مہاجرین سے اُکتا کر فری وائی فائی بند کر دیا گیا | مہاجرین کا بحران | DW | 30.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین سے اُکتا کر فری وائی فائی بند کر دیا گیا

اٹلی کے شہر بولزانو کے ایک میوزیم نے تارکین وطن سے اُکتا کر مفت انٹرنیٹ کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عجائب گھر کی انتظامیہ کی مطابق یہ فیصلہ ’ناخوشگوار صورت حال‘ کے باعث کیا گیا ہے۔

جرمن خبررساں ادارے ڈی پی اے کی اٹلی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اطالوی شہر بولزانو کے ایک میوزیم نے مہاجرین سے تنگ آ کر مفت انٹرنیٹ کی سہولت ختم کر دی۔

اطالوی صوبے جنوبی ٹرولیا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بالزانو کے مذکورہ عجائب گھر کے حکام نے مفت وائی فائی بند کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ تارکین وطن کی بڑی تعداد اس سہولت کو استعمال کر نے لگی تھی۔

میوزیم کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں تارکین وطن روزانہ مفت وائی فائی استعمال کرنے کے لیے عجائب گھر کی عمارت میں جمع ہو جاتے تھے جس کی وجہ سے ’ناخوشگوار صورت حال‘ پیدا ہو رہی تھی۔

عجائب گھر کی ڈائریکٹر لیٹیزیا راگالیا نے جرمن خبررساں ادارے ڈی پی اے سے کی گئی اپنی ایک گفتگو اس فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’میں اپنے فیصلے پر قائم ہوں اور میری رائے میں یہ جائز اور درست فیصلہ ہے۔‘‘

اٹلی کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور مہاجرین کی مدد کرنے والی فلاحی تنظیموں کے علاوہ ملکی دانشوروں اور سیاست دانوں نے بھی نے انٹرنیٹ بند کرنے کے اس فیصلے پر عجائب گھر کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

تاہم دائیں بازو کی قدامت پرست اطالوی سیاسی جماعت ’ناردرن لیگ‘ نے اس معاملے پر میوزیم انتظامیہ کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس جماعت کو اٹلی کے شمالی حصوں میں عوامی مقبولیت بھی حاصل ہے۔

عجائب گھر کی ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ تارکین وطن نے فری وائی فائی کا استعمال رواں برس اپریل کے مہینے میں کرنا شروع کیا تھا اور اس وقت میوزیم کی انتظامیہ نے انہیں خوش آمدید کہا تھا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ صورت حال بتدریج قابو سے باہر ہوتی چلی گئی اور پناہ گزینوں نے زیادہ وقت میوزیم ہی میں گزارنا شروع کر دیا۔

راگالیا نے یہ بھی بتایا کہ مہاجرین نے میوزیم میں موجود بیت الخلاء بھی بکثرت استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ مزید برآں تارکین وطن اور میوزیم کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کے مابین تلخ کلامی کے واقعات بھی رونما ہونا شروع ہو گئے تھے۔

یورپ میں جاری تارکین وطن کے موجودہ بحران کے دوران یونان کے بعد سب سے زیادہ پناہ گزین بحیرہ روم عبور کر کے اٹلی پہنچے ہیں۔