NSU-Gedenkort in Zwickau

نئے نازی گروپ این ایس یو کے ہاتھوں مارے گئے دس افراد کی یاد میں تعمیر کی گئی یادگار کا جرمن چانسلر میرکل نے بھی دورہ کیا تھا

نئے نازیوں کا دہشت گرد گروپ

سن 2011ء میں جرمنی کو اس وقت بڑا دھچکا لگا تھا جب یہ انکشاف ہوا تھا کہ نئے نازیوں کا نیشنل سوشلسٹ انڈر گراؤنڈ (NSU) نامی ایک دہشت گرد گروہ دس افراد کے نسل پرستانہ قتل کا مرتکب ہوا تھا۔

نئے نازی اپنے بچوں کی پرورش کیسے کرتے ہیں؟

اہم بات یہ کہ اس گروہ کے تین مرکزی ارکان نے مشرقی جرمن صوبے سیکسنی کے شہر خیمنِٹس سے سماجی طور پر بالکل الگ تھلگ رہتے ہوئے اپنی کارروائیاں مربوط کی تھیں۔

رائش بُرگر کون ہیں؟

مشرقی جرمن صوبے سیکسنی انہالٹ کے وزیر داخلہ ہولگر شٹاہل کنیشت کے مطابق انتہائی دائیں بازو کے شدت پسندوں کے 'رائش بُرگر‘ کہلانے والے گروپ کے ارکان کو بھی نئے علاقوں میں قدم جمانے سے روکنے کی ضرورت ہے۔

اس گروہ کے ارکان اپنی سوچ میں موجودہ وفاقی جرمن ریاست اور اس کی حکومت کے عوام کا حقیقی نمائندہ ہونے کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ نئے نازی دعویٰ کرتے ہیں کہ جرمنی کی ریاستی سرحدیں آج بھی وہی ہیں، جو 1937ء میں تھیں۔

جرمنی میں تحفط آئین کا وفاقی دفتر کہلانے والی داخلی انٹیلیجنس ایجنسی کے مطابق انتہائی دائیں بازو کے نئے نازیوں نے گزشتہ برس صرف صوبے سیکسنی میں ہی خرید کر یا کرائے پر لے کر 27 املاک کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

نیو نازی میوزک کنسرٹس

نئے نازیوں کے میوزک کنسرٹس کے بارے میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ انہیں ملکی عوام کے 'اجتماع کے حق‘ سے متعلق بہت فراخ دلانہ قانون کے باعث ممنوع قرار نہیں دیا جا سکتا۔

صوبے سیکسنی کے وزیر داخلہ رولانڈ وؤلر نے کہا کہ انتہائی دائیں بازو کے میوزک کنسرٹس کے منتظمین اکثر عین وقت پر اپنے کنسرٹ کی جگہ بدل دیتے ہیں، جس کے بعد وہاں پولیس کی طرف سے مؤثر نگرانی کافی مشکل ہو جاتی ہے۔

ہٹلر کے پیدائشی گھر پر سرکاری قبضے کے جھگڑے میں عدالتی فیصلہ

رولانڈ وؤلر کے مطابق، ''ہمیں ان چھوٹے چھوٹے بلدیاتی اداروں کے انتظامی ڈھانچوں کو مضبوط بنانا ہو گا، جو پس منظر سے پوری واقفیت کے بغیر مقامی سطح پر ایسے کنسرٹس کے انعقاد کی درخواستوں پر فیصلے کرتے ہیں۔‘‘

صوبے برانڈن برگ کے وزیر داخلہ میشائل شٹُوئبگن کے مطابق نئے نازیوں کے میوزک کنسرٹس یا میلوں پر پابندی لگانا کوئی بہت اچھا حل نہیں ہو گا، اس کے لیے بلدیاتی اداروں کی طرف سے اجازت ناموں کی شرائط مزید سخت کی جانا چاہییں اور ایسے انتہا پسند گروپوں کے بارے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر معلومات کا تبادلہ بھی مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے۔

جرمنی کے یہ پانچ مشرقی صوبے تھیورنگیا، سیکسنی، سیکسنی انہالٹ، برانڈن برگ اور میکلن برگ بالائی پومیرانیا ہیں۔

م م / ک م (ڈی پی اے، کے این اے، ای پی ڈی)

DW.COM