’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں‘ | دستک | DW | 22.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں‘

’اپنا وقت بھی آئے گا‘ یہ الفاظ ریحان نامی اس نو عمر لڑکے کی کالی ٹی شرٹ پر لکھے تھے جس کا نچلا دھڑ برہنہ تھا اور جو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس تصویر میں انتہائی تکلیف اور بےچارگی کی تصویر بنا نظر آ رہا ہے۔

کراچی کے ایک پسماندہ علاقےسے تعلق رکھنے والا ریحان چار بہن بھائیوں میں سے ایک تھا جو اپنے والدکے ساتھ قصائی کا کام کرتا تھا۔ غربت کی گود سے جنم لینے والے اس بچے کا شاید یہی سب سے بڑا خواب تھا کہ وہ کبھی نہ کبھی اپنی ناتمام تمنائیں حاصل کرے گا اور ایک اچھی زندگی گزار سکے گا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ یہ بے حس معاشرہ اس کا کوئی اچھا وقت آنے سے پہلے ہی اس کی زندگی ہی چھین لے گا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند افراد ریحان کو ایک گھر میں لوہےکی گرل سے باندھ کر اس سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں اور شدید تشدد سے زخمی چہرے اور ٹوٹے دانتوں کےساتھ ریحان خون تھوکتے ہوئے اس ویڈیو میں اپنے دوستوں کے ہمراہ چند ایک چوریوں کا اقرار جرم کرتا نظرآتا ہے۔ اس سے اقرار جرم کروانے والے بظاہر تعلیم یافتہ اور اپنے تئیں معاشرے کے سدھار کے ٹھیکے دارچند افراد اس بچے کو نیم برہنہ کر کے اس کے اقرار جرم کو عکس بند کرتے ہیں اور اسے سوشل میڈیا کی زینت بنا کر شاید یہ سمجھتے ہیں جیسے انہوں نے معاشرے کا نہ جانے کتنا بڑا ناسور جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہو۔

چوری جس کا نہ تو پولیس کو کوئی ثبوت ملا اور نہ ہی اس کے پاس سے چوری کا کوئی مال برآمد ہوا، اس چوری کے جرم میں دو گھنٹے تک ایک کمزور پندرہ سالہ بچہ اس گھر کے افراد سے ہی نہیں بلکہ وہاں موجود چند محلہ داروں کے ہاتھوں بھی مار کھاتا رہا۔ ایک اور کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زخمی حالت میں نیم مردہ ریحان زمین پر پڑا ہے اور اس پر تشدد کرنے والے نہایت سنگ دلانہ انداز میں اسے حکم دے رہے ہیں کہ وہ اپنی پینٹ پہنے۔ یہ لمحات کسی کا بھی دل ہلا دینے کے لیے کافی ہیں لیکن اس پر تشدد کرنے والوں کی آوازمیں نہ لرزہ محسوس ہوتا ہے اور نہ رحم۔ ریحان کی حالت غیر ہونے پر آخر رینجرز کو بلایا گیا اور 'خطرناک ڈاکو' ریحان کا نیم مردہ جسم ان کے حوالے کر دیا گیا جو ہسپتال پہنچنے تک زندگی کی بازی ہار چکا تھا۔

آج اسی سوشل میڈیا اور ہر نیوز چینل پر شدت غم سے نڈھال دہائیاں دیتی ریحان کی ماں یہ سوال کرتی نظرآرہی ہے کہ اگر اس کا بیٹا چور تھا تو اسے پولیس یا رینجرز کے حوالے کیوں نہ کیا گیا؟ اسے عدالت سےعمرقید کی سزا دلوا دیتے لیکن جان سے تو نہ مارتے۔ ریحان کی غش کھاتی ماں اور انصاف کے لیے تڑپتے اس کےباپ کو دیکھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہوں کہ کیا بحیثیت معاشرہ ہم اتنے سنگدل ہو گئے ہیں کہ ایک نو عمر بچے کی خطا معاف کرنے کا جذبہ ہم میں نہیں رہا؟ ہمارا دل کشمیر، فلسطین، راکھین سمیت دنیا بھر کےمسلمانوں کے لیے تو دھڑکتا ہے، وہاں کے مظلوم بچوں کی آہیں تو سنائی دیتی ہیں لیکن اپنے ہی ملک میں اپنےسامنے کھڑے ایک بچے کی نہ تو وہاں موجود کسی شخص کو تکلیف دکھائی دی ہے اور نہ ہی اس کی دہائیوں نے کسی کے دل پر کوئی اثر کیا۔

میں آج تک یہ نہیں سمجھ پائی کہ کسی کمزور پر اپنی طاقت دکھا کر کون سی راحت اور تسکین محسوس ہوتی ہے؟ میں یہ بات بھی نہیں سمجھ پا رہی کہ اگر اس بچے نے کوئی چھوٹی موٹی چوریاں کی بھی تھیں تو کیا یہ اس کا اتنا بڑا قصور تھا کہ اسے اپنی جان سے اس کی قیمت چکانا پڑی؟ ایک ایسے ملک میں جہاں اربوں کھربوں ہڑپ کر جانے والے چوروں کو تو ہم اپنا آقا بنا کر اپنے سروں پر ایک بار نہیں بار بار بٹھانے پر تیارہوتے ہیں، اسی ملک میں چند سو یا چند ہزار چرا کر اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کی کوشش کرنے والے ایک کم عمر لڑکے کو سبق سکھانے کے نام پر مار مار کر قتل کر دیتے ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے اور کہاں کی منطق؟

افسوس کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں قانون کی کمزور اور غیر تسلی بخش گرفت ہو، وہاں ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ ایسے کئی واقعات اب تک منظر عام پر آچکے ہیں جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کرنے کی بجائے مشتعل ہجوم نے قانون اپنے ہاتھوں میں لیا ہو۔ گزشتہ برس خانیوال میں مشتعل عوام کے ہجوم نے بکری چوری کرنے کی کوشش کرنے والے ایک شخص کو کلہاڑیوں کے وار کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح چند برس قبل سیالکوٹ میں دو نوجوان بھائیوں کو ڈکیتی کے شبے میں ہجوم نے شدید تشدد کرتے ہوئے قتل کر دیا تھا۔ اسی کراچی شہر میں چند برس قبل کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جب ہجوم نے موبائل فون چھیننے کی کوشش کرنے والوں کو تشدد کر کے قتل کر دیا اورایک واقعے میں تو دو افراد کو پٹرول چھڑک کر آگ بھی لگا دی گئی۔

توہین مذہب کے جھوٹے سچے الزامات کے تحت بدترین تشدد کر کے یا زندہ جلا کر مار دیے جانے کے خوفناک واقعات ان تمام کے علاوہ ہیں۔ وقتا فوقتا رونما ہونے والے ایسے نہ جانے کتنے ہی واقعات ہیں جو اب ہم بھول گئے ہوں مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے۔ ہمارے لوگوں میں یہ بے حسی کیوں پروان چڑھ رہی ہے؟ کیا ہم اتنے ہی مایوس ہیں کہ ہمیں کہیں سے انصاف کی توقع نہیں اور کیا اس مایوسی نے ہمیں اتنا ہی بے حس اور سنگدل بنا دیا ہے کہ ہماری نظر میں کسی دوسرے کی جان کی کوئی قدر و قیمت نہیں؟