مہنگائی اور طلب میں کمی، لیکن گولڈ انڈسٹری پرامید | حالات حاضرہ | DW | 17.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مہنگائی اور طلب میں کمی، لیکن گولڈ انڈسٹری پرامید

جیولری مارکیٹوں میں سونے کے زیورات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے باعث سرد بازاری دیکھنے میں آ رہی ہے لیکن عالمی معیشت میں بے یقینی کی وجہ سےسونے میں سرمایہ کاری کا رجحان ابھی اور بڑھے گا۔

default

یہ بات بھارت میں ممبئی سے ملنے والی خبروں میں آج جمعرات کو ورلڈ گولڈ کونسل WGC کی ایک تازہ رپورٹ کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق بہت سے ملکوں میں عام صارفین نے سونے  اور سونے کے زیورات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کی بناء پر نجی استعمال کے لیے اس قیمتی دھات کی خریداری کم کر دی ہے۔

دوسری طرف بین الاقوامی مالیاتی منڈیاں ابھی تک بے یقینی کا شکار ہیں۔ اس لیے موجودہ بحرانی حالات میں سرمایہ کاروں کی طرف سے سونے کی خریداری کا رجحان اب تک کافی زیادہ ہو چکا ہے۔ سونے کی عالمی کونسل کے مطابق کسی بھی غیر واضح صورت حال میں سرمایہ کار نقصانات سے بچنے کے لیے محفوظ سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔

Flash-Galerie Indien Lichtfest Diwali

دنیا بھر میں سب سے زیادہ سونا بھارتی صارفین خریدتے ہیں

یہ بے خطر سرمایہ کاری قیمتی دھاتوں کی خریداری کی صورت میں کی جاتی ہے، جن میں سے سونا سب سے اہم دھات ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انٹر نیشنل سرمایہ کار پہلے ہی سونے میں سرمایہ کاری  میں کافی اضافہ کر چکے ہیں اور توقع ہے کہ مستقبل قریب میں یہ رجحان اور زیادہ ہو جائے گا۔

WGC کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال ستمبر میں ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران عالمی سطح پر سونے کی طلب 1054 ٹن ریکارڈ کی گئی تھی۔ سونے کی یہ مقدار ایک سال پہلے اسی عرصے کے مقابلے میں چھ فیصد زیادہ تھی۔ اس سال جولائی سے لے کر ستمبر تک خریدے گئے اور بہت زیادہ مہنگا ہو جانے والے اس سونے کی مجموعی مالیت 57.7 بلین ڈالر بنتی تھی، جو ایک نیا عالمی ریکارڈ ہے۔

سونے کی طلب میں اس اضافے کی ایک بڑی وجہ بین الاقوامی سطح پر اس میں کی جانے والی سرمایہ کاری تھی۔ اس دوران  سرمایہ کاروں نے جتنا سونا خریدا،وہ سن 2010 کی تیسری سہ ماہی کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ تھا۔

ورلڈ گولڈ کونسل کا کہنا ہے کہ اس سال جولائی سے ستمبر تک کے عرصے میں مختلف ملکوں میں عام شہریوں نے زیورات کی صورت میں جتنا سونا خریدا، وہ ایک سہ ماہی پہلے کے مقابلے میں 10 فیصد کم تھا۔ اس کی وجہ سونے کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتیں تھیں۔ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران بار بار سونے کی قیمتوں کے نئے عالمی ریکارڈ دیکھنے میں آئے۔ ستمبر کے آخر میں تو سونے کی فی اونس قیمت 1920 امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

دنیا بھر میں سب سے زیادہ سونا بھارتی صارفین خریدتے ہیں۔ اسی لیے بھارت دنیا میں سونا درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بھی ہے۔ اس سال کی صرف تیسری سہ ماہی میں بھارت میں سونے کی درآمد 23 فیصد کم ہو کر 203 ٹن رہ گئی تھی۔ سن 2010 کی تیسری سہ ماہی میں بھارت میں درآمد کردہ سونے کا وزن قریب 264 ٹن رہا تھا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار