مہاجرین کی ترکی ملک بدری کا معاہدہ غیر قانونی ہے، ایمنسٹی | مہاجرین کا بحران | DW | 13.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی ترکی ملک بدری کا معاہدہ غیر قانونی ہے، ایمنسٹی

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پناہ گزينوں کی ملک بدری کے حوالے سے یورپی یونین اور ترکی کے مابین مجوزہ معاہدہ اخلاقی اور قانونی طور پر غلط ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سکریٹری جنرل شلیل شیَٹی نے نیوز ایجنسی روئٹرز سے کی گئی اپنی ایک گفتگو میں حال ہی میں تارکین وطن کے بارے میں یورپی یونین اور ترکی کے مابین طے پانے والے عبوری معاہدے کو ’ناقص، غیر اخلاقی اور غیر قانونی‘ قرار دیا ہے۔

درجنوں پاکستانی تارکین وطن کی یونان سے ترکی ملک بدری

رضاکارانہ طور پر واپس جاؤ، بائیس سو یورو ملیں گے

اس مجوزہ معاہدے کے مطابق غیر قانونی طور پر ترکی سے یورپ پہنچنے والے تارکین وطن کو یورپ سے ملک بدر کر کے واپس ترکی بھیج دیا جائے گا۔ اس کے بدلے میں یونین، انقرہ کو مزید مالی امداد فراہم کرنے کے علاوہ ترک شہریوں کے لیے ویزے کی شرائط میں نرمی جیسی سہولیات فراہم کر سکتی ہے۔

یورپی یونین اور ترکی کے درمیان اس ہفتے ایک اور سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جس ميں اس معاہدے کے بارے ميں حتمی فيصلہ کيا جانا ہے۔

شیَٹی کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ دنوں میں یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک، فرانس کے وزیر داخلہ اور دیگر یورپی رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران وہ یورپی حکام کو اس معاہدے پر پائے جانے والے تحفظات کے بارے میں آگاہ کریں گے۔

Griechenland Abtransport der Flüchtlinge in Idomeni

معاہدے کے مطابق ترکی سے غیر قانونی طور پر یورپ آنے والے مہاجرین کو واپس ترکی بھیج دیا جائے گا

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سربراہ کا کہنا تھا، ’’وہ کہہ رہے ہیں کہ ترکی محفوظ ملک ہے اس لیے تارکین وطن کو ملک بدر کر کے ترکی بھیجنے سے یورپی یونین کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ لیکن یہ کیسے تصور کر لیا جا سکتا ہے کہ ترکی ان لوگوں کے لیے بھی محفوظ ہے؟‘‘

انقرہ حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈیل کے نتیجے میں یورپ میں پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند شامی مہاجرین کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی اور ان اقدامات کا مقصد اسمگلروں اور غیر قانونی تارکین وطن کی حوصلہ شکنی ہے۔

تاہم اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ليے کام کرنے والے دیگر اداروں کا کہنا ہے کہ سیاسی پناہ کی درخواستوں کا انفرادی جائزہ لیے بغیر بڑے پیمانے پر ملک بدرياں غیر قانونی ہوں گی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک کو بھی معقول تعداد میں پناہ کے متلاشی لاکھوں افراد ميں سے کئی کو اپنی سرزمین پر پناہ دینا چاہیے۔ علاوہ ازیں دیگر ممالک میں رہنے والے مہاجرین کو سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی مزید رقم مختص کرنا چاہیے۔

شیَٹی کا کہنا تھا کہ سمندر عبور کر کے یونان آنے والے ہر شامی مہاجر کو واپس ترکی بھیج کر ان کے بدلے ترکی میں مقیم شامی مہاجر کو پناہ دینے کا خیال ہی شرمناک ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ اقوام متحدہ کے ریفیوجی کنونشن سے براہ راست متصادم ہے۔ کنونش میں واضح درج ہے کہ جنگوں سے متاثر افراد کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کیا جائے۔‘‘

انہوں نے لاکھوں مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دینے پر انقرہ کی تعریف کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ترکی کو محفوظ تصور نہیں کیا جا سکتا۔

یونان میں پھنسے پاکستانی وطن واپسی کے لیے بیقرار

جرمنی میں اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ ملی؟

DW.COM

اشتہار