مہاجر بچوں کی ملک بدری: جج کا پائلٹ کو فون، جہاز واپس بلا لیا | حالات حاضرہ | DW | 30.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مہاجر بچوں کی ملک بدری: جج کا پائلٹ کو فون، جہاز واپس بلا لیا

آسٹریلیا میں سری لنکا کی تامل آبادی سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے دو شیر خوار بچوں سمیت ایک چار رکنی خاندان کی جبری ملک بدری کے خلاف ایک جج نے طیارے کے پائلٹ کو فون کر کے اس ہوائی جہاز کو دوران پرواز ہی واپس بلا لیا۔

انسانی حقوق کے آسٹریلوی کارکنوں کی طرف سے وزیر داخلہ پیٹر ڈتن پر سیاسی فیصلوں کے ذریعے انسانوں کے بالواسطہ قتل کا الزام لگایا جاتا ہے

انسانی حقوق کے آسٹریلوی کارکنوں کی طرف سے وزیر داخلہ پیٹر ڈتن پر سیاسی فیصلوں کے ذریعے انسانوں کے بالواسطہ قتل کا الزام لگایا جاتا ہے

آسٹریلیا کے شہر میلبورن سے جمعہ تیس اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ بہت ڈرامائی واقعہ جمعرات انتیس اگست کو رات گئے پیش آیا۔ آسٹریلوی حکومت نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ تامل نسل کے ایک سری لنکن خاندان کے چاروں افراد کو، جن میں دو آسٹریلیا ہی میں پیدا ہونے والے شیر خوار بچے بھی شامل تھے، میلبورن ہی میں تارکین وطن کے ایک حراستی مرکز سے نکال کر بذریعہ ہوائی جہاز ملک بدر کر کے واپس سری لنکا پہنچا دیا جائے۔

اس حکومتی فیصلے پر ملکی عوام، خاص کر تارکین وطن سے ہمدردی رکھنے والے حلقوں میں شدید غصہ پایا جاتا تھا۔ پھر سرکاری حکم پر عمل کرتے ہوئے حکام نے اس خاندان کے چاروں افراد کو ملک بدر کر بھی دیا اور انہیں لے کر جانے والا ہوائی جہاز فضا میں بلند بھی ہو چکا تھا۔

پھر میلبورن ہی کی ایک خاتون وفاقی جج کے ایک اقدام نے اس بہت متنازعہ معاملے کو مزید ڈرامائی رنگ دے دیا۔ جج ہیتھر رائلی نے رات گئے ایک فیصلہ کیا اور پھر خود ہوائی جہاز کے پائلٹ کو اس وقت فون کیا، جب یہ طیارہ پرواز میں تھا۔ اس وفاقی جج نے پائلٹ کو حکم دیا کہ وہ اپنے طیارے کو دوبارہ زمین پر اتارے اور سری لنکن تارکین وطن کے اس خاندان کو ملک کے شمالی شہر ڈارون میں حکام کے حوالے کر دے۔

اس واقعے میں جس تامل جوڑے اور اس کے بچوں کو جج نے ملک بدر کیے جانے سے کم از کم عارضی طور پر روک دیا، اس میں دو چھوٹی بچیاں بھی شامل ہیں۔ یہ تامل مرد اور عورت 2012ء اور 2013ء میں پناہ کی تلاش میں دو مختلف واقعات میں کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا پہنچے تھے۔ ان کی دونوں بیٹیوں کی عمریں چار اور دو سال ہیں اور وہ دونوں آسٹریلیا ہی میں پیدا ہوئی تھیں۔

یہ دونوں شیر خوار بچیاں آج تک کبھی سری لنکا نہیں گئیں لیکن انہیں آسٹریلیا میں پیدا ہونے کے باوجود آسٹریلوی شہریت کے حصول کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس بارے میں ملکی وزیر داخلہ پیٹر ڈٹن نے کہا تھا، ''یہ خاندان کوئی مہاجروں کا خاندان نہیں ہے اور اسی لیے اسے یہ استحقاق حاصل نہیں کہ آسٹریلوی حکومت اسے تحفط فراہم کرے۔‘‘

تارکین وطن کے اس خاندان کی ملک بدری کے حکومتی فیصلے اور پھر ایک وفاقی جج کی طرف سے اسے لے جانے والے ہوائی جہاز کو واپس بلائے جانے کا یہ واقعہ اس امر کی ایک تازہ مثال ہے کہ ملکی حکومت کی تارکین وطن کے خلاف انتہائی سخت گیر پالیسیاں کتنی متنازعہ ہیں۔ انہی پالیسیوں کی وجہ سے اقوام متحدہ تک بھی آسٹریلوی حکومت کے کئی فیصلوں کی شدید مذمت کر چکا ہے۔

م م / ع ح / اے ایف پی

DW.COM