نئی دہلی: خواتین کے خلاف جرائم، لیڈیز پولیس کا خصوصی اسکواڈ | حالات حاضرہ | DW | 23.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

نئی دہلی: خواتین کے خلاف جرائم، لیڈیز پولیس کا خصوصی اسکواڈ

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں خواتین کے خلاف جرائم کو روکنے کے لیے دسمبر سے ایک نیا لیڈیز پولیس اسکواڈ کام کرنا شروع کر دے گا۔ ’رفتار‘ نامی یہ اسکواڈ موٹر سائیکلوں پر سوار چھ سو خواتین پولیس اہلکاروں پر مشتمل ہو گا۔

اسی طرح کا اسپیشل لیڈیز پولیس یونٹ بھارتی شہر جے پور میں بھی متعارف کرایا جا چکا ہے

اسی طرح کا اسپیشل لیڈیز پولیس یونٹ بھارتی شہر جے پور میں بھی متعارف کرایا جا چکا ہے

نئی دہلی سے جمعرات تئیس نومبر کی شام ملنے والی تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کی رپورٹوں کے مطابق بھارتی حکمران اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات پر بہت پریشان ہیں کہ ملکی دارالحکومت میں عورتوں کے خلاف جرائم ، خاص طور پر ان پر جنسی حملے اور ان کے خلاف جان لیوا مسلح وارداتیں بہت زیادہ ہو چکی ہیں۔

اس صورت حال میں بہتری اور ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے اب جو ’رفتار‘ اسکواڈ قائم کیا گیا ہے، وہ اگلے ماہ سے اپنا کام کرنا شروع کر دے گا۔ 600 خواتین پر مشتمل یہ اسپیشل اسکواڈ موٹر سائیکلوں پر سوار لیڈیز پولیس کا ایک ایسا دستہ ہو گا، جس میں شامل اہلکار دو دو کے گروپوں میں بہت زیادہ آبادی والے اس بھارتی شہر کے مختلف حصوں میں سڑکوں پر گشت کیا کریں گی۔

دس سالہ بھارتی لڑکی کا تین مردوں کے ہاتھوں تین ماہ تک ریپ

جنسی زیادتی کی شکار  بچی کو اسقاط حمل کی اجازت مل گئی

بھارت میں جنسی حملوں کے خلاف راہبائیں کنگ فُو کلاسوں میں

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان چھ سو پولیس اہلکاروں میں سے ہر موٹر سائیکل پر دو دو خواتین سوار ہوں گی۔ ان میں سے ڈرائیونگ کرنے والی پولیس وومن کے پاس ایک پستول ہو گی جبکہ اس کے پیچھے بیٹھی ہوئی ہر اہلکار کے پاس اے کے 47 رائفل ہو گی۔

اس کے علاوہ اس پولیس اسکواڈ کی اراکین کے پاس کالی مرچوں والا ’پیپر سپرے‘ بھی ہو گا اور ان خواتین کے جسموں پر باڈی کیمرے بھی لگے ہوئے ہوں گے، تاکہ کسی بھی صورت حال میں قانون کے مطابق تفتیش کے لیے ان کیمروں کی فوٹیج بھی استعمال کی جا سکے اور مجرموں کو شناخت کیا جا سکے۔

برطانیہ کا شہر نیو کاسل: نوجوان لڑکیوں کے ’ریپ کی پارٹیاں‘

بھارت: ریپ کے بعد ایک ہی خاتون پر چوتھی بار تیزاب حملہ

ماں کا گینگ ریپ، رکشے سے باہر پھینکی گئی نو ماہ کی بچی ہلاک

دہلی پولیس کے ترجمان دیپندر پاٹھک نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا، ’’یہ اسپیشل اسکواڈ ملکی دارالحکومت میں خواتین کے خلاف جرائم کی بہت اونچی شرح پر قابو پانے میں بہت مددگار ثابت ہو گا۔ بنیادی طور پر اس اسکواڈ کی تشکیل سڑکوں پر جرائم کے ارتکاب کی روک تھام کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔‘‘

بھارت میں خواتین اور لڑکیوں کو اپنے خلاف کئی طرح کے جرائم کا سامنا رہتا ہے، جن میں ریپ سے لے کر قتل اور ڈکیتیوں تک کے واقعات شامل ہوتے ہیں۔

اس سال اکتوبر میں مکمل کیے گئے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کے ایک سروے کے مطابق ایک بہت بڑے شہر کے طور پر برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو کے ساتھ ساتھ نئی دہلی بھی عورتوں کے خلاف جنسی جرائم کے حوالے سے ’دنیا کا بدترین شہر‘ ہے، جسے بہت سے حلقے بھارت کا ’ریپ کیپیٹل‘ بھی کہتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:50

بھارت: گینگ ریپ کے ملزم کی رہائی پر احتجاج

DW.COM

Audios and videos on the topic