نئے سال کا پہلا دن: آج تین لاکھ بانوے ہزار بچے پیدا ہوں گے | NRS-Import | DW | 01.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

NRS-Import

نئے سال کا پہلا دن: آج تین لاکھ بانوے ہزار بچے پیدا ہوں گے

ئی دہائی کے پہلے دن آج یکم جنوری کو دنیا بھر میں تین لاکھ بانوے ہزار بچے پیدا ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے مطابق افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے بچے پانچ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔

 

اقوام متحدہ کے بہبود اطفال کے ادارے یونیسیف نے نئی دہائی اور نئے سال کے آغاز پر دنیا بھر میں بچوں کی پیدائش سے متعلق چند خوش آئند اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ یونیسیف کے مطابق آج یکم جنوری 2020ء کو دنیا بھر میں تین لاکھ 92 ہزار بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔ اس ادارے کے مطابق عالمی سطح پر نومولود بچوں کے بارے میں یہ بات افسوس ناک ہے کہ ان میں سے بہت سے کم عمری مین ہی انتقال کر جائیں گے۔

مگر تصویر کا دوسرا اور کافی حد تک خوش کن پہلو یہ ہے کہ نومولود بچوں کے زندہ رہنے کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر آج کی صورت حال تین عشرے پہلے کے مقابلے میں بہت بہتر ہو چکی ہے۔ ان 30 برسوں میں ان نومولود بچوں کی تعداد میں نصف سے زائد کی کمی ہو چکی ہے، جو پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی انتقال کر جاتے تھے۔ تاہم اس مثبت پیش رفت کے باوجود یہ بات بھی درست ہے کہ انہی تین دہائیوں میں نومولود بچوں کی بہبود اور ان کی بقا کے حوالے سے جو بہتری دیکھنے میں آئی ہے، وہ قدرے سست رفتار رہی ہے۔

 

2018 ء میں اپنی زندگی کے پہلے ہی مہینے میں انتقال کر جانے والے نوزائیدہ بچوں کی تعداد 25 لاکھ رہی تھی۔ ان میں سے بھی ایک تہائی بچے تو اپنی زندگی کے پہلے ہی دن موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ المیہ یہ ہے کہ ایسی لاکھوں میں سے زیادہ تر اموات کی وجوہات ایسی تھیں کہ ان بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں مگر ایسا ہو نہ سکا۔

 

یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق 2018 ء میں پیدائش کے بعد پہلے ہی مہینے میں انتقال کر جانے والے بچوں کی شرح پانچ سال سے کم عمر کی بچوں کی مجموعی اموات کے 47 فیصد سے بھی زیادہ رہی تھی جبکہ یہی شرح 1990ء میں 40 فیصد تھی۔

آج یکم جنوری 2020ء کے دن اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے نے ماؤں اور نومولود بچوں کے لیے حفظان صحت اور طبی دیکھ بھال کی بہتر سہولیات کی فراہمی پر زور دیا ہے۔ یونیسیف کے مطابق نو مولود بچوں کی زیادہ تر اموات کی وجہ ضروری طبی آلات سے لیس تربیت یافتہ نرسوں اور مڈوائیوز کی کمی بنتی ہے۔

 

بھارت میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد سب سے زیادہ

دنیا بھر میں آج یکم جنوری 2020 ء کو جتنے بچوں کی پیدائش متوقع ہے، ان میں سے کسی ایک ملک کے طور پر سب سے زیادہ تعداد بھارت میں جنم لینے والے بچوں کی ہو گی۔ بھارت اپنی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ عالمی آبادی میں بھارتی شہریوں کا موجودہ تناسب 17.7 فیصد بنتا ہے۔

یونیسیف کی نئے سال اور نئے عشرے کے پہلے دن دنیا بھر میں بچوں کی مجموعی متوقع پیدائش کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یکم جنوری کو تقریباﹰ ساڑھے 67 ہزار بچوں کی پیدائش کے ساتھ بھارت سب سے آگے ہو گا، جس کے بعد 46 ہزار 300 نومولود بچوں کے ساتھ چین دوسرے اور 26 ہزار بچوں کی متوقع پیدائش کے ساتھ افریقی ملک نائجیریا تیسرے نمبر پر ہو گا۔

ان تین ممالک کے بعد پاکستان اس فہرست میں تقریباﹰ 16 ہزار 800 بچوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ پاکستان کے بعد انڈونیشیا پانچویں نمبر پر ہے، جہاں آج مجموعی طور پر 13 ہزار سے زائد بچے جنم لیں گے۔ ان ممالک کے علاوہ آج یکم جنوری ہی کے دن امریکا میں تقریباﹰ ساڑھے 10 ہزار، کانگو میں سوا 10 ہزار اور ایتھوپیا میں تقریباﹰ ساڑھے آٹھ ہزار بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔

ک م / م م (ڈی پی اے)

DW.COM

Audios and videos on the topic