نئی ہزاری میں جنم لینے والے نوجوان اور ’پشتون سپرنگ‘ | بولو بھی بیرومیٹر | DW | 01.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بولو بھی بیرومیٹر

نئی ہزاری میں جنم لینے والے نوجوان اور ’پشتون سپرنگ‘

پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) شہریوں کی جانب سے نچلی سطح پر شروع کی گئی۔ طاقت کے سامنے سچ بولنے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال نے اس تحریک کو ملک میں انسانی حقوق کے لیے اٹھائی جانے والی آوازوں میں سے سب سے توانا بنا دیا۔

منظور احمد پشتین اپنے سمارٹ فون پر ایک میسج ٹائپ کر رہے ہیں۔ یہ فون بغیر تار والے اسپیکروں سے منسلک ہے۔ اس کمرے میں موجود افراد جو پشتون ثقافت کے تحت زمین پر بیٹھے ہیں، میسج ٹائپ کرنے کی آواز کو ان اسپیکروں کے ذریعے سن سکتے ہیں۔ ان افراد میں ایک ایسا خاندان بھی ہے، جو اپنے تین بیٹے کھو چکا ہے۔ یہ خاندان ایک طویل سفر طے کر کے پی ٹی ایم کے پشاور میں منعقد ہونے والے احتجاج میں شرکت کے لیے آیا ہے۔ پشتین، جو بہت سے پشتونوں کی ترجمانی کرتے ہیں، خود ایک اچھے سامع کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ منظور پشتین کا کہنا ہے، ''لوگ مجھے فیس بک اور ٹوئٹر کے ذریعے آگاہ کرتے ہیں کہ کس طرح انہیں اور ان کے اہل خانہ کو سکیورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بعض مرتبہ میں انہیں اپنے پاس مدعو کرتا ہوں اور اکثر میں جبری طور پر لاپتہ ہو جانے والے افراد کے لواحقین کے پاس خود جاتا ہوں۔ یہ خاندان دباؤ اور پریشانی کا شکار ہیں اور انہیں قانون نافذکرنے والے اداروں پر اعتماد نہیں رہا۔‘‘

اس تحریک کا آغاز 2014ء میں اس وقت ہوا، جب پاکستانی قبائلی علاقے وزیرستان میں طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد یونیورسٹی کے آٹھ طلبا نے علاقے سے بارودی سرنگیں ہٹائے جانے کا مطالبہ کیا۔ 2018ء میں پاکستان کے جنوبی بندرگاہی شہر کراچی میں ایک ستائیس سالہ پشتون نوجوان نقیب اللہ محسود کی ماورائے عدالت ہلاکت کے خلاف احتجاج پر پی ٹی ایم کو ملک گیر حمایت حاصل ہوئی۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسا جامع پلیٹ فارم قائم ہو گیا، جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں پشتون شہریوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں اور اغوا کے واقعات کی تحقیقات کے مطالبے بھی شامل ہو گئے۔

پی ٹی ایم کی جانب سے پاکستان کی مقتدر فوجی اشرافیہ پر تنقید کے سبب میڈیا کے تمام بڑے اداروں نے اس تحریک کو کسی قسم کی کوریج دینے سے انکار کر دیا۔ مثال کے طور پر فروری 2019ء میں مقامی پشتو ٹی وی چینل 'خیبر ٹی وی‘ نے فوج کے دباؤ پر منظور پشتین کے ساتھ کیا گیا ایک انٹرویو نہ چلانے کا فیصلہ کیا۔

منظور پشتین اور ان کے ساتھیوں نے مرکزی دھارے کے میڈیا کی جانب سے عائد کی گئی سنسرشپ سے بچنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ منظور پشتین کا کہنا ہے، ''میں سوشل میڈیا سے پہلے بھی ایک سیاسی کارکن تھا۔ مجھے ایسے بڑے احتجاج یاد ہیں، جنہیں اخبارات نظر انداز کر دیتے تھے۔ اب عوام تک پہنچنا اور انہیں مسائل اور واقعات کے بارے میں بتانا آسان ہو گیا ہے۔ اس کا اثر کافی زیادہ ہے۔ اگر سوشل میڈیا نہ ہوتا، تو پی ٹی ایم بھی نہ ہوتی۔‘‘

سوشل میڈیا کے ذریعے سیاسی فعالیت

پی ٹی ایم کے زیادہ تر حامی پاکستان کے عام شہری ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں شدت پسندی کے خلاف طویل جنگ میں خصوصاﹰ پشتون باشندوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب توجہ دلانے کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا۔ مشکلات کے باوجود پی ٹی ایم کے دو اہم ارکان جولائی 2018ء کے انتخابات میں پاکستان کی وفاقی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے۔ ان میں سے ایک محسن داوڑ اپنے کارکنوں اور حامیوں کو متحرک کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ داوڑ کا کہنا ہے، ''سوشل میڈیا نے پی ٹی ایم کے مقصد میں ہماری بہت مدد کی۔ پی ٹی ایم کا پیغام عام کرنے میں سوشل میڈیا نے بنیادی کردار ادا کیا۔ اس عمل میں سیاسی کارکنوں کی ایک نئی نسل کی تربیت ہوئی ہے۔ ہم نے مرکزی دھارے کے میڈیا کی سنسرشپ کا مقابلہ کیا ہے۔ ہماری نقل و حرکت پر حدیں لگائی گئیں۔ ایسے لوگوں کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے، جنہوں نے پی ٹی ایم کے رضاکاروں کو چائے کے ایک کپ کی بھی پیشکش کی تھی۔ ہمارے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور ہمیں خاموش کرانے کے لیے پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ(پیکا 2016ء) استعمال کیا گیا۔‘‘

سکیورٹی اداروں کی جانب سے پی ٹی ایم کے عوامی احتجاج کو متعدد بار روک دیا جاتا ہے اور اس کے کارکنوں کو دہشت گردی سمیت مختلف الزامات کے تحت گرفتار کیا جا چکا ہے۔ بہت سے افراد کو تحریک کی حمایت کے نیتجے میں اپنی سرکاری اور نجی ملازمتوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ منظور پشتین اور گلالئی اسماعیل سمیت کئی رہنماؤں کو پاکستان کے اندر بھی سفری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کم از کم ایک موقع پر پی ٹی ایم کی ایک احتجاجی ریلی کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی گرفتارکر لیا گیا۔

'یہ کیسی آزادی ہے‘

پاکستان میں زیادہ تر ٹیلی وژن پر انحصار کرنے والی میڈیا انڈسٹری نے اس تحریک کو نظر انداز کیا۔ اگر کوریج کی بھی جائے، تو یہ زیادہ تر منفی نوعیت کی ہوتی ہے، جس میں پی ٹی ایم کے حامیوں پر پاکستان کے مخالفین کا ساتھ دینے اور غیر ملکی ایجنڈے پر عمل کرنے کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ یہ وہ الزامات ہیں، جن کا سامنا پاکستان میں اختلافی رائے رکھنے والے اکثر افراد کو کرنا پڑتا ہے۔ فروری 2019ء میں امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے ادارتی صفحے کے لیے منظور پشتین کے تحریر کردہ ایک مضمون کو پاکستان میں اس امریکی اخبار کے مقامی پارٹنرز نے سنسرکر دیا۔ انہوں نے 'فوج پشتونوں کو غدار کہتی ہے، ہم صرف اپنے حقوق چاہتےہیں‘ کی اصل شہ سرخی شائع کرنے کے بجائے اس کی جگہ خالی چھوڑ دی تھی۔

پی ٹی ایم کی حمایت کرنے والوں کو ٹوئٹر انتظامیہ کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ وہ پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک واقعہ ایسا بھی تھا، جس میں ماہر سماجیات ڈاکٹر ندا کرمانی نے منظور پشتین کے ہمراہ لی گئی ایک تصویر شیئر کی تھی۔

دیگر افراد کو ان کی سوشل میڈیا پوسٹس پر ہراسگی یہاں تک کہ گرفتاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق عدم تشدد پر مبنی پی ٹی ایم کی مہم کے درجنوں حامیوں اور ارکان کو گرفتار کیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ انہیں بغیر مقدمات کے گرفتار کیا گیا اور ملک بھر میں ڈرایا دھمکایا بھی گیا۔ پی ٹی ایم کے سینتیس کارکنوں کو جون سن دو ہزار انیس میں بغاوت کے مقدمات کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن اس مہم کے حامی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ دلانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہیش ٹیگ 'یہ کیسی آزادی ہے؟‘ پاکستان بھر میں پی ٹی ایم کے حامیوں اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی آواز بن چکا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے چیک پوائنٹس پر لوگوں کے ہراساں کیے جانے اور پی ٹی ایم کے کارکنوں پر تشدد کی موبائل ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں۔ اس کے نتیجے میں پاکستانی عوام کو ایسے تکلیف دہ مناظر دیکھنے کو ملے ہیں، جو دوسری صورت میں وہ شاید کبھی نہ دیکھ پاتے۔ ہیش ٹیگز اور منظور پشتین کی مخصوص ٹوپی وہ اہم ذریعے ہیں، جو مختلف قومیتوں اور پس منظر رکھنے والے شہریوں کے گروہوں کو اس مہم کے ساتھ اپنی شناخت دکھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

حیات پریگال، پی ٹی ایم بلاگر

چھ دنوں تک ان کے اہل خانہ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ حیات پریگال کہاں ہیں؟ یہاں تک کہ انہوں نے خود بذریعہ فون اپنے خاندان کو اطلاع دی کہ وہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحویل میں ہیں۔ ان پر سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے ملک کو بدنام کرنے کا الزام لگایا گیا۔ انہیں ریاستی پالیسیوں پرتنقید کرنے کے الزام میں مجرم ٹھہرایا گیا۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشل میں جنوبی ایشیا کی علاقائی ریسرچر رابعہ محمود کا مطالبہ ہے کہ پاکستان انسانی حقوق کا تحفظ کرنے والوں کو بدنام اور ہراساں کرنے کا عمل فوری طور پر بند کرے۔

حیات پریگال کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیے جانے اور ان کے خلاف مجرمانہ مقدمہ قائم کیے جانے کی وجہ سے انہیں متحدہ عرب امارات میں اپنی ملازمت سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ وہ اپنی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد بروقت پاکستان سے واپس متحدہ عرب امارات نہیں جا سکے تھے۔ سوشل میڈیا پر یا آف لائن پرامن سیاسی رائے کا اظہار کرنا جرم نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انسانی حقوق کا تحفظ کرنے والوں کی گرفتاریوں سے متعلق جاری کردہ اپنے ایک مذمتی بیان میں کہا کہ پیکا 2016ء ایک کالا قانون ہے، جو ریاست اپنے ہی شہریوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ اس بیان کے مطابق، ''پاکستان یا تو اس قانون کو ختم کرے یا اسے انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے اس میں ضروری ترامیم کرے۔ اس کے ذریعے جائز اظہار رائے کو بھی جرم قرار دیا جا رہا ہے۔ پیکا کی شقیں اختلافی رائے کے خاتمے کے لیے استعمال کی گئیں اور مستقبل میں بھی ان کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

گلالئی اسماعیل، کردار کشی اور سفری پابندیاں

بین الاقوامی شناخت رکھنے والی پاکستان کی امن کے لیے سرگرم کارکن اور پی ٹی ایم کی معروف حامی گلالئی اسماعیل کو بھی اپنی سرگرمیوں کے باعث سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے، ''میں نے پی ٹی ایم کا مقصد اجاگر کرنے کے لیے تمام دستیاب مقامی اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز کا استعمال کیا۔ انسانی حقوق کے ایک کارکن کے طور پر یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں ان کی حمایت کروں اور ان کی آواز بنوں۔‘‘

گلالئی اسماعیل کی فعالیت کے ردعمل میں ان کے خلاف ایک پولیس رپورٹ درج کی گئی، جس میں انہیں ایک غیر قانونی اجتماع کے انعقاد کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ اس کے بعد 2018ء میں ان کا پاسپورٹ بھی ضبط کر لیا گیا۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اس قدام کو غیر قانونی قرار دیا لیکن انہیں ان کی سفری دستاویزات واپس نہیں کی گئیں۔ ان کا پاکستان سے باہر جانا ناممکن بنا دیا گیا۔ ان کا نام اس وقت 'خصوصی دلچسپی کے حامل افراد‘ کی فہرست میں شامل ہے۔ گلالئی اسماعیل کی نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کے لیے کام کرنے والی تنظیم اوَیئرگرلز کو بھی ہدف بنایا گیا۔ اس تنظیم کے بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیے گئے ہیں جبکہ اس کے ساتھ کام کرنے والے اسکولوں، کالجوں اور ہوٹلوں کی انتظامیہ کو ڈرایا دھمکایا گیا ہے۔

گلالئی اسماعیل کو سوشل میڈیا پر ایک نفرت انگیز مہم کا مقابلہ کرنے پر بھی مجبور کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر کردار کشی کرنے والی 'ٹرول آرمیز‘ نے ان پر اور پی ٹی ایم پر غیر ملکی ایجنٹ ہونے اور پاکستان کے حریف ہمسایہ ملک بھارت کے لیے کام کرنے کے الزامات لگائے۔ گلالئی اسماعیل کے بقول، ''بنیادی طور پر میرے واٹس ایپ پیغامات کے جعلی سکرین شاٹس کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ میں نے پی ٹی ایم کے جلسوں میں آنے کے لیے خواتیں کو رقوم دی تھیں۔ یہ میرے اور میرے اہل خانہ کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا تھا۔ میں کردار کشی کا سامنا کر رہی ہوں۔ مجھے ریاست، ثقافت اور مذہب مخالف قرار دیا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں مجھے منظور پشتین کے مقابلے میں زیادہ شدید کردار کشی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘‘

لیکن یہ تحریک اب بھی موجود ہے اور فعال ہے۔ پی ٹی ایم دباؤ، گرفتاریوں، بدنامی اور غداری کے الزامات کے باوجود سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے کسی دور میں لا قانونیت کا گڑھ سمجھے جانے والے قبائلی علاقوں کو مثال بنا کر ملک میں شہری حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔