مہاجر کون اور کیوں ہے؟ | دستک | DW | 20.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

مہاجر کون اور کیوں ہے؟

اقوام متحدہ کے مطابق ہر وہ شخص جو قومیت، نسل، مذہب، کسی خاص سیاسی یا سماجی حلقے سے وابستگی یا اپنی سیاسی رائے کے سبب جبر و ستم یا عقوبت کے خطرات سے بچنے کے لیے اپنا گھر بار اور ملک ترک کرنے پر مجبور ہے، وہ مہاجر ہے۔

عالمی ادارے، انسانی حقوق کی تنظیمیں، سیاسی جماعتیں ہوں یا غیر ملکی آرگنائزیشنز لفظ 'مہاجرت‘ اور 'پناہ گزین‘ کا استعمال ہر اُس جگہ کرتی نظر آتی ہیں جہاں سے کوئی نا کوئی سیاسی مفاد جُڑا ہو۔ گھر بار ترک کر کے در بدر کی ٹھوکریں کھانے والے انسان جنہیں ہم مہاجرین کے نام سے پکارتے ہیں ان کے پیچھے کتنی کہانیاں چُھپی ہیں اور انہیں کس کس طرح کے استحصال اور غیر مساوی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کا اندازہ لگانا نہ تو عالمی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور نہ ہی این جی اوز کے بس کی بات ہے۔ ان کی نا گفتہ بہ صورت حال کو جاننے کے لیے وہ حس اور نظر چاہیے جو انسان کی عظمت اور اُس کی قدر و منزلت کا اداراک رکھتی ہو۔

اعداد و شمار کا کھیل

دنیا بھر میں اس وقت 50 ملین سے زائد انسان اپنا گھر بار چھوڑ کر پناہ کی تلاش میں ہیں۔ یہ اعداد و شمار ہیں بیس جون 2019 ء کو دنیا بھر میں منائے جانے والے مہاجرت کے دن پر اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ۔ مزید برآں اس عالمی ادارے کے اندازے یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس فہرست میں روزانہ کی بنیادوں پر ایک ہزار سے زائد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ مزید تفصیل میں جائیں تو پتا چلتا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سیکنڈ میں کم از کم 20 افراد جنگ، دہشت گردی اور جبر و تعاقب کا شکار ہو کر اپنا سب کچھ پیچھے چھوڑ کر پناہ کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ عالمی ادارے کے مطابق 71 ملین افراد اس وقت بیخ کنی کا شکار ہیں یعنی اپنی جڑیں، اپنے آباء و اجداد یا اپنی سرزمین چھوڑ کر کسی دوسرے خطے کی طرف ہجرت کر چُکے ہیں۔ ایسے انسانوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے جنہوں نے کوئی بین الاقوامی سرحد تو پار نہیں کی مگر اپنے ہی وطن میں اپنا گھر بار چھوڑ کر در بدر ہو رہے ہیں۔

یہ اعدادو شمار بڑے بڑے اجلاسوں اور اہم عالمی تنظیموں کے ایجنڈا پیش کرتے وقت بے دھڑک زیب داستان کے لیے استعمال کیے جا رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اس المیے کو ختم کرنے یا کم از کم دنیا کے اُن خطوں میں جہاں جنگ، جارحیت، سامراجیت اور استحصال کے سبب کئی نسلیں برباد ہو چُکی ہیں، وہاں سیاسی اور معاشی مفادات کو ایک طرف رکھتے ہوئے محض انسانیت کی بقاء کے لیے موثر اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے؟

کہیں مذہب، کہیں سیاست آڑے 

کھیل صرف اور صرف مفادات اور طاقت کا ہے۔ دنیا کا شاید ہی کوئی حصہ ہے جہاں بڑی طاقتوں کی رسہ کشی اور مفادات کی جنگ مقامی باشندوں کی خوشحالی اور پُرسکون زندگی  کو برباد کرنے کا سبب نہیں بن رہی۔ انسان اپنا گھر بار اُسی وقت چھوڑنے پر مجبور ہوتا ہے جب اُسے اُس کا گھر قفس لگنے لگے۔ یہ احساس کہ اُس کی اور اُس کے خاندان والوں کا جان و مال خطرے میں ہے انہیں ہر طرح کی صعوبتیں جھیلتے ہوئے پناہ کی تلاش میں نکلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ خانہ جنگی، جارحیت، دہشت گردی، سیاسی تعاقب، خاندانی دشمنی، یہ وہ عوامل ہیں جن  کے سبب سب سے زیادہ افراد مہاجرت اختیار کرتے ہیں۔ لیکن عصر حاضر میں ایک رجحان ایسا ہے جس کا جواز یا دلیل تو کجا، یہ انسانی تنزلی کا مُنہ بولتا ثبوت ہے۔

کسی خطے میں آباد باشندوں کو اُن کی مذہبی وابستگی اور عقیدے کی بناء پر استحصال کا شکار بنانا اور اُن کے گرد دائرہ اتنا تنگ کر دینا کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے گھر بار، ملک سب کچھ چھوڑ کر مہاجرت پر مجبور ہو جائیں۔ ایسا دور مغرب کی تاریخ کے سیاہ ابواب میں بھی موجود ہے لیکن دور حاضر میں یہ اسلامی دنیا کا ایک بہت بڑا المیہ بنا ہوا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے اُس میں بیرونی طاقتوں کے ساتھ ساتھ خود اس خطے کے اندر پائی جانے والی گروہ بندیاں، مذہب کے نام پر دین کو یرغمال بنا کر اپنی بادشاہت کا زور دکھانے والے مسلم حکمران جو کچھ کر رہے ہیں اُس کا نتیجہ خطے میں بحران، خانہ جنگی اور معاشرتی اور معاشی زبوں حالی کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔

جہاں مفادات آڑے آئیں وہاں عقیدہ ایک طرف، بنیادی انسانی اقدار تک کو پس پشت رکھا جا رہا ہے۔ خُدا کے گھر کے والی بنے ہوئے حکمران ایک طرف مذہبی فرائض کی ادائیگی کے نام پر خوب کاروبار چمکا رہے ہیں اور دوسری جانب دیگر مسلمانوں کو وہ زہر شیریں دے رہے ہیں جو جنون اور انتہا پسندی کے جراثیم پھیلا کر اپنے ہی 'ہم عقیدہ انسانوں‘  کو اندھا بنا دیتا ہے۔ ایسے میں جب ان کی امداد پر چلنے والے ممالک میں بدامنی، انتشار اور جنگ کی سی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس وقت مہاجرت پر مجبور انسانوں کو یہ خادمین حرمین و شریفین اپنے ہاں آنے کی اجازت نہیں دیتے۔ بلکہ ان سے غلامی اور مشقت کروا کر وہ کام لیتے ہیں جو ان کے شہزادے خود نہیں کر سکتے۔ نفاق و تفرقے کا یہ عالم ہے کہ ایک ہی اسلامی جمہوریہ کے اندر ایک ہی کلمہ پڑھنے والے مختلف مسلمان ایک دوسرے کا گلہ کاٹنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کے لیے زمین تنگ سے تنگ تر کرتے جا رہے ہیں۔ 

میں اکثر یہ سوچتی ہوں کہ شاعر مشرق اگر آج زندہ ہوتے تو کیا وہ اپنے نظریہ اسلامی ملّیت اور وطنیت کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہتے:

'ہر ملک ملک ما است کہ ملک خدائے ما است‘۔

نہیں ہر گز نہیں۔

DW.COM