’میں نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا،‘ محمد بن سلمان | حالات حاضرہ | DW | 30.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’میں نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا،‘ محمد بن سلمان

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پہلی بار کہا ہے کہ وہ استنبول کے سعودی قونصل خانے میں گزشتہ برس منحرف سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی ’مکمل ذمے داری‘ قبول کرتے ہیں مگر اس قتل کا حکم انہوں نے نہیں دیا تھا۔

نیو یارک سے پیر تیس ستمبر کو موصولہ نیوز ایجنسی اے پی کی رپورٹوں کے مطابق سعودی ولی عہد نے یہ بات نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے پروگرام 'ساٹھ منٹ‘ کے ساتھ ایک ایسے انٹرویو میں کہی، جو کل اتوار انتیس ستمبر کی رات نشر کیا گیا۔ یہ انٹرویو وہ پہلا موقع تھا کہ سعودی ولی عہد نے کیمرے کے سامنے جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں کھل کا اظہار خیال کیا۔

Bahrain | Journalist Jamal Khashoggi

جمال خاشقجی

اس بارے میں 34  سالہ سعودی ولی عہد نے کہا، ''یہ (جمال خاشقجی کا قتل) ایک خوف ناک جرم تھا۔ میں سعودی عرب کے ایک رہنما کے طور پر اس کی مکمل ذمے داری قبول کرتا ہوں، خاص طور پر اس لیے بھی کہ اس قتل کے مرتکب ایسے افراد ہوئے، جو سعودی حکومت کے اہلکار تھے۔‘‘

تاہم سعودی عرب کے شاہ سلمان کے بیٹے اور ملکی ولی عہد پرنس محمد بن سلمان نے یہ بھی کہا کہ وہ ان الزامات کی بھرپور اور پرزور تردید کرتے ہیں کہ اس قتل کا حکم مبینہ طور پر انہوں نے دیا تھا۔

اس حوالے سے اس ٹیلی وژن انٹرویو میں جب محمد بن سلمان سے یہ پوچھا گیا کہ آیا انہوں نے خاشقجی کے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے بہت تنقیدی کالموں کی وجہ سے اس منحرف سعودی صحافی کے قتل کا حکم دیا تھا، تو محمد بن سمان نے کہا، ''قطعاﹰ نہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ جمال خاشقجی کا قتل 'ایک غلطی‘ تھا۔

لاش آج تک نہیں ملی

جمال خاشقجی سعودی شاہی خاندان کے ناقد ایک ایسے صحافی تھے، جو اپنی ترک منگیتر کے ساتھ شادی کے لیے استنبول کے سعودی قونصل خانے میں دو اکتوبر 2018ء کو اس لیے گئے تھے کہ ایک سرکاری دستاویز حاصل کر سکیں لیکن سعودی حکومت کے ایجنٹوں نے انہیں اس سفارتی مرکز کے اندر ہی قتل کر کے بظاہر ان کی لاش کے ٹکرے ٹکڑے کر دیے تھے۔ ان کی لاش آج تک نہیں ملی۔

سعودی حکومت نے اس قتل کے الزام میں گیارہ سعودی شہریوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع کی تھی، جس کی تفصیلات آج تک خفیہ رکھی گئی ہیں اور یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ آیا ان ملزمان میں سے کسی کو قصور وار بھی ٹھہرایا گیا ہے۔

اس قتل سے متعلق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ جمال خاشقجی کے قتل کی ذمے داری سعودی حکومت پر عائد ہوتی ہے اور اس جرم کے ارتکاب میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ممکنہ کردار کی چھان بین کی جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ واشنگٹن میں امریکی کانگریس بھی یہ کہہ چکی ہے کہ اس کے خیال میں اس 'قتل کے ذمے دار‘ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہیں۔

سعودی عرب کے تین ملین سرکاری اہلکار

خاشقجی کے قتل کے بارے میں اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا، ''کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مجھے یہ علم ہونا چاہیے کہ سعودی حکومت کے لیے کام کرنے والے تین ملین اہلکار ہر روز کیا کرتے ہیں۔ لیکن یہ بات ناممکن ہے کہ یہ تین ملین سعودی حکومتی اہلکار روزانہ اپنے ملک کے رہنما یا دوسرے اہم ترین ریاستی عہدے پر فائز کسی شخصیت کو اپنی روزانہ کی سرگرمیوں کی رپورٹیں بھیجیں۔‘‘

خاشقجی کی منگیتر کا مطالبہ

محمد بن سلمان کے اس انٹرویو سے قبل گزشتہ جمعرات کو نیو یارک میں اپنے ایک انٹرویو میں جمال خاشقجی کی منگیتر خدیجہ چنگیز نے نیوز ایجنسی اے پی کو بتایا تھا کہ ان کے منگیتر کے قتل کا جرم 'صرف اس کے مرتکب افراد تک ہی محدود نہیں تھا‘۔ خدیجہ چنگیز نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ سعودی ولی عہد یہ بھی بتائیں: ''جمال کو قتل کیوں کیا گیا؟ اس کی لاش کہاں ہے؟  اور اس کے قتل کے محرکات کیا تھے؟‘‘

م م / ک م (اے پی)

DW.COM