نئی مودی سرکار کی خارجہ پالیسی کیا ہو گی؟ | حالات حاضرہ | DW | 06.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

نئی مودی سرکار کی خارجہ پالیسی کیا ہو گی؟

یورپی یونین بھارت کے ساتھ گہرے معاشی تعلقات اور عالمی سطح پر مضبوط شراکت چاہتی ہے۔ تاہم یورپی اسکالروں کی رائے میں اصلاحات اور علاقائی امن کے بغیر جمہوری تسلسل بے فائدہ رہے گا۔

بيلجيم کے دارالحکومت برسلز میں واقع یورپی پریس کلب میں منعقدہ اعلی سطحی مباحثے ميں یورپی یونین کے دفتر خارجہ کی نمائندہ کیرولن ونو، بھارتی سفارتخانے کی سیکنڈ سیکرٹری نیہا یادیو، تھنک ٹینک چیتھم ہاوس کے سینئر فیلو گیرتھ پرائس اور سینٹر فار یورپیئن پالیسی اسٹڈیز کی سینئر فیلو سٹیفینیا بیناگلیا نے خطاب کیا۔ اس تقریب کا اہتمام  تھنک ٹینک ای یو ایشیا نے کیا تھا۔

جمہوری تسلسل، معاشی ترقی اور اصلاحات

کیرولین ونو کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اور بھارت کے مابین، سن 2017 کے دو طرفہ معاہدے کے مطابق ایک ہمہ گیر اتفاق رائے قائم ہے جو جمہوری آزادیوں، سیکولر ازم، علاقائی اور عالمی امن، انسانی حقوق اور پائیدار ترقی جیسے اصولوں پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا، ''ہم بھارت کو قانون کے احترام پر مبنی عالمی نظام کی تعمیر میں ایک اہم حلیف تصور کرتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ بھارت واٹر مینیجمنٹ، بنيادی ڈھانچے کی تعمیر، اسٹرکچرل اصلاحات، بینکاری نظام اور تجارتی پالیسی میں اصلاحات متعارف کرے گا۔ ہمیں پالیسيوں ميں استحکام کی ضرورت ہے جو فری ٹریڈ معاہدے کا بنیادی عنصر ہے۔ ماحولیاتی آلودگی، صارفین کے حقوق اور فوڈ سیفٹی کے حوالے سے یورپی یونین کے قوانین اور معیارات بہت کڑے ہیں۔

برسلز میں بھارتی سفارت خانے کی سیکنڈ سیکرٹری نہیا یادیو کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں بھارت کی عالمی ساکھ غیر معمولی حد تک بہتر ہوئی ہے۔ بھارت کی مجموعی قومی پیداوار لگ بھگ ڈھائی ٹریلین ڈالر ہے، بھارت دنیا کی چھٹی بڑی معیشت ہے اور ایک بڑے پیداواری ڈھانچے کے ساتھ تکنیکی میدان اور انجینيئرنگ میں ٹھوس ترقی کر رہا ہے۔ سينٹر فار یورپیئن پالیسی اسٹڈیز کی سینئر فیلو سٹیفانیا بیناگلیا کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت زرعی اصلاحات، لیبر اصلاحات اور حقیقی لبرل اصلاحات کرے ورنہ نئے بھارت کا نعرہ محض نعرہ ہی رہے گا۔ ایک تحقیق کے مطابق آئندہ چند برسوں میں بھارت میں دس کروڑ لوگ بے روزگار ہو سکے ہيں۔ بھارت کو ایک ایسے نظام اور پالیسی کی ضرورت ہے جو روزگار پیدا کرے۔ اور اس حوالے سے تعلیم کی فراہمی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔   

’پہلے ہمسایہ‘پالیسی، انسانی حقوق اور پاک بھارت تعلقات

مقررین نے مودی سرکار کی 'پہلے ہمسایہ‘ پالیسی پر بھی اظہار خیال کیا۔ اس حوالے سے سارک تنظیم کے غیر موثر ہونے کی بات بھی ہوئی اور 'بیمسٹک‘ معاہدہ (بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، نیپال، سری لنکا، میانمار، تھائی لینڈ) کے ساتھ ساتھ بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال کے درمیان گہرے معاشی و ثقافتی تعلقات کے امکانات اور ضرورت جیسے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ تاہم جنوبی ایشیا ميں امن و استحکام کے حوالے سے پاک بھارت تعلقات کو مرکزی حیثیت دیے بغیر با معنی گفتگو ممکن نہیں۔

چیتھم ہاؤس کے سینئر فیلو گیرتھ پرائس کا کہنا تھا کہ بھارت کی علاقائی پالیسی نہ چاہتے ہوئے بھی پاکستان کو مرکزی حیثیت دیتی ہے۔ ''جب بھارت بیمسٹک معاہدے کی بات کرتا ہے تو اس ليے کہ پاکستان اس میں شامل نہیں۔ سارک کے حوالے سے بھی بھارت جو بھی بات کرتا ہے، اس تناظر میں ہوتی ہے کہ اس میں پاکستان شامل ہے۔‘‘ پرائس کے مطابق اس وقت بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ گفتگو میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی جا رہی لیکن سب جانتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کبھی نہ کبھی اسے پاکستان سے بات کرنا ہی ہوگی۔ اس وقت بی جے پی کی حکومت ایک طاقت ور بھارت کا امیج قائم کرنا چاہتی ہے اور 'دو طرفہ مزاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ دونوں طرف قوم پرستی کو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں گیرتھ پرائس کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی تقریب حلف برداری میں پاکستان کو مدعو نہیں کیا گیا لیکن افغانستان کو بھی مدعو نہ کر کے ایک پیغام دیا گیا ہے کہ ہم آپ کو مکمل تنہا نہیں کرنا چاہتے۔‘

کیرولین ونو کا کہنا تھا کہ مالدیپ اور سری لنکا کے حالیہ بحران اور روہنگیا کے مسئلے پر بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان کشیدگی جیسے معاملات میں بھارت بہت مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ سٹیفینیا بیناگلیا نے بھارت میں بڑھتی ہوئی قوم پرستی، مقبولیت پسندی اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ منفی سلوک کا ذکر کیا۔

اندھی قوم پرستی یا امن و آشتی کا مشترکہ تہذیبی ورثہ؟

ڈی ڈبلیو اردو کا سوال تھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے فنکاروں، کھلاڑیوں اور سماجی کارکنوں کو میل ملاپ کی اجازت دیں اور ثقافتی امتزاج جاری رہنے دیں کیونکہ دونوں طرف کا تہزیبی ورثہ دراصل امن کا ورثہ ہے۔ محض کرتار پور یا کٹاس راج نہیں بلکہ ایسے کئی مقدس مقامات ہیں جو عوام کو قریب لا سکتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں نہیا یادیو کا مختصر جواب یہ تھا کہ 'دہشت گردی کے خاتمے تک ایسا ممکن نہیں‘۔ تاہم کیرولین ونو کا کہنا تھا کہ یورپی یونین دوستی اور بھائی چارہ کی ہر تجویز کا خیر مقدم کرے گی۔ ہم دوطرفہ مذاکرات اور دو طرفہ حل کی حمایت کرتے ہیں جس میں مقامی لوگوں کی شمولیت ہو کیونکہ اس خطے کو استحکام اور خوش حالی کی اشد ضرورت ہے۔

ڈی ڈبلیو اردو کے سوال کے جواب میں یورپی یونین کی دفتر خارجہ سے وابستہ جنوبی ایشیائی امور کی ماہر شاعری ملہوترہ کا کہنا تھا، ''ثقافتی اور سماجی سطح پر بھارت اور پاکستان کے مابین رابطہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ بیرونی یونیورسٹیوں میں دونوں ملکوں کے طلبا مل جھل کر رہتے ہیں اور دونوں طرف ایک دوسرے کی فلموں، موسیقی اور شاعری کو پسند کیا جاتا ہے۔ ثقافتی اور تہذیبی ملاپ ہمیشہ قائم رہے گا کیونکہ ہم بنیادی طور پر ایک جیسے لوگ ہیں اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے لگاؤ رکھتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزيد کہا، ''تاہم افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ عوام کا یہ تال میل اور ثقافتی امتزاج دونوں ریاستوں کے تنازعات حل نہیں کر سکا۔ ہماری آئندہ نسلوں کو ان تنازعات سے بچنے کے لیے بہتر تعلیم اور شعور حاصل کرنا ہوگا تاکہ وہ دونوں طرف کی طاقت ور اشرافیہ کے پراپگنڈہ کا شکار نہ ہوں۔ قومی ریاستوں کے تنازعات اور ان پر مبنی جذباتی بیانیوں کی جکڑ بندی ہمارے محبت اور آشتی پر مبنی مشترکہ تہذیبی ورثے سے زیادہ طاقتور دکھائی دیتی ہے۔‘‘