مہاجر دوست میئر پر قاتلانہ حملہ کرنے والے کو چودہ برس قید | مہاجرین کا بحران | DW | 01.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجر دوست میئر پر قاتلانہ حملہ کرنے والے کو چودہ برس قید

ایک جرمن عدالت نے کولون کی میئر پر قاتلانہ حملہ کرنے والے شخص کو چودہ برس قید کی سزا سنا دی ہے۔ مجرم کے مطابق اس نے اس جرم کا ارتکاب وفاقی چانسلر میرکل کی مہاجر دوست پالیسیوں کے ردعمل میں کیا تھا۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق وفاقی جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی ایک عدالت نے کولون کی موجودہ میئر ہینریئٹے ریکر پر قاتلانہ حملہ کر کے انہیں شدید زخمی کرنے کے جرم میں پینتالیس سالہ فرانک ایس کو چودہ برس قید کی سزا سنائی ہے۔

جب یورپ میں قانونی رہائش کے لیے شادی بھی کام نہ آئے

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

گزشتہ برس اکتوبر میں خاتون سیاست دان ہینریئٹے ریکر پر حملہ اس وقت کیا گیا تھا جب وہ کولون کے میئر کے عہدے پر انتخاب کے لیے اپنی مہم چلا رہی تھیں۔ حملہ آور نے ان کی گردن پر چاقو سے وار کیا تھا۔ ریکر شدید زخمی ہو گئی تھیں تاہم اس حملے کے باجود ریکر میئر کا الیکشن جیت گئی تھیں۔

حملہ آور کی شناخت صرف فرانک ایس (Frank S.) کے نام سے کی گئی تھی اور اسے موقع واردات پر ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔ دائیں بازو کے انتہا پسند اور مہاجرین مخالف نظریات رکھنے والے فرانک نے فوراﹰ اقرار جرم بھی کر لیا تھا۔

خاتون جج باربرا ہاوَلیزا نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا، ’’ملزم پر اقدام قتل اور شدید جسمانی چوٹیں پہنچانے کا الزام ثابت ہو گیا ہے۔‘‘ استغاثہ نے ملزم کے لیے عمر قید کا مطالبہ کیا تھا۔ رواں برس اپریل میں مقدمے کی کارروائی کے آغاز پر ملزم فرانک نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ نوے کی دہائی میں جرمن شہر بون میں انتہائی دائیں بازو کا سرگرم رکن رہا تھا۔

فرانک نے خود کو ایک ’قدامت پسند اقدار رکھنے والا باغی‘ قرار دیتے ہوئے اس دعوے کی تردید کی تھی کہ وہ کوئی ’نیا نازی‘ ہے۔ اس نے استغاثہ کے اس موقف کو بھی رد کر دیا تھا کہ وہ ہینریئٹے ریکر کو قتل کرنا چاہتا تھا۔

Düsseldorf Prozess Attentat auf Kölner OB-Spitzenkandidatin Henriette Reker

اس حملے کے باجود ریکر میئر کا الیکشن جیت گئی تھیں۔

پھر مقدمے کی کارروائی کے دوران اس کا یہ بھی کہا تھا کہ ریکر پر حملہ اس نے چانسلر انگیلا میرکل کی بہت مہاجر دوست پالیسی اور ملک میں لاکھوں مہاجرین کو آنے کی اجازت دیے جانے کے رد عمل میں کیا تھا۔

گزشتہ برس میرکل کی جانب سے مہاجرین کے لیے ملکی سرحدیں کھول دینے کے اعلان کے بعد جرمن عوام نے بھی مہاجرین کو خوش آمدید کہا تھا اور اسی وجہ سے ہینریئٹے ریکر پر حملے نے جرمن عوام کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

تاہم ایک برس کے دوران گیارہ لاکھ سے زائد تارکین وطن کی جرمنی آمد اور سال نو کی تقریبات کے دوران کولون ہی میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے سینکڑوں واقعات کے بعد جرمن عوام میں مہاجرین سے متعلق ہمدردی اور گرمجوشی قدرے کم ہو چکی ہیں۔

ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

علی حیدر کو جرمنی سے ڈی پورٹ کیوں کیا گیا؟

ویڈیو دیکھیے 02:12
Now live
02:12 منٹ

Migrant Afghan family learns to deal with new challenges

DW.COM

Audios and videos on the topic