میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے  گھر اب بھی جلائے جا رہے ہیں | مہاجرین کا بحران | DW | 18.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے  گھر اب بھی جلائے جا رہے ہیں

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ میانمار کی فوج نے بنگلہ دیش کے ساتھ روہنگیا مہاجرین کی واپسی کے ایک معاہدے پر دستخط کے باوجود چند دنوں کے اندر روہنگیا مسلمانوں کے درجنوں گھر جلا ڈالے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میانمار اور بنگلہ دیش کے درمیان ہوا معاہدہ محض دکھاوے کے لیے تھا۔ انسانی حقوق کی اس تنظیم نے سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رواں برس اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں مزید چالیس دیہاتوں میں روہنگیا کے مکانوں کو نذرِ آتش کیا گیا۔

اس طرح اگست سے اس بحران کے آغاز کے بعد روہنگیا مسلمانوں کے جلائے جانے والے دیہاتوں کی کُل تعداد  354 ہو گئی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ تیئیس نومبر کو ینگون اور ڈھاکہ حکومتوں کے مابین مہاجرین کو دو ماہ کے اندر میانمار واپس بھیجنے کی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے باوجود اُسی ہفتے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے زیر استعمال درجنوں عمارتیں جلا دی گئی تھیں۔

ہیومن رائٹس واچ ایشیا کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈم کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں روہنگیا مہاجرین کی اپنے گھروں کو بحفاظت واپسی کے وعدوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا سکتا۔

رواں سال 25 اگست سے میانمار میں شروع ہونے والے بحران کے نتیجے میں ساڑھے چھ لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان پناہ کی تلاش میں بنگلہ دیش ہجرت پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی طرف انسانی حقوق کے ہائی کمشنر زید رعد الحسین نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ میانمار کی فوج کی قیادت میں روہنگیا کے خلاف ہونے والے کریک ڈاؤن میں بظاہر ’نسل کشی کا عنصر‘ بھی شامل دکھائی دیتا ہے۔

عالمی دباؤ کے تحت میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کی سول حکومت نے نومبر کے اواخر میں دو ماہ کی مدت میں رونگیا مہاجرین کی بنگلہ دیش سے واپس میانمار واپسی کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ تاہم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ مہاجرین کی واپسی پوری ذمہ داری کے ساتھ عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

بین الاقوامی امدادی تنظیم ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے گزشتہ ہفتے اپنے ایک سروے میں کہا تھا کہ راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوجی آپریشن میں سات ہزار روہنگیا افراد کو ہلاک کیا گیا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر زید رعد الحسین نے ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا ہے کہ  اگر کوئی عدالت روہنگیا مسلمان اقلیت کے میانمار میں قتل عام کو اُن کی نسل کُشی قرار دے دے تو انہیں اس بات پر قطعی حیرانی نہیں ہو گی۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے راکھین میں اس خونریزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے روہنگیا برادری کی ’نسلی تطہیر‘ بھی قرار دیا جا چکا ہے۔

DW.COM