نئے سال میں روس کے ساتھ زیادہ مکالمت، نیٹو سربراہ پرامید | حالات حاضرہ | DW | 29.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئے سال میں روس کے ساتھ زیادہ مکالمت، نیٹو سربراہ پرامید

مغربی دفاعی تنظیم نیٹو کے سربراہ ژینس اسٹولٹن برگ نے امید ظاہر کی ہے کہ نئے سال 2018 میں اس عسکری اتحاد کی روس کے ساتھ زیادہ مکالمت ممکن ہو سکے گی۔ نیٹو اور روس کے مابین اس وقت کافی زیادہ بداعتمادی پائی جاتی ہے۔

default

مشرقی یوکرائن کے روس نواز علیحدگی پسند باغی، جنہوں نے اپنے ٹینک پر روسی پرچم لہرا رکھا ہے

بیلجیم کے دارالحکومت برسلز سے، جہاں یورپی یونین کے علاوہ نیٹو کے صدر دفاتر بھی ہیں، جمعہ انتیس دسمبر کو ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سن 2014 کے اوائل میں جب مشرقی یورپی ملک یوکرائن کے مشرقی حصے میں علیحدگی پسندی کی مسلح تحریک نے سر اٹھایا تھا اور ماسکو نے ان باغیوں کی ‌حمایت شروع کر دی تھی، تو روس اور نیٹو کے باہمی تعلقات سرد جنگ کے بعد کے دور کی اپنی اب تک کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔

Jens Stoltenberg NATO PK Brüssel Belgien

نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ

اس کے ساتھ ساتھ انہی دنوں میں روس نے یوکرائن کے جزیرہ نما کریمیا کو بھی ’زبردستی‘ اپنے ریاستی علاقے میں شامل کر لیا تھا۔ ان واقعات کے بعد دو سال تک نیٹو اور روس کے تعلقات بالکل منجمد ہو کر رہ گئے تھے۔

ان تعلقات میں کچھ بحالی اس وقت دیکھنے میں آئی تھی، جب 2016ء میں نیٹو اور روس کے سفیروں نے آپس کے براہ راست مذاکرات بحال کیے تھے۔

اس کے باوجود برسلز میں نیٹو اتحاد اور ماسکو میں روسی حکومت کے مابین کھچاؤ اور بداعتمادی ابھی تک پائی جاتی ہے، حالانکہ سال 2017ء کے آغاز پر دونوں کے مابین یوکرائن کے بحران کے پیدا ہونے کے بعد سے پہلی بار اعلیٰ ترین فوجی قیادت کی سطح پر بات چیت بھی ہوئی تھی۔

Infografik Karte Conflict in eastern Ukraine ENG

مشرقی یوکرائن میں پایا جانے والا علیحدگی پسندی کا خونریز تنازعہ

اس تناظر میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے ساتھ ایک انٹرویو میں اب یہ امید ظاہر کی ہے کہ نئے سال 2018ء میں روس اور نیٹو کے مابین نہ صرف زیادہ مکالمت ہو گی بلکہ اطراف کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے مابین براہ راست ٹیلی فون لائن پر بھی زیادہ رابطے دیکھنے میں آئیں گے۔

یوکرائن: حکومت اور روس نواز باغیوں نے کئی قیدی رہا کر دیے

یوکرائن کے لیے امریکی ہتھیار، نئی خونریزی کے خلاف روس کی تنبیہ

اسٹولٹن برگ نے کہا، ’’ہم سیاسی اور فوجی قیادت، دونوں سطحوں پر مکالمت کے عمل میں آگے بڑھ رہے ہیں اور اس مثبت سوچ کی نیٹو کے رکن تمام ممالک کی طرف سے مکمل تائید و حمایت کی جا رہی ہے۔‘‘

Karte Ukraine Russland Sewastopol ENG

یوکرائنی جزیرہ نما کریمیا جسے روس نے سن دو ہزار چودہ کے اوائل میں اپنے ریاستی علاقے میں شامل کر لیا تھا

نیٹو کے ماسکو کے ساتھ روابط کے حوالے سے اب تک کی صورت حال میں یہ بات بھی اہم ہے کہ مشرقی یوکرائن میں روس نواز علیحدگی پسند باغیوں کی حمایت کی صورت میں روسی جارحیت کے خلاف نیٹو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں بھی کافی اضافہ کر چکا ہے۔

یوکرائن میں روس نواز باغیوں کا ’چھوٹے روس‘ کے قیام کا اعلان

یورپی یونین کے رکن ممالک کا دفاعی یونین کے قیام کا فیصلہ

اس کے علاوہ نیٹو کا روس پر یہ الزام بھی ہے کہ ماسکو غلط پراپیگنڈے اور سائبر حملوں کے خطرات کو استعمال کرتے ہوئے پورے خطے کی سلامتی کو متاثر کر رہا ہے۔ ژینس اسٹولٹن برگ نے کہا، ’’نیٹو ماسکو کے ساتھ سیاسی مکالمت کا خواہش مند ہے، نہ کہ ہتھیاروں کی کوئی نئی دوڑ شروع کرنے کا۔ لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ ماسکو کے ساتھ یہ بات چیت آسان نہیں ہو گی۔‘‘

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار